9. sep. 2015

 مودی جی نے کی" من" کی جگہ ہر دل کی بات 
--------------------------------------------------------
عبدالسلام عاصم
---------------------

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ تنازعات ختم کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ در گزر سے کام لیا جائے۔اختلافات اور جھگڑوں کے نتیجے میں ہلاکتوں اور بربادیوں کے ساتھ بدترین قومی اور معاشرتی تقسیم سے گزرنے والی دنیا کے کم وبیش تمام ہی خطوں کے رہنمایان وقت نے ہر پُر آشوب عہد میں اس نسخہء کیمیا سے استفادہ کرنے کی تلقین کی ہے لیکن محدود انسانی مفادات نے کبھی اس جذبے سے بڑے پیمانے پر استفادہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔
جنم اشٹمی کے دن مسٹر مودی بودھ گیا میں تھے۔ وہاں انہوں نے ایک سے زیادہ ملکوں سے آئے مہمانوں کی ایک مخصوص نشست میں’’ من کی بات‘‘ سے زیادہ ہر اس آدمی کے’’ دل کی بات‘‘ کی جو دین اوردنیا دونوں راستوں سے بے خطر گزرنا چاہتا ہے۔مسٹر مودی نے بجا طور پر کہا ہے کہ مذہب سے انتہاپسندانہ تعلق رکھنے والے اپنے عقائد دوسروں پر مسلط کرنا چاہتے ہیں اور بالعموم یہی تسلط پسندانہ جذبہ ماحول کو بگاڑتا ہے اور تشدد کو راہ دیتا ہے۔
مسٹر مودی چونکہ عصری ہندستان کی قسمت طے کرنے والے حکومتی ذمہ اران کے سربراہ ہیں اس لئے اُن کی باتیں سُن کر خوشی کم اور حیرانی زیادہ ہوئی۔خوشی اُس وقت ہوتی جب وہ عام آدمی ہوتے ، حالات سے دُکھی ہوتے اور مذہبی انتہا پسندی کی نفی کرتے پھرتے۔ عام آدمی ویسے بھی اپنے دکھ میں دوسرے کی آنکھیں نم دیکھ کر کسی حد تک ڈھارس باندہ لیتا ہے لیکن مسٹر مودی توپوری طرح ایک با اختیار اور خاص آدمی ہیں ۔وہ چاہیں توبہ بانگ دہل اُس نصاب سیاست کو بدل سکتے ہیں جس میں اتحاد کا ہر سبق نفاق سے آلودہ ہے اوریک جہتی کا ہر باب علاحدگی پسندانہ تذکرے کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔اس صورتحال کو بدلنے کے لئے اگر اس ایک نسخے کو عمل کی راہ مل جائے تو منطر نامہ یکسر بدل سکتا ہے کہ: کسی دو کے بیچ کوئی تیسرا ہرگز کوئی جھگڑا کھڑا نہیں کرتا،لیکن کسی دو کے درمیان تنازعہ تیسرے کے لئے گنجائش ضرور نکال دیتا ہے۔
ہندستان جنت نشان میں ایسے معاشرتی سائنس دانوں کی کمی نہیں جو مسٹر مودی کو مذہبی انتہاپسندی مخالف محاذ پر انتظامی اور نفسیاتی رہنمائی کر سکتے ہیں۔وزیر اعظم چاہیں تو امن اور ہم آہنگی کے حق میں بودھ گیا اعلامیہ سے دو ٹوک عملی استفادہ کر سکتے ہیں بشرطیکہ اسے حکمراں محاذ اپنا حکومتی منشور بنا لے۔ملک کے موجودہ منظرنامے میں وہ ایک سے زیادہ قومی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کے متحمل ہیں۔وہ چاہیں تو بنتی بات بگڑنے کی دیرینہ سماجی روش کا پہیہ ایکدم سے اُلٹا گھما سکتے ہیں ۔بودھ گیا میں مسٹر مودی نے منتخب مہمانوں سے خطاب میں جب یہ کہا کہ ہندو ازم اور بودھ ازم کی کافی کچھ قدریں مشترک ہیں، اُس وقت ان کی بات سننے والوں کو ہر اندیشے کی دیوار میں امکان کے در کھلتے نظر آئے ہوں گے۔ہندستان کی کثرت میں وحدت والی پہچان اس موقع پر ’’بودھ ہندستان‘‘ کی شکل بالکل اسی طرح اختیار کر گئی تھی جس طرح دسہرہ، دیوالی، عید ، کرسمس اور گرونانک جینتی کے خوش رنگ اور پُر نورمواقع پورے ملک کی یک سے زیادہ پہچان میں سے کسی ایک کے حوالے سے سب کی خوشی کا سبب بنتے ہیں۔
اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ دنیا کے تمام اہم مذاہب کے پیشواوں نے ایک ایسے نظم کی وکالت کی ہے جس میں بُرائی پر( جو فطری انسانی کمزوری ہے) اچھائی حاوی رہے (جو انسانی خاصہ ہے)۔گوتم بدھ کی طرح بھگوان کرشن نے بھی یہی انقلاب برپا دیکھناچا ہا تھا اور اپنی اس خواہش کی تکمیل کی کوشش میں انہوں نے ہر وہ قدم اٹھائے جن کا انہوں نے خود کو متحمل پایالیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم اہل مذاہب ہر اچھی بات اور واقعے کو تذکرے کی محفل میں موضوع سخن بنادیتے ہیں اورآئندہ کے حوالوں کے لئے انہیں مجلد کتابوں کے اوراق میں جگہ دے دیتے ہیں۔ دوسری طرف اپنی عملی زندگی کوہم نے صرف اور صرف مذہبی رسوم کی ادا ئیگی تک محدود کر رکھا ہے ۔بدقسمتی سے یہ خسارہ ہندووں ، مسلمانوں، سکھوں اور بعض دوسرے مذاہب کا اتنا بڑا حصہ بن چکا ہے کہ اس سے فوری نجات کسی بھی آپریشن سے ممکن نظر نہیں آتا۔اس پس منظر میں بھی بہر حال مایوسی کی گود میں پناہ لینے کے بجائے احتساب سے کام لے کر حالات کو بدلنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔اگر اس سچ کے حوالے سے یاد داشت ا بھی برقرار ہے کہ مذہبی یگانگت کبھی اس ملک کی پہچان ہوا کرتی تھی تومسٹر مودی سمیت زندگی کے تمام شعبوں کے ذمہ داران پر لازم ہے کہ وہ اُس کی فوری احیا کی ضرورت شدت سے محسوس کریں۔
اس پہچان کو کسی اور نے نہیں مٹایا۔ اس کے ذمہ دار ہم سب ہیں۔ ہم نے اپنی غلطیوں کا اجتماعی ازالہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے کو مورد الزم ٹھرانے اور تھک جانے پر ایک جگہ مل بیٹھ کر برطانیہ کو کوسنے میں دہائیاں خراب کر دیں ۔نئی الفی میں جب تک ہوش آیا تب تک پتہ چلا کہ صرف دوا سے علاج کے حوالے سے کافی دیر ہو چکی ہے۔ آپریشن سے بیماری کا علاج تو ہوجاتا ہے لیکن وہ علاج زخموں کے ایسے نشان چھوڑ جاتا ہے کہ زندگی بھر کچوکے لگتے رہتے ہیں۔آج اگر ہندستان اور پاکستان دونوں ملکوں کے بعض علاقوں میں فوج کوبالترتیب باغیوں اور دہشت گردوں کا سامنا ہے تو یہ نوبت بنیادی طور پر مذہبی یگانگت کے فقدان کا ہی نتیجہ ہے۔ بصورت دیگر اس خطے میں بھی صبح کا جھگڑا شام تک اور رات کی ناراضگی صبح تک دور ہو جایا کرتی۔
مسٹر مودی نے بھی اس کمی کی طرف بالواسطہ اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالات کو بہتر رُخ پر بدلنے کے لئے وقت کا تقاضہ ہے کہ مختلف مذاہب کی مشترکہ اقدار سامنے لائی جائیں ۔اس کے لئے بلا شبہہ نقطہء نظر میں جس تبدیلی کی ضرورت ہے اُس کی تکمیل آسان نہیں۔1992 میں بابری مسجد کے انہدام کو اگر حکومت وقت روکنے میں کامیاب ہو گئی ہوتی تو رفتار زمانہ کی تیزی آئندہ دس برسوں کے اندر قومی سیاست کی ان کمزوریوں کو بھی دور کر دیتی جس کا منفی فائدہ اٹھانا آگے چل کر نام نہاد سیکولر اور مبینہ غیر سیکولر دونوں حلقوں کی سیاسی مجبوری بن گیا۔باوجودیکہ بااثر حلقوں کی طرف سے کوشش کی جائے تو اندیشوں کی دیوار میں وہ در کھل سکتے ہیں جس کا تصورکسی اور نے نہیں خود مسٹر مودی نے ابھی سنیچر کا جگایا ہے۔
ان کی مختصر لیکن جامع تقریر کا بظاہر موضوع تھا کہ تنازعات کیسے ختم کئے جائیں! مجھے یا د ہے کہ آئی وی ایل پروگرام کے تحت جب میں امریکہ گیا تھا اُس میں نیو یارک کی سپریم کورٹ کے ایک جج سے ملاقات کا یہی موضوع تھا۔ ہمارا ویزیٹر گروپ جب سپریم کورٹ پہنچا تو جج موصوف نے ہم سے موضوع دریافت کرنے کے ساتھ یہ بھی پوچھا کہ اس ملاقات کا وقفہ کتنا ہے۔مجھے یاد ہے کہ میں نے ہی پہل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ گیارہ بجے سے ایک بجے تک‘‘ ۔ اُن کا برجستہ جواب تھا کہ Two hours! who am I to abuse your ears so long, just go down and ask any ordinary American, how conflict ends! when you come back we will sit together and discuss it. جج کے ہدایت صورت مشورے پر ہم سب عدالت کی عمارت سے باہر نکل آئے ۔ میں جس فٹ پاتھ پر تھا اس پر میں نے کچھ فاصلے سے ایک لڑکی کو آتے ہوئے دیکھا جو اتفاق سے میری بڑی بیٹی سعدیہ سے بہت مشابہ تھی، فرق صرف یہ تھا اس کے بال سنہرے تھے۔مغربی ملکوں میں ایک ’’پریشانی‘‘ یہ درپیش رہی کہ لوگ سلام کرنے میں بے تحاشہ پہل کرتے ہیں۔ہم یہاں عملاً اس کے قطعی عادی نہیں ۔ ہمارے لئے یہ کتابی باتیں ہیں۔عملاً ہم رسموں کے تابع ہیں جو ہمیں اچھے کام محدود رکھنے کی عادی بنا چکی ہیں۔ بہر حال وہ لڑکی جب چلتے ہوئے مجھ سے ہم کلام ہونے کی حد تک قریب آئی تو میری مصنوئی کوشش کے کامیاب ہونے سے پہلے اس نے مجھے سلام کیا۔ میں نے اس کے سلام کا جواب دینے کے دوران ہی یہ سوچا کہ جس سوال کے لئے باہر نکلا ہوں وہ سوال اسی بچی سے ہی کیوں نہ کر لیا جائے۔مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میرا یہ فیصلہ مجھے تادیر چونکنے پر مجبور کر دے گا۔
میں نے جیسے ہی اسے بتا یا کہ I am an Indian member of IVLP and we have been advised by a SC Judge to ask anyone of you to let us know how the fight ends. اُس لڑکی نے اپنے جس جواب کے ساتھ میرے سفر کو منزل آشنا کیا وہ کچھ یوں تھا: ’’فرض کر لیجئے آپ مسٹر A ہیں اور آپ کا مسٹر B سے کوئی جھگڑا چل رہا ہے۔آپ اس جھگڑے کو ختم دیکھنا چاہتے ہیں لیکن آپ کو اپنے طریقے سے کامیابی نہیں مل رہی ہے ۔ ایسے میںآپ سب سے پہلے ایسا کریں کہ پندرہ منٹ کے لئے گوشہ نشین ہوکر پورے جھگڑے پر غور کریں۔ گھڑی میں الارم لگا لیں ۔الارم جیسے ہی بجے ایک جھٹکے سے غور کرنا بند کردیں اور صرف یہ دیکھیں کہ آپ کو اپنی کتنی غلطی نظر آئی۔ممکن ہے یہ مرحلہ ہی آگے کی منزل آسان کر دے لیکن اس مرحلے پر اگر آپ کو صرف مسٹرBکی ہی غلطیاں نظر آئیں، اپنی بالکل نہیں تو اس گوشہ نشیں حالت میں ہی اس بات کا اعتراف کر لیں کہ آپ غور و فکر کے محاذ پر ایماندار نہیں۔ا ب آپ اس معاملے میں اپنے طور پر غور کرنا بند کردیں اور کسی مسٹرCسے رجوع کریں اور ان کو تنازعے کی نوعیت بتاتے ہوئے ان پر یہ بھی واضح کردیں کہ آپ اپنے طور اس پر غور کر چکے ہیں جس میں آپ کوسارا قصور مسٹرB کا ہی نظر آرہا ہے۔اب اس جھگڑے میں مسٹرC آپ سے اور مسٹرB سے تفاصیل سننے کے بعد چھان پھٹک سے کام لے کر ایک نتیجے پر پہنچیں گے وہ نتیجہ اتفاق سے مسٹرBکو زیادہ پسند آئے گا۔آپ اس نتیجے(فیصلے) سے یہ سوچ کر اتفاق کر لیں کہ اس طرح ایک دیرینہ جھگڑا ختم ہو رہا ہے ۔اس لڑکی نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ کہہ کر مجھے کچھ دیر کے لئے ساکت و جامد کردیا کہ ہمیشہ دو کا جھگڑا تیسرے کی مثبت یا منفی گنجائش پیدا کرتا ہے ۔

Engin ummæli:

Skrifa ummæli