21. ágú. 2017

قومی سیاست میں آنیوالی تبدیلی کے پنہاں عمل
 
عبدالسلام عاصم
بچپن میں ہم چلڈرن پارک میں جھولا جھولنے جاتے تھے۔ اس وقت آبادی اتنی زیادہ نہیں تھی پھر بھی  جھولوں پر جھولنے والے بچوں کی تعداد ہمیشہ جھولوں سے زیادہ ہوتی تھی۔ بچے کئی طرح کے ہوتے تھے۔ کچھ دبنگ، کچھ دبنگوں کے ساتھی اور باقی بچے موقع ملنے کا انتظار کرنے یا مظلوم صورت بنا کر تماشہ دیکھنے والے ہوتے تھے۔ یہ منظرنامہ بچپن میں بس پالینے کی خوشی اور نہ پانے کے افسوس تک آنکھوں کا حصہ رہا۔ دل اور دماغ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ 
اس معاملے کو دل پر لینے اور ذہنی سطح پر سمجھنے کا موقع تب ملا جب ہم اپنے بچوں کو چلڈرن پارک لے جانے لگے۔ پورے منظر نامے پر بالغ نظروں سےغور کرنے پر پتہ چلا کہ جب دبنگ بچے جھولا  جھولتے ہیں تو اپنی باری کا انتظار کرنے والے بچوں کا ایک حلقہ اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ جھولنے والے کو جھولا چھوڑنے مجبور کیا جائے۔ اس میں کبھی وہ ہاتھا پائی کے بغیر کامیاب ہو جاتے تھے تو کبھی ساحر کے اس خیال کو ’’اپنا حق بے رحم زمانے سے چھین پاو تو کوئی بات بنے۔۔۔‘‘ عملی جامہ پہنا نے کے لئے لڑ پڑتے تھے۔ یہ شرارتیں عام طور پر جھگڑے اور تکرار کے باوجود معصومیت کے دائرے میں ہوتی تھیں اس لئے ’’اکثر‘‘ کھیل ختم ہونے کے ساتھ  موڈ بھی ٹھیک ہو جاتا تھا۔ یہاں میں نے لفظ اکثر کو قوسین میں اس لئے لکھا ہے کہ والدین کی شفقت سے محروم اور ان کی بے ہنگم ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ سے گھر سے نفرت اور غلط صحبت سے رغبت رکھنے والے بچے ان جھگڑوں کو بھی خون سے رنگنے کی راہ پر چل پڑتے تھے۔ 

اس ضروری لیکن کسی قدر لمبی تمہید کو ذہن میں رکھ کر موجودہ قومی سیاست کے کھیل کا جائزہ لیا جائے تو بہت کچھ بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ بچوں کے کھیل کے حوالے سے جو باتیں کی گئی ہیں ان میں ایک نفسیات کا عنصر بھی پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جھولے پر سے کسی دبنگ کو اتارنے کی جان توڑ کوشش کرنے والا دوسرا دبنگ جھولے پر قبضہ جمانے سے قبل اپنی ذہنی رفتار اس قدر تیز کر چکا ہوتا ہے کہ میدان عمل میں اترتے ہی ایکدم سے کلائمیکس کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ 
کانگریس اور دوسری سیکولر پارٹیوں نے سیکولرزم کو اپنے محدود مفادات کے لئے جہاں ستر برس میں بھنا کر ختم کردیا، وہیں بی جے پی اینڈ کمپنی شدت پسندانہ نظریاتی سیاست کو ایکدم سے کیش کرنے پر اتر آئی ہیں۔ سیاست میں خوف اور نفرت کی سیاست کوئی نئی بُری چیز نہیں لیکن اس کی موجودہ یکطرفگی کی تاب دنیا میں آج تک کوئی بھی قوم نہیں لا سکی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مفروضات کی بنیاد پر انتقام پسندانہ سیاست نے کبھی کسی قوم کو سربلندی عطا نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ اشتہاری میڈیا کے قائم کردہ تاثر کے برعکس عوام امن اور ترقی کی خالی خولی باتوں سے اوبنے لگے ہیں۔ انہیں رات دن ٹی وی پر اندیشوں سے بھرے مذاکرات سے نفرت سی ہونے لگی ہے۔

ایسے میں اگر یہ کہا جائے کہ ۲۰۱۹ کے الیکشن کے نتائج ۲۰۰۴ کے انتخابی نتائج کو دوہرا سکتے ہیں تو ’’بہت حد تک‘‘ اس سوچ کی نوعیت ہوائی بات جیسی ضرور ہوگی لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کبھی کبھی ’’کسی حد تک‘‘ کی امید بھی بر آتی ہے۔ یہ تجزیہ بہر حال موافقانہ یا مخالفانہ نہیں بلکہ موجودہ حکومت کے عزائم کے اس سفرکا محاکمہ ہے جس میں اس کی ساری توجہ تیز رفتاری پر ہے، راستہ ہموار کرنے پر نہیں جبکہ ناہموار راستے پر دوسروں کو پچھاڑنے کے لئے سرپٹ بھاگنے سے وہ منزل کبھی نہیں ملتی جس کی آرزو سیاسی پارٹیوں کے دل سے زیادہ ذہن میں ہوتی ہے۔
 
ماضی بعید میں جہاں سیاسی حکمرانی کے منزل رُخی سفر میں راستہ ہموار کرنے کو اولیت دی گئی تھی وہیں مرحلہ وار خرابیاں در آنے کے بعد ۱۹۷۵ کے ایمرجنسی لگانے کے انتہائی آمرانہ اقدام نے آگے چل کر کسی کو بھی سنبھلنے نہیں دیا۔ ۱۹۷۷ کے بعد تو اس بے سمتی میں اور تیزی آئی۔ نوبت قتل و غارتگری تک پہنچی لیکن ہوش کے ناخن کسی نے نہیں لئے۔ میڈیا کا جو بے جااستحصال آج ہمارے سامنے ہے وہ بھی ایکدم سے برپا ہونے والا کوئی بوالعجب واقعہ نہیں۔ اس کی بنیاد بھی ماضی میں ہی رکھ دی گئی تھی۔  ثبوت کے لئے لائبریریاں کھنگالنے کی ضرورت نہیں گوگل کا بٹن دبا کر سب کچھ  دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہاں! میڈیا کا استحصال ہواتھا لیکن اس طرح نہیں۔ دراصل ہمارا ایک معاشرتی المیہ یہ بھی ہے کہ جو منفی تبدیلی ہمیں راس آتی ہے ہم اس کے خلاف کبھی نہیں بولتے۔ سر دست بھی یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا، فیس بک، ٹوئیٹروغیرہ سبھی اسی طرح آلودہ ہیں جس طرح کل کی محدود میڈیا ’’محدود‘‘ پیمانے پر سہی لیکن آلودہ رہی۔ یہاں لفظ ’’محدود‘‘ کا استعمال میں نے اس لئے کیا ہے تاکہ جذباتی قاری کو باتیں یکطرفہ نہ لگیں۔ بہر حال سچ تو یہ ہے  کہ جن برائیوں میں ہم اضافہ دیکھتے ہیں وہ اضافہ ’’برائی‘‘ کا نہیں اس کی ’’بروقت خبرنگاری‘‘ کا ہے۔ فی الحقیقت سائنسی ترقی نے ہمیں عام تاثر کے برعکس صرف گمراہ ہی نہیں کیا بلکہ کئی سیدھے راستوں میں پوشیدہ ٹیڑھے پن کو بے نقاب بھی کیا ہے۔

ان جملہ ہائے معترضہ سے قطع نظر دیکھا جائے تو موجودہ حکومت بظاہر اٹل بہاری واجپئی حکومت ہی کی طرح ’’احساس خیر‘‘ اور ’’درخشاں ہندستان‘‘ کے خواب اپنی حکمرانی جاری رکھنے کے لئے کیش کرنا چاہتی ہے۔ 

بدعنوانیوں کے الزامات سے موجودہ حکومت کا دامن بھی پاک نہیں جس کے مختلف پیمانے ہیں ۔نچلی سطح سے لے کر حکومتی سطح تک اس بد عنوانی کی جڑیں مبینہ طور پر پھیل چکی ہیں۔ ایسے میں لال قلعہ کی فصیل سے اس بار بھی وزیر اعظم نے کسی خود احتسابی سے کام لینے کے بجائے بالواسطہ انتخابی تقریر تک ہی اپنی باتیں محدود رکھیں۔ لگاتار تیسری بار ایک ہی مقام سے امن و سکون کی مسلسل اپیل عملاً  اس بات کا اعترف ہے کہ ملک کا ہر طبقہ خود کو مامون و محفوظ تصور نہیں کرتا۔ (یہی بات سابق نائب صدر نے کیا کہہ دی کہ طوفان اٹھ گیا اور بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ جو مقصد تھا وہی  فوت ہو گیا۔ دراصل اس کا فوت ہونا بھی ایک مقصد تھا۔ رہ گئی محترم انصاری کے بارے میں یہ کہنے کی  کہ اب باقی زندگی وہ جس ملت کے ساتھ گزاریں گے اسی کی بات کریں گے، تو یہ بھی سرے سے غلط نہیں)۔ 
موجودہ منظرنامے میں حکومت کے تمام تر دعووں کے باوجود ملک و قوم کی حالت میں کوئی سدھار نظر نہیں آتا۔ سال بہ سال حکومت سابقہ انتظامیہ کی ناقص کارکردگیوں کو ہی نشانہ بنا کر آگے بڑھ رہی ہے۔ اس طرح قوم کو بعض پرانے تکمیل طلب وعدوں کے جگہ نئے وعدوں اور نعروں کا سامنا ہے۔ ان کا سامنا کرنے والوں کی اکثریت جہاں خاموش ہے وہیں اس کے پرشور مشتہرین نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ انتخابی موڑ پر یہ شور میڈیا کے تعاون سے ایک سماں ضرور باندھ سکتا ہے لیکن اس کے بدستور قائم رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ ۲۰۱۹ کا انتخابی منظر نامہ اس لحاظ سے مختلف ہوگا کہ اس سے پہلے کسی حکمراں حلقے نے عملاً ’’اپوزیشن مکت‘‘ سیاست کا سہارا نہیں لیا تھا۔ اس کی ایک دو مثالیں بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ جمہوریت میں لیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تو کافی ہے، پشتے پر مینار کھڑا کرکے نا آسودگی کے خلاف عوامی نا راضگی کےسیلاب کو نہیں روکا جا سکتا۔ جس نتیش ایپی سوڈ پر بغلیں بجائی جارہی ہیں اُن کی پارٹی کے عملاً منقسم ہو جانے کے بعد کی سیاسی سرگرمیوں کو بین السطور پڑھا جائے تو قومی سیاست میں آئندہ ڈیڑھ برسوں میں آنے والی تبدیلی کے پنہاں عمل کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔

13. ágú. 2016

محاسبہ سائنسی خطوط پر کیا جائے نظریاتی بنیاد پر نہیں

عبدالسلام عاصم

اخباری قارئین کو یاد ہوگا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے اپنے اولین خطاب میں آزاد ہندستان کی قومی تاریخ میں پہلی مرتبہ قوم سے فرقہ وارانہ اور ذات پرستانہ تشدد کے محاذ پر دس برسوں کی مہلت مانگی تھی۔قوم کا ردعمل پچھلے دو برسوں میں کیا رہا یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ہندومسلم فساد اور ذات پات کی لڑائی تو درکنار اب تو جانور اور انسان کے نام پر بھی تشدد ہی تشدد کا دور دورہ ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ عدم تشدد کے دس سال کی مہلت مانگنے والے مسٹر مودی پچھلے دنوں گؤ رکشکوں سے یہ اپیل کرنے پر اتر آئے کہ اگرمارنا ہی ہے تو اُنہیں نشانہ بنایا جائے۔
مسائل اور بھی ہیں جن کی نوعیت اور موجودگی میں آزاد ہندستان کے 69 برسوں کا سفر خاطر خواہ طور پر اطمینان بخش نظر نہیں آتا۔ ان میں ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے روزگار کی شدید قلت،بارش کے رحم و کرم پر زندہ رہنے پر مجبور کسانوں کی خودکشی کے مسلسل پیش آنے والے واقعات،خواتین کے خلاف سماجی جرائم کی دل ہلادینے والی وارداتیں اوراخلاقی چوکیداری کی آڑ میں تہذیبی غارت گری سمیت اور بھی پریشانیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی قومی کوشش اور حالات کی سنگینی میں اب تک وہ میل پیدا نہیں ہو سکی ہے جو ایک بہتر اور خوشحال سماج کی تشکیل کو یقینی بنانے کے لئے ناگزیر ہے۔
ان دنوں جموں کشمیر کا محاذ بھی گرم ہے جہاں حالات بدستور مکدر ہیں ۔آئیے اس ایک موضوع پر ہی غورکرتے ہیں ۔ منظر نامہ یہ ہے کہ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں لگاتارپانچویں ہفتے نماز جمعہ ادا نہیں کی جا سکی۔کرفیو اور دیگر سخت پابندیوں کے ساتھ موبائل سروس میں خلل کا وقفے وقفے سے سلسلہ جاری ہے جو کسی صورت حالات میں بہتری کی مستحکم پیش رفت کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔ایسے میں پارلیمنٹ کے برشگالی اجلاس کے آخری دن آل پارٹی میٹنگ میں وزیر اعظم نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ وزارت خارجہ کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے جو لوگ دنیا کے مختلف ملکوں میں رہتے ہیں اُن سے رابطہ کیا جائے اور ان سے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی خستہ حالی کی بابت جانکاری حاصل کر کے اقوام عالم کو اس سے آگاہ کیا جائے۔
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بھی آزادی کی تحریک اپنا وجود رکھتی ہے لیکن جموں کشمیر کی زبوں حالی کے دفاع میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی خستہ حالی کی مثال دے کر ہم وہ مقصدحاصل نہیں کر سکتے جو ہماری سیکولر سوچ کا حصہ ہے۔پاکستان تو آج بھی کشمیر کو دو قومی نظریئے کے فریم میں فٹ دیکھنا چاہتا ہے جبکہ ہندستان اس نظریئے کو رد کرتا ہے اور ماضی قریب کی ایک ہند پاک جنگ مذہب اور قومیت کے حوالے سے ہندستانی سوچ کی تصدیق بھی کر چکی ہے ۔ اس حقیقت کا عملی مشاہدہ کرنے کے باوجود اگرہمارے رہنما یان جموں کشمیر سے مربوط خارجی منظر نامے پر تضیع اوقات والی بحث میں الجھے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں تو ان کی یہ سوچ بے حسی کی ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جسے دیکھ کر اچھے سے اچھے امید پسند کی بھی ہمت جواب دے دے۔
جموں کشمیر کا کسی بھی طرح پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ہند یونین کے اندرکشمیر جہاں داخلی خود مختاری کے دیرینہ مطالبے اورمحدود علاحدگی پسندانہ رجحانات کی سیاست کی وجہ سے معاشرتی اور اقتصادی طور پر عدم استحکام سے دوچارہے وہیں اُس پار کی صورتحال بالکل بر عکس ہے ۔ نام نہاد ’’آزاد کشمیر ‘‘ پاکستان کا غلام خطہ ہے۔اس کی تصدیق کے لئے کنٹرول لائن پار کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ آن لائن میڈیا کے عہد میں اب ایک طرف جہاں افترا پردازی کی کوششیں اگلے ہی لمحے بے نقاب ہو جاتی ہیں وہیں دنیا کے کسی بھی خطے کی حالت پر اب کسی قسم کا آہنی پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔البتہ جموں کشمیر کے حالات اگر آج بھی متاثر چلے آرہے ہیں تو اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے معاملات کو التوا میں ڈالنے کی عادت ڈال لی ہے۔ نتیجے میں کشمیر کو جوڑنے اور توڑنے کی بالترتیب ہندستانی اور پاکستانی کوششوں کے ٹکراو میں تھکان کا وقفہ ہی اس جنت ارضی میں امن کا عارضی وقفہ بن کر رہ گیا ہے ۔ اس وقفے میں بھی خوف زیادہ ہوتا ہے اور چین کم۔سری نگر اور آس پاس کی مقامی آبادیاں تو جیسے اس صورتحال کی عادی ہو گئی ہیں لیکن خطے کے لوگ آج بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ایک دن شعور کا سورج دونوں طرف کے سیاسی ذہنوں کو یکساں طور پر منور کرتا ہو اطلوع ہوگا۔ ایسے امید پرستوں پر اُس وقت فطری طور پر مایوسی چھا جاتی ہے جب مبارزت پر مکالمت کو ترجیح دینے کے مرحلے میں بھی دونوں طرف سے بے ہنگم قدم ہی اٹھائے جانے لگتے ہیں۔
کشمیر میں تشدد کا تازہ سلسلہ اندیشے سے زیادہ دراز ہوجانے ،اقوام عالم کی توجہ میں مکالماتی حد تک شدت آجانے اور پاکستان کی طرف سے اسے بنیادی ہند پاک تنازعہ کے طور پر دنیا سے منوانے کی دیرینہ مہم میں جان ڈالنے کی کوشش کے درمیان وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے گزشتہ ہفتہ پارلیمنٹ میں جہاں یہ بیان دے دیا کہ ہندستان صرف پاک مقبوضہ کشمیر پر پاکستان سے بات کرنا چاہتا ہے اور جموں و کشمیر پرپاکستان سے مذاکرات کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔وہیں ایک روز کے وقفے سے امور خارجہ کے پاکستانی مشیر سرتاج عزیز نے بھی یہ کہہ کر جوابی اننگ کھیلنے کی خانہ پُری کر دی کہ پاکستان کشمیر پر مذاکرات کے لئے ہندستان کو مدعو کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔دونوں ممالک ایک دوسرے کی طرف رُخ کر کے جب اس لہجے میں بالواسطہ اظہار خیال کرنے لگتے ہیں تو باشعور لوگ، خاص طور پر جموں کشمیر کے حوالے سے ہند پاک اختلافات ، معاملات اور مذاکرات سے متعلق اخباری دستاویزات سے گزرنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ تھکان اتارنے کا وقت آگیا اور سرحدی خطہ پھر ایک ایسے وقفے کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں متعلقین جہاں اپنی تھکان اتاریں گے وہیں عام زندگی بظاہرمعمول پر نظر آنے لگے گی ۔ بہ الفاظ دیگر مقامی آبادی کو مستقبل میں ایک آزمائش سے گزرنے تک اتنی فرصت مل جائے گی کہ وہ کچھ یومیہ زندگی کے معاملات بھی کر لیں۔
بیسویں اور اکیسویں صدی کی سات دہائیوں پر محیط یہ منظر نامہ اس قدر ٹھہرا ہوا ہے کہ کسی بھی منظر کے پس منظر کو سمجھنے کے لئے کسی فلیش بیک میں جانے کی ضرورت نہیں ۔ ایک سے زیادہ نسلیں اس کی مار جھیلتی آرہی ہیں۔ یہ سلسلہ کہاں جاکر رُکے گا یہ کہنا آسان نہیں لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ محدودد مفادات والے گروہوں میں بٹی دنیا میں عالمگیریت کا انحصار پسند انقلاب آجانے کے بعد بھی اگر بر صغیر کے ان دونوں ملکوں کی ترجیحات نہیں بدلیں تویہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے کہ ہند وپاک ہی نہیں پورے جنوبی ایشیا کے لئے آئندہ بھی تکلیف دہ آزمائشوں کے ہی دن دراز ہونے جارہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نزاع علاقائی تعاون کی راہ میں مسلسل ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے جس کی قیمت سارک کو بھی چکانا پڑ رہا ہے۔ ایسا نہیں اس مسئلے کا کوئی اختراعی یا غیر روایتی حل موجود نہیں ہے۔ماضی میں ایسے حل سے نہ صرف رجوع کیا گیا ہے بلکہ قریب پہنچنے میں دونوں ہی ممالک کی اعلیٰ قیادتیں کسی حد تک کامیاب بھی رہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ بڑھتے ہوئے وسائل کا رُخ ایسے کسی حل کی طرف موڑنے کے بجائے اُ نہیں در اندازی، دہشت گردی اورخار دار حصار بندی تک محدود کر دیا گیا ہے۔آزادی کی 69 ویں سالگرہ کے موقع پر حکمراں اورحکومت کے منتظر اپوزیشن والے اس محاذ پر پر کچھ بھی سوچیں ترقی پسند سوچ کا تقاضہ یہی ہے کہ فکری محاسبے سے کام اب سائنسی خطوط پر لیا جائے نظریاتی بنیاد پر نہیں ۔

11. júl. 2016

ذاکر تنازعہ: عصری منظر نامے کو میڈیا کی نظروں سے نہ دیکھا جائے

عبد السلام عاصم

------------------------------------------------------------------------------------------------------
مسلمان اسلام کی پیروی کے لئے عطیع اللہ اور عطیع الرسول کے پابند ہیں ڈاکٹر ذاکر نائک کے نہیں ۔اس لئے نظریاتی انتہاپسندی اور مسلح دہشت گردی سے متاثر موجودہ ماحول میں ایسے کسی کردار کے حوالے سے مسلمانوں کے بارے میں کوئی رائے قائم کر لینا حالات سے نمٹنے میں معاون ہونے کے بجائے صورتحال کو اور ابتر بنا سکتا ہے۔ ذمہ دار حلقوں پر لازم ہے کہ عصری منظر نامے کو’’شور پسند‘‘ اور ’’ناعاقبت اندیش‘‘ میڈیا کی نظروں سے دیکھنے کے بجائے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے غیر میڈیا سیوی لیکن اہم نمائندوں سے رابطہ قائم کر کے اُن رجحانات کا جائزہ لیا جائے جو بلا شبہ تشویشناک ہیں اور ماضی کے بر عکس اب کچھ زیادہ ہی تیزی سے واقعات میں بدل رہے ہیں۔
میڈیا میں بے ہنگم واویلا کے برعکس جہاں تک ڈاکٹر نائک کا تعلق ہے تو ان سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور اتفاق بھی ۔ اتفاق یہ کہ وہ بلاہ شبہہ سامعین کو متاثر کرنے والے حوالہ جاتی مقرر ہیں ۔اختلاف یہ کہ وہ اپنی بات کو عین اسلام بتانے کی کوشش میں بعض اوقات فرشتگی کی حد پار کر جاتے ہیں۔اُس وقت انہیں غالباً ایسا لگتا ہے جیسے سامع سے معاملہ کرنے میں اُن سے کوئی غلطی سرزد ہو ہی نہیں رہی ہے۔جبکہ غلطی کا سرزد نہ ہونا صرف فرشتوں سے ممکن ہے انسانوں سے ہر گز نہیں۔ ویسے بھی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مقرر سے سب سے بڑی غلطی اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے سامع کو پڑھے اور سمجھے بغیر اپنی ساری بات اُس کے کانوں میں انڈیل دیتا ہے۔ باتیں نہ صرف سرسری،پرُلطف، اہم اورسبق آموزہوتی ہیں بلکہ ’’حساس‘‘ اور ’’ مخدوش ‘‘بھی ہوتی ہیں۔ اس لئے ایک مقرر بالخصوص مذہبی مبلغ کے لئے یہ جاننا بے حد ضروری ہونا چاہئے کہ اُس کی کسی بات کا اُلٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔
بدقسمتی یا اتفاق سے ذاکر نائک کے یہاں اس فہم کا فقدان پا یا جاتا ہے۔اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی بات کو منوانے میں معقولیت سے زیادہ اُس ضد کی سیڑھی طے کرنے لگتے ہیں جس کی بلندی سے انہیں ہر مخاطب اپنے سے چھوٹا نظر آنے لگتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اسلام کی ایک مخصوص فکر کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن میرے نزدیک یہ کوئی عیب نہیں ۔اس لئے کہ اسلام سمیت دنیا کا کوئی بھی مذہب، ازم یا فلسفہ یک فکری نہیں۔بس ایک بنیادی میلان ان کے ماننے والوں کو جوڑے رکھتی ہے۔یہ جوڑ اس وقت ٹوٹتا ہے جب اختلاف سے اتفاق کے بجائے اختلاف کیا جانے لگتا ہے اور دوسروں کو اپنے موقف سے اتفاق پر مجبور کرنے کی کوشش شروع کر دی جاتی ہے۔ مناظرہ کلچر بہت حد تک اسی کی پہچان ہے جس میں سارا زور قائل کرنے سے زیادہ مد مقابل کو’’لاجواب‘‘ کرنے پر صرف کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر نائک کا انداز تخاطب دیگر افکار کے تعلق سے کس قدر استہزائی ہوتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔جن افکار و مسالک کو وہ زد پر لیتے ہیں ۔ان کے ماننے والوں پر کیا گزرتی ہے ، اس کا [میڈیکل] سائنس داں ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی سائنسی ادراک نہیں کیا۔البتہ ان کی باتوں سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمام مسالک اسلامیہ میں بھی بس ان کا مسلک ہی ’’حق‘‘ ہے ۔سوشل میڈیا پر اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ایک ہم مشرب نے کچھ اس طرح اپنے احساسات پوسٹ کئے ہیں کہ حالات کے موجودہ آزمائشی موڑ پر اگر ڈاکٹر نائک کے اندر کوئی تبدیلی نظر آئی ہے تو وہ یہ ہے کہ آج وہ اپنی معصومیت کے لئے انہی حلقوں کو گواہ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جو ابھی کل تک ان کی تضحیک کے نشانے پر تھے۔
بہر حال یہ وقت غبار نکالنے کا نہیں بلکہ یہ بتانے کا ہے کہ جو لوگ ملت کے ’’قائد ‘‘ ہونے کے دعویدار ہیں وہ ہر قدم ناپ تول کر’’ٹھیک‘‘ اٹھائیں اور جو ’’ناظمین‘‘ ملت ہونے کے دعویدار ہیں وہ ان تما م چیزوں کو ’’ٹھیک‘‘ کریں جو جانے انجانے میں بکھری پڑی ہیں۔ذاکر نائک کسی طور کھلنائک نہیں لیکن میڈیا میں جس طرح انہیں پیش کیا جارہا ہے اس میں ان کا نادانستہ اشتراک ضرور شامل ہے۔ ڈاکٹر نائک کا اگرآج یوگی ادیتیہ ناتھ، سادھوی پراچی اور ایسے دوسرے ناموں سے موازنہ کیا جارہا ہے تویہ افسوسناک ہی نہیں تشویشناک بھی ہے کیونکہ [خدا نہ کرے]اس کی قیمت چکانے کی نوبت آئی توکسی ایک مبلغ کو نہیں پوری ملت کو چکانی ہوگی۔
کسی مبلغ کو اپنی تبلیغ کے مثبت اور منفی اثرات کے تعلق سے کتنا بالغ نظر ہو نا چاہئے ؟ اس کی ایک مثال یوں دی جاسکتی ہے : چار جوان بیٹوں کاایک باپ کسی اسلم نامی شخص سے جھڑپ میں معمولی لیکن نمایاں چوٹ کے ساتھ اپنے گھر لوٹتا ہے ۔ گھر میں موجود بیٹے جب اُس سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا تو وہ ممکنہ ردعمل کی پروا کئے بغیر بے کم و کاست جھگڑے کی تفصیل بتا دیتا ہے ۔ بڑا بیٹا کہتا ہے کہ ’’ اختلاف اپنی جگہ لیکن اسلم انکل کو آپ پر ہاتھ نہیں اٹھا نا چاہئے تھا‘‘، دوسرا بیٹا پولس میں رپورٹ لکھوانے پر زور دیتا ہے۔ تیسربیٹا باپ کی حالت دیکھ کر نم دیدہ ہوجاتاہے اور چوتھا واقعہ سُننے کے بعد گھر سے باہر نکل جاتا ہے۔ آدھے گھنٹے کے بعد پولس دروازے پر دستک دیتی ہے۔ دروازہ کھلتا ہے تو پولس سے یہ خبر ملتی ہے کہ چوتھے بیٹے کے ہاتھوں اسلم کا قتل ہو گیا۔اس چھوٹی سی فرضی کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ’’بولنے والے کو بولنے سے پہلے یہ معلوم کر لینا چاہئے کہ سُننے والوں میں سے کون کس طرح اور کس حد تک متاثر ہو سکتا ہے‘‘۔
مذہبی رہنماوں کے غیر دور اندیشانہ طرز عمل سے شکایت کا ہر عہد گواہ ہے۔ علامہ اقبال نے بھی یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ ’’جنگ وجدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے‘‘ ۔ اگر علامہ آج بقید حیات ہوتے تو شاید وہ بھی اپنے اس منظوم جملے کی وجہ سے اُس تشدد کی زد میں آ جاتے جس کی زد میں آج دوسرے قلمکار آرہے ہیں۔ مذہب اور برداشت کو ایک دوسرے کی ضد بنانے کا کام کسی نے بھی باقاعدہ کسی اعلان کے ساتھ نہیں کیا لیکن طریق عمل وہ اختیار کیا گیا کہ ایک اچھا معاشرہ ’’خواب‘‘ بن کر رہ گیا اور اچھی باتوں کا’’ورد ‘‘حقیقت بن گیا۔سیاق و سباق سے ہٹ کر’’یہود و نصارا کو دوست نہ بناو ‘‘کی رات دن کی رٹ نے آج ملت کو جس آزمائش میں مبتلا کر رکھا ہے وہ ہر گز مصلحت خداوندی نہیں بلکہ اپنے اعمال کی سزا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ میڈیا سیوی ملی رہنمایان اس کا ادراک کرنے کے بجائے اسے آزمائش کانام دے کر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے یہ دنیا بس ایک آزمائش گاہ ہے۔الاماں الحذر۔
وقت آگیا کہ ملت کا بیدار حلقہ اس طرح کا استدلال کرنے والوں کے جھانسے میں آنے کے بجائے خود احتسابی سے کام لے اور ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است‘‘ میں پوشیدہ اس مفہوم سے بھی استفادہ کرے کہ ’’بزرگ اپنی کسی کمزوری کی بنا پر اگر کوئی غلطی کر گئے ہیں تو محض بزرگوں کے احترام میں اس کی تقلید نہ کی جائے ‘‘۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ معاشرے کے کھلے عام اور درپردہ دونوں قسم کے دشمن عناصر ہمیشہ مٹھی بھر ہوتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے اچھی خاصی آبادی کا جینا حرام ہو کر رہ جاتا ہے۔معاشرے کی خرابیوں پر کڑھنے والا پڑھا لکھا طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ناموافق عناصر کہیں اور سے نہیں آتے بلکہ ہمارے ہی گھروں میں پیدا ہوتے اور پرورش پاتے ہیں۔تابناک روایتوں کو مان کر چلنا کبھی ہماری فطرت کا خاصہ ہوا کرتا تھا لیکن ان روایات میں جب ہماری آنکھوں کے سامنے خرابیاں در آنے لگیں تو ہم نے بغاوت کرنے کے بجائے آلودہ روایات سے چپکے رہنے کو اپنی مجبوری بنالی۔ انجام سامنے ہے لیکن اب بھی اتنی دیر نہیں ہوئی کہ وبائی بخار کو سرطان قرار دے کر علاج کی تدبیر کرنے کے بجائے جو کچھ ہو رہا ہے اسے تقدیر مان لیا جائے۔
عبد السلام عاصم
-----------------------------------------------------------
مسلمان اسلام کی پیروی کے لئے عطیع اللہ اور عطیع الرسول کے پابند ہیں ڈاکٹر ذاکر نائک کے نہیں ۔اس لئے نظریاتی انتہاپسندی اور مسلح دہشت گردی سے متاثر موجودہ ماحول میں ایسے کسی کردار کے حوالے سے مسلمانوں کے بارے میں کوئی رائے قائم کر لینا حالات سے نمٹنے میں معاون ہونے کے بجائے صورتحال کو اور ابتر بنا سکتا ہے۔ ذمہ دار حلقوں پر لازم ہے کہ عصری منظر نامے کو’’شور پسند‘‘ اور ’’ناعاقبت اندیش‘‘ میڈیا کی نظروں سے دیکھنے کے بجائے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے غیر میڈیا سیوی لیکن اہم نمائندوں سے رابطہ قائم کر کے اُن رجحانات کا جائزہ لیا جائے جو بلا شبہ تشویشناک ہیں اور ماضی کے بر عکس اب کچھ زیادہ ہی تیزی سے واقعات میں بدل رہے ہیں۔
میڈیا میں بے ہنگم واویلا کے برعکس جہاں تک ڈاکٹر نائک کا تعلق ہے تو ان سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور اتفاق بھی ۔ اتفاق یہ کہ وہ بلاہ شبہہ سامعین کو متاثر کرنے والے حوالہ جاتی مقرر ہیں ۔اختلاف یہ کہ وہ اپنی بات کو عین اسلام بتانے کی کوشش میں بعض اوقات فرشتگی کی حد پار کر جاتے ہیں۔اُس وقت انہیں غالباً ایسا لگتا ہے جیسے سامع سے معاملہ کرنے میں اُن سے کوئی غلطی سرزد ہو ہی نہیں رہی ہے۔جبکہ غلطی کا سرزد نہ ہونا صرف فرشتوں سے ممکن ہے انسانوں سے ہر گز نہیں۔ ویسے بھی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مقرر سے سب سے بڑی غلطی اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے سامع کو پڑھے اور سمجھے بغیر اپنی ساری بات اُس کے کانوں میں انڈیل دیتا ہے۔ باتیں نہ صرف سرسری،پرُلطف، اہم اورسبق آموزہوتی ہیں بلکہ ’’حساس‘‘ اور ’’ مخدوش ‘‘بھی ہوتی ہیں۔ اس لئے ایک مقرر بالخصوص مذہبی مبلغ کے لئے یہ جاننا بے حد ضروری ہونا چاہئے کہ اُس کی کسی بات کا اُلٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔
بدقسمتی یا اتفاق سے ذاکر نائک کے یہاں اس فہم کا فقدان پا یا جاتا ہے۔اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی بات کو منوانے میں معقولیت سے زیادہ اُس ضد کی سیڑھی طے کرنے لگتے ہیں جس کی بلندی سے انہیں ہر مخاطب اپنے سے چھوٹا نظر آنے لگتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اسلام کی ایک مخصوص فکر کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن میرے نزدیک یہ کوئی عیب نہیں ۔اس لئے کہ اسلام سمیت دنیا کا کوئی بھی مذہب، ازم یا فلسفہ یک فکری نہیں۔بس ایک بنیادی میلان ان کے ماننے والوں کو جوڑے رکھتی ہے۔یہ جوڑ اس وقت ٹوٹتا ہے جب اختلاف سے اتفاق کے بجائے اختلاف کیا جانے لگتا ہے اور دوسروں کو اپنے موقف سے اتفاق پر مجبور کرنے کی کوشش شروع کر دی جاتی ہے۔ مناظرہ کلچر بہت حد تک اسی کی پہچان ہے جس میں سارا زور قائل کرنے سے زیادہ مد مقابل کو’’لاجواب‘‘ کرنے پر صرف کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر نائک کا انداز تخاطب دیگر افکار کے تعلق سے کس قدر استہزائی ہوتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔جن افکار و مسالک کو وہ زد پر لیتے ہیں ۔ان کے ماننے والوں پر کیا گزرتی ہے ، اس کا [میڈیکل] سائنس داں ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی سائنسی ادراک نہیں کیا۔البتہ ان کی باتوں سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمام مسالک اسلامیہ میں بھی بس ان کا مسلک ہی ’’حق‘‘ ہے ۔سوشل میڈیا پر اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ایک ہم مشرب نے کچھ اس طرح اپنے احساسات پوسٹ کئے ہیں کہ حالات کے موجودہ آزمائشی موڑ پر اگر ڈاکٹر نائک کے اندر کوئی تبدیلی نظر آئی ہے تو وہ یہ ہے کہ آج وہ اپنی معصومیت کے لئے انہی حلقوں کو گواہ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جو ابھی کل تک ان کی تضحیک کے نشانے پر تھے۔
بہر حال یہ وقت غبار نکالنے کا نہیں بلکہ یہ بتانے کا ہے کہ جو لوگ ملت کے ’’قائد ‘‘ ہونے کے دعویدار ہیں وہ ہر قدم ناپ تول کر’’ٹھیک‘‘ اٹھائیں اور جو ’’ناظمین‘‘ ملت ہونے کے دعویدار ہیں وہ ان تما م چیزوں کو ’’ٹھیک‘‘ کریں جو جانے انجانے میں بکھری پڑی ہیں۔ذاکر نائک کسی طور کھلنائک نہیں لیکن میڈیا میں جس طرح انہیں پیش کیا جارہا ہے اس میں ان کا نادانستہ اشتراک ضرور شامل ہے۔ ڈاکٹر نائک کا اگرآج یوگی ادیتیہ ناتھ، سادھوی پراچی اور ایسے دوسرے ناموں سے موازنہ کیا جارہا ہے تویہ افسوسناک ہی نہیں تشویشناک بھی ہے کیونکہ [خدا نہ کرے]اس کی قیمت چکانے کی نوبت آئی توکسی ایک مبلغ کو نہیں پوری ملت کو چکانی ہوگی۔
کسی مبلغ کو اپنی تبلیغ کے مثبت اور منفی اثرات کے تعلق سے کتنا بالغ نظر ہو نا چاہئے ؟ اس کی ایک مثال یوں دی جاسکتی ہے : چار جوان بیٹوں کاایک باپ کسی اسلم نامی شخص سے جھڑپ میں معمولی لیکن نمایاں چوٹ کے ساتھ اپنے گھر لوٹتا ہے ۔ گھر میں موجود بیٹے جب اُس سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا تو وہ ممکنہ ردعمل کی پروا کئے بغیر بے کم و کاست جھگڑے کی تفصیل بتا دیتا ہے ۔ بڑا بیٹا کہتا ہے کہ ’’ اختلاف اپنی جگہ لیکن اسلم انکل کو آپ پر ہاتھ نہیں اٹھا نا چاہئے تھا‘‘، دوسرا بیٹا پولس میں رپورٹ لکھوانے پر زور دیتا ہے۔ تیسربیٹا باپ کی حالت دیکھ کر نم دیدہ ہوجاتاہے اور چوتھا واقعہ سُننے کے بعد گھر سے باہر نکل جاتا ہے۔ آدھے گھنٹے کے بعد پولس دروازے پر دستک دیتی ہے۔ دروازہ کھلتا ہے تو پولس سے یہ خبر ملتی ہے کہ چوتھے بیٹے کے ہاتھوں اسلم کا قتل ہو گیا۔اس چھوٹی سی فرضی کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ’’بولنے والے کو بولنے سے پہلے یہ معلوم کر لینا چاہئے کہ سُننے والوں میں سے کون کس طرح اور کس حد تک متاثر ہو سکتا ہے‘‘۔
مذہبی رہنماوں کے غیر دور اندیشانہ طرز عمل سے شکایت کا ہر عہد گواہ ہے۔ علامہ اقبال نے بھی یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ ’’جنگ وجدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے‘‘ ۔ اگر علامہ آج بقید حیات ہوتے تو شاید وہ بھی اپنے اس منظوم جملے کی وجہ سے اُس تشدد کی زد میں آ جاتے جس کی زد میں آج دوسرے قلمکار آرہے ہیں۔ مذہب اور برداشت کو ایک دوسرے کی ضد بنانے کا کام کسی نے بھی باقاعدہ کسی اعلان کے ساتھ نہیں کیا لیکن طریق عمل وہ اختیار کیا گیا کہ ایک اچھا معاشرہ ’’خواب‘‘ بن کر رہ گیا اور اچھی باتوں کا’’ورد ‘‘حقیقت بن گیا۔سیاق و سباق سے ہٹ کر’’یہود و نصارا کو دوست نہ بناو ‘‘کی رات دن کی رٹ نے آج ملت کو جس آزمائش میں مبتلا کر رکھا ہے وہ ہر گز مصلحت خداوندی نہیں بلکہ اپنے اعمال کی سزا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ میڈیا سیوی ملی رہنمایان اس کا ادراک کرنے کے بجائے اسے آزمائش کانام دے کر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے یہ دنیا بس ایک آزمائش گاہ ہے۔الاماں الحذر۔
وقت آگیا کہ ملت کا بیدار حلقہ اس طرح کا استدلال کرنے والوں کے جھانسے میں آنے کے بجائے خود احتسابی سے کام لے اور ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است‘‘ میں پوشیدہ اس مفہوم سے بھی استفادہ کرے کہ ’’بزرگ اپنی کسی کمزوری کی بنا پر اگر کوئی غلطی کر گئے ہیں تو محض بزرگوں کے احترام میں اس کی تقلید نہ کی جائے ‘‘۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ معاشرے کے کھلے عام اور درپردہ دونوں قسم کے دشمن عناصر ہمیشہ مٹھی بھر ہوتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے اچھی خاصی آبادی کا جینا حرام ہو کر رہ جاتا ہے۔معاشرے کی خرابیوں پر کڑھنے والا پڑھا لکھا طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ناموافق عناصر کہیں اور سے نہیں آتے بلکہ ہمارے ہی گھروں میں پیدا ہوتے اور پرورش پاتے ہیں۔تابناک روایتوں کو مان کر چلنا کبھی ہماری فطرت کا خاصہ ہوا کرتا تھا لیکن ان روایات میں جب ہماری آنکھوں کے سامنے خرابیاں در آنے لگیں تو ہم نے بغاوت کرنے کے بجائے آلودہ روایات سے چپکے رہنے کو اپنی مجبوری بنالی۔ انجام سامنے ہے لیکن اب بھی اتنی دیر نہیں ہوئی کہ وبائی بخار کو سرطان قرار دے کر علاج کی تدبیر کرنے کے بجائے جو کچھ ہو رہا ہے اسے تقدیر مان لیا جائے۔

14. maí 2016

چلو کہ ہم مٹا بھی دیں یہ قربتوں کے فاصلے
عبدالسلام عاصم

انشاء اللہ یعنی اگر خدا نے چاہا تو۔ ابھی کچھ دہائی پہلے اس کے استعمال کا دائرہ گلوبلائزیشن کی برکت سے اتنا پھیل گیا تھا کہ اس کی ادائیگی کسی مذہبی پہچان سے مشروط نہیں رہ گئی تھی۔پڑھے لکھے حلقوں میں مکالمات کے دوران اس کا ا ستعمال عام ہوگیا تھا۔ لوگ مختلف تقریبات میں امکانی حوالوں سے بات چیت میں اکثر انشاء اللہ کہتے نظر آنے لگے تھے۔ ایک سلسلہ وار ٹی وی شو میں ایک موقع پر سشمتا سین نے جب وسیم اکرم کی موجودگی میں ایک سے زیادہ موقع پر انشاء اللہ کہا تو مخاطب اینکرنے اس کا پر مزاح نوٹس لیتے ہوئے کرکٹ ہیرو کو غالباً یوں متوجہ کیاکہ محترمہ تو انشاء اللہ کہنے میںآپ سے بھی آگے نکل گئیں۔وسیم جہاں زیر لب مسکرا کر رہ گئے وہیں سشمتا نے کچھ اس طرح اپنی بات کہہ کرماحول کو قہقہہ راز کر دیا کردیا کہ وسیم تو انشاء اللہ بولنے کے عادی ہیں، وہ دل سے بولتی ہیں۔
تہذیبی یگانگت کایہ سلسلہ ختم نہیں ہوا ۔ آج بھی جاری ہے اور اب بھی اس گلاب رُت ادائیگی سے ہونٹ خوبصورت اور کان خوش سمع ہو جاتے ہیں لیکن ابھی کچھ عرصہ پہلے تک جہاں لوگ اس پر چونکتے کم اور خوش زیادہ ہوا کرتے تھے وہیں اب اس کی ادائیگی لوگوں کو کسی حد تک چونکانے لگی ہے۔یعنی تہذیبی اقدار کے میلان میں تہذیبی حوالوں سے ہی خلل پڑنے لگا ہے۔دو تین ماہ قبل میٹرو میں سفر ے دوران اردو میں جشن ریختہ کتابچہ پڑھنے والے کومبینہ طور پر تکلیف دہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔
واقعہ ہے کہ قدموں کے فاصلے کم کرنے والی سائنسی ترقی نے بالواسطہ دلوں کو بھی قریب کرنا شروع کر دیا تھا ۔سابقہ صدی کا یہ فلمی نغمہ ’’ چھوٹی سی یہ دنیا، پہچانے راستے ہیں، تم کہیں تو ملو گے، کبھی تو ملو گے، تو پوچھیں گے حال۔۔۔‘‘عملاًگاوں میں بدلتی دنیا کی انقلاب آفرینی کادائرہ وسیع کر نے لگا تھا،لیکن ارتقا کے سفر کے اس خوشگوار موڑ سے ابھی ایک نسل بھی جی بھر نہیں گزر پائی کہ ایکدم سے کھونے اور پانے کی روایتی ضد نے جیسے پھر سے سر اٹھالیا اور ان تمام تہذیبی اقدار پر دھاوا بول دیا جن کے درمیان ہم آہنگی کا سفر ابھی درمیانی مر حلے میں ہی ہے۔
بہر حال تمام تر قنوطیت کے باوجود ابھی قطعیت سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اچھے دن شروع ہوتے ہی ختم ہو گئے یا نئی اڑان ہمیں واپس وہیں لے آئی ہے جہاں سے ہم اڑے تھے! ہاں، یہ ایک سنگین موڑ ضرورہے جس سے ہمیں گوناگونی اور رنگا رنگی کا اس انداز سے پاس رکھتے ہوئے صحیح سلامت گزرنا ہے کہ آنے والے کل میں اس کا تذکرہ قوموں کو اور قریب آنے کی تحریک دے۔اندیشے کم سے کم ہوتے جائیں اور امکانات کو تقویت حاصل ہو۔ڈرنا انسانی فطرت ہے لیکن ڈراناایک ایسی جبلت ہے جو انسان اختیار کرتے وقت تو ایک محدود دائرے میں گمراہ ہوتا ہے لیکن اس کے بعد خون منھ لگ جانے کے مصداق وہ ڈرنے والوں سے سودے بازی پر اتر آتا ہے۔ اس طرح انسانی امور کے بیشتر معاملات اسی سودے بازی کی نذر ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ترقی پذیر دنیا میں عصری سیاسی منظر نامے کا ایک بڑا حصہ اسی سے عبارت ہے جس میں مذہب کے سیاسی استحصال نے سائنسی ترقی کو مشینی آسائشوں اور جنگی غارت گری کے محاذ پر تو کھلی چھوٹ دے دی ہے لیکن اس ترقی کے نتیجے میں قدموں کے فاصلوں کے ساتھ دلوں کے فاصلے کو بھی کم کرنے والی اس عالمگیریت کو نقصان پہنچایا جارہا ہے جس کے نتیجے میں مشرق کے درد سے مغرب کوآگاہ ہونے میں اور جنوب کی کسی خوشی سے شمال کو سرشار ہونے میں اب مطلق تاخیر نہیں ہوتی اور لوگ ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں اگلے لمحے ہی شریک ہو جاتے ہیں۔یہ سلسلہ رُکا نہیں محض وقتی خلل کا شکار ہے اور جوعالمگیریت نوع انساں کی تقدیر بن چکی ہے وہ مستقبل قریب میں’’انشا ء اللہ‘‘ ڈرنے والے ذہنوں کو ڈرانے والی جبلت کے شکنجے سے آئندہ چند دہائیوں میں ہی مطلق آزاد کر دے گی بشرطیکہ سائنسی ترقی سے مثبت استفادہ کرنے والے ان واقعات سے ہمت نہ ہاریں جوسر دست دنیا کے ایک قابل لحاظ حصے کو ڈسٹرب کئے ہوئے ہے۔
بر صغیر ہند وپاک اور بنگلہ دیش میں حالیہ مہینوں کے بعض واقعات بلا شبہہ تکلیف دہ ہیں۔ ان واقعات نے جن میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر کی پھانسی بھی شامل ہے، بظاہر مایوسی ضرور پیدا کر دی ہے لیکن بہ باطن رد عمل سے اس یقین کو تقویت ملتی ہے کہ یہ محض ایک مرحلہ ہے جس سے باہمت گزرنے میں اتنا نقصان نہیں جتنی تباہی کوئی بھی معمولی پس روی مچا سکتی ہے۔ بنگلہ دیش میں دارکشیدہ امیر جماعت اسلامی کے خلاف 1971 کی اس جنگ کے حوالے سے مقدمہ چلا یا گیا تھا جس کے نتیجے پاکستان فطری طور پردولخت ہوا۔ جس ٹرائل کورٹ میں ان پر مقدمہ چلا وہ کتنا متنازعہ تھا اس پر بحث اتنا ہی بے نتیجہ ہوگا جتنا ایسے دوسری تاریخی واقعات کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کی کوششیں بے نتیجہ رہتی آئی ہیں۔البتہ تازہ بنگلہ دیشی ایپی سوڈ یہ ضرور ثابت کر تا ہے کہ بنگلہ دیش بھی انہی اقوام میں شامل ہے جنہیں تاریخ سے سبق لینے سے کوئی دلچسپی نہیں البتہ تاریخ کو دُہرانے کی لذت سے وہ محروم رہنا نہیں چاہتی تھی۔
ملکوں کا جغرافیہ بدل سکتا ہے ، تاریخ نہیں بدلی جا سکتی۔ اس کا ادراک ان اقوام کو بھی ہے جو کسی نہ کسی طور پرماضی گزیدہ ہیں لیکن ان کا حال اگر بدستور متاثر ہے تو اس کی وجہ ان کی ماضی گزیدگی نہیں بلکہ ماضی گرفتگی ہے۔ہندستان اور پاکستان کو بھی ایک سے زیادہ سطحوں پر کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا ہے ۔ شدتوں میں فرق ضرورہے لیکن منفی نتائج دونوں ہی جگہوں پر کبھی کبھی اس قدر تکلیف دہ شکل میں مرتب ہوتے ہیں کہ انسان کانپ اٹھتا ہے۔ اخباری دستاویزات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو ہندستان میں ایک مشترک حلقے نے ہندووں اور مسلمانوں کو لحمی کھانوں، لسانی پہچان اور زنانہ ملبوسات کے حوالے سے ایک دوسرے سے اتنا الگ کر دیا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے شکایت پیدا ہو گئی ہے۔ڈرنے اور ڈرانے کا کھیل مٹھی بھر لوگ کھیل رہے ہیں لیکن دنوں فرقوں کی اکثریت اس کا نقصان اٹھانے پر مجبورہے۔جس اردو کو تقسیم ہند کے بعد انتہائی فرقہ پرستانہ ماحول میں بالی ووڈ نے زندہ رکھا آج وہ میٹرو میں سفر کرنے والے کسی مسافر کے پاس اگر دستاویز کی شکل میں ہے تو اس پر شک کیا جاتا ہے ۔ یہاں شک کرنے والا اور شک کے دائرے میں آنے والادونوں ظالم اور مظلوم نہیں ایک دوسرے سے خوفزدہ حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس خوف کا دونوں طرف سے مٹھی بھر لوگ کاروبار کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے ملک کی مسلم اقلیت کو ایک نقصان یہ پہنچایا ہے کہ وہ پرسنل لا اوردوسرے متعلق بہ اسلام امور تک محدود ہو کر رہ گئی ہے حالانکہ تعلیمی اور معاشرتی محاذ پر ایک زیادہ معاملات میں اقلیتوں کے ساتھ درپیش دشواریوں میں کہیں کم تو کہیں زیادہ نقصان مسلمانوں کا بھی ہورہا ہے۔ مخالف فرقہ پرست حلقہ جہاں مسلمانوں کو اسٹیریوٹائپ کرکے روزگار کے محاذ پر نقصان پہنچا رہا ہے وہیں مسلم قیادت کے نام پر سرگرم عناصر کو شریعت میں عدالتی مداخلت پر اعتراض سے فرصت ملتی ہے تو وہ اپنی شعلہ بیانی سے دہشت گردی اور فرقہ پرستی مخالف اسٹیج سے ملت کا اس طرح جارحانہ دفاع کرتے ہیں کہ ایک طرف جہاں ملی جوش میں غیر صحتمند اضافہ ہو جاتا ہے وہیں دوسری جانب مسلمانوں کے تعلق سے دوسروں کو خوف زدہ کرنے والوں کا کاروبارچمک اٹھتا ہے۔اگر ایسا نہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہندستانی مسلم قیادت نے تعلیم میں مسلمانوں کا کوٹہ ختم کرنے کے حکومت مہاراشٹر کے فیصلے کے خلاف گجرات کے ہاردک پٹیل کی طرح سڑکوں پر محاذ نہیں سنبھالا اور کیوں دو چار مہینے کے لئے جیل نہیں گئے؟۔وقت آگیا ہے کہ داعش وغیرہ کے جھانسے میں آکر یا کسی مبینہ سازش کے نتیجے میں دوسروں کے جیل جانے پر احتجاج کی سرخیوں میں نظر آنے والے لوگ اپنے اکابر کی طرح آئین کے دائرے میں میدان عمل آکر ملت کے ان مسائل کے لئے جدوجہد کریں اور جیل جائیں جو مسائل ملک کی دوسری اقلیتوں سے مختلف نہیں۔

23. feb. 2016


جے این یو تنازعہ : وطن پرستی کی ایک سے زیادہ تفہیم کا شاخسانہ 

------------------------------------------------------------- 
عبدالسلام عاصم
--------------
تعلیمی اداروں کی تشخیص اور منظوری کی قومی کونسل کی جانب سے 2012 میں ہندستان کی سب سے بہترین جامعہ قرار پانے والی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کو عرف عام میں جے این یو کہا جاتا ہے۔ یہ مخفف کسی دوسری یونیورسٹی کے مخفف سے اس لئے الگ ہے کہ یہ قصر علم اُن تہذیبی اقدار کی درس گاہ ہے جہاں اطلاعات سے استفادہ توکیا جاتا ہے ان پر کامل انحصار کو علم کا درجہ نہیں دیا جاتا۔ جے این یو کی یہی پہچان اُسے نہ صرف دوسری جامعات سے ممیز کرتی ہے بلکہ انسان کی سائنسی فکر کی اُس انفرادی آزادی کو علمی ضمانت دیتی ہے جس آزادی کی اجتماعی سوچ والے’’ مبنی بر عقیدہ ‘‘کسی بھی نظرئیے میں مطلق گنجائش نہیں۔ 
اس پس منظر میں جاری تنازعے کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں لیکن اسے اُن حلقوں کو سمجھانا اگرناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے جو ’’علم‘‘ کم اور’’ اطلاعات‘‘ زیادہ رکھتے ہیں۔ایسے حلقے معاشرے میں تنقیدی سوچ، بحث اور اعتراض برائے وضاحت کی حوصلہ افزائی کی کبھی ستائش نہیں کر سکتے ۔ جے این یو تنازعہ کا تعلق ملک دشمنی سے نہیں بلکہ ملک دوستی کی ایک سے زیادہ تفہیم سے ہے۔اسے نظریاتی لڑائی کا بھی نام دیا جا سکتا ہے لیکن اس کے محاذ کچھ اس طرح کھولے گئے ہیں کہ سب کچھ گڈ مڈ ہو کر رہ گیا ہے۔ کانگریس کا رول وہی ہے جو بی جے پی کا ہے ۔ البتہ یساری سوچ رفتار زمانہ سے ہم آہنگی کے فقدان کی وجہ سے ناقابل فہم تو نہیں لیکن اُس اپیل سے محروم ہوتی جارہی ہے جو اپیل ماضی میں اپنے عہد کے انسانی تقاضوں کا آئینہ دار ہوا کر تی تھی۔
کچھ سماجی نمائندے ہندستان کی آزادی کے ساتھ اظہار کی آزادی کا سفر ختم دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ معاشرتی زندگی میں یہ سفر ایک سے زیادہ حوالوں سے جاری رہتا ہے ۔ظلم سے، جبر سے، دہشت کی سیہ کاری سے،تہذیب کی عیاری سے،خانگی جھگڑے سے، ہمسائے کی مکاری سے یہاں تک کہ دق زدہ سوچ کی بیماری سے آزادی کا سفر آج بھی معاشرتی زندگی کی جدوجہد کا حصہ ہے اورکم سے کم ترقی پذیر دنیا میں جب تک انسانی بہبود کا سفر شورش کے موڑ سے گزرتا رہے گا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔بہ انداز دیگر اس کا ثبوت اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی جے این یو یونٹ کے تین عہدے داروں نے بھی پچھلے ہفتے اُس وقت پیش کیا جب وہ لوگ حکمراں بی جے پی کی طلبا شاخ سے الگ ہو گئے۔مرکز نے جے این یو تنازعے سے جس طور پر نمٹنے کو ترجیح دی وہ حکومت سے نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کے نزدیک ہی غلط نہیں بلکہ ہر اس ذہن کے لئے موجب تشویش بن گئی ہے جو ایسی اجتماعیت کے حق میں نہیں جو انفرادی آزادی پر قدغن لگائے۔
قوم پرستی اپنے آپ میں ایک ایسا جذبہ ہے جس کا مثبت اور منفی دونوں طرح سے استحصال کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں اس کی ایک سے زیادہ نظیریں دیکھی جا سکتی ہیں۔اٹھارویں صدی کے اواخر اور19ویں صدی میں قوم پرستی کے جذبے سے ہی یورپ میں آمریت اور استعماریت سے نجات حاصل کی گئی۔اس سلسلے کی بیسویں صدی کی نسبتاً زیادہ قریبی تاریخ کو زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایشیا اور جنوبی افریقہ میں استعماریت کے خاتمے میں یہی جذبہ بنیادی طور پر محرک رہا۔اس جزبے کو محدود سیاسی مفادات سے کس طرح آلودہ کیا جاتا رہاہے، اُس کی نظیر دیکھنے کے لئے بھی دور جانے کی ضرورت نہیں برصغیر کی تاریخ اسے سمجھنے اور جاننے کے لئے کافی ہے بشرطیکہ سمجھنے کی کوشش بھی کی جائے۔بصورت دیگر یہی جذبہ فسطائیت کا نقیب بھی بن جاتا ہے۔یورپ میں ہی 1930اور 1940 کی دہائیوں میں اس جذبے کاجمہوریت کے خلاف بدترین منفی استحصال کیا گیا تھا ۔جرمن قوم پرستی کی تاریخ کے اوراق ابھی اتنے بوسیدہ نہیں ہوئے کہ کسی بھی امکانی خطرے سے نمٹنے کے لئے ان سے فوری استفادہ ممکن نہ ہو۔اس لئے قوم پرستی کے جذبے کو کسی بھی طور پر یک رنگ بنانے سے پہلے سو بار سوچنا چاہئے کہ اس کے لئے کسی کثرت میں وحدت والے معاشرے کو کیا قیمت چکانی ہوگی۔
یہی وہ موڑ ہے جہاں ہمیں قوم پرستی کی اس شدت کو بے قابو ہونے سے بچانا ہوگا جس کے فروغ میں جمہوریت اور سیکولرزم کے ساتھ کھلواڑ کا بھی خاصہ عمل دخل ہوتا ہے۔ماضی قریب میں کانگریس سمیت ملک کی ایک سے زیادہ سیکولرزم کا ورد کرتے نہ تھکنے والی پارٹیوں نے اس خوبصورت عوامی نظم کی شکل بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ہر انتہا کے پیچھے ایک دوسری انتہا کارفرما ہوتی ہے۔ وطن عزیز میںؓ ٰٓٗبائیں بازو والوں کو جہاں رفتار زمانہ سے ہم آہنگ نہ ہونے کی قیمت چکانی پڑی وہیں کانگریس کے اندر شدت پسند سوچ کو سیاسی مجبوریوں کانام دے کر دوٹوک مسترد کرنے سے گریز سے بالواسطہ ہندتو کی جڑوں کو پانی ملتا رہا۔
ان جملہ ہائے معترضہ سے قطع نظر ابھی پچھلے ہفتے پیر کو دہلی کی پٹیالہ ہاوس کورٹ کے احاطے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں، جے این یو کے طلبا اور مدرسین پر جس طرح حملے کئے گئے اور اسی عدالت کے احاطے میں یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کو بھی زدوکوب کرنے کی کوشش کی گئی وہ کسی بھی طرح ایک کثیر فکری معاشرے کے حق میں فال نیک نہیں۔ملک دوستی اوروطن پرستی کے نام پر ہندستان جیسے ملک میں کسی ایک نظریاتی سوچ کو سب پر مسلط نہیں کیا جا سکتا ۔ ایسی کسی بھی کوشش کی ان حلقوں کی طرف سے بھی مخالفت ہوگی جو کسی نہ کسی نظرئیے سے وابستگی کو اپنی پہچان مانتے ہیں۔ بی جے پی، کانگریس اور یساری جماعتوں میں اس اعتدال کو آج بھی خاصی نمائندگی حاصل ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ٹکراو کے ماحول کی عام مذمت نہیں کی جاتی۔عدالتی ذمہ داراں نے بھی بعض وکیلوں کے طرز عمل سے دو ٹوک اختلاف کیا ہے۔
جے این یو واقعے نے ایک سے زیادہ خطوط پر بحث کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اظہار کے لئے دہشت گردی ایک ایسا آسان موضوع بن گیا ہے کہ اس پر ٹی وی مباحثوں کے شرکاء اب ہوم ورک کے بغیر بھی حصہ لے لیتے ہیں۔بالغ ذہن ناظرین کو اس صورت حال کا بخوبی اندازہ ہوگا۔ پچھلے ہفتے صحافتی حلقے میں ایک ایسی ہی بحث میں میں ایک صاحب قریبی فاصلے سے یہ کوڑی لے آئے کہ سارا قصور مذاہب کا ہے۔ایک صاحب نے فوری اصلاح سے کام لیا کہ مذاہب کا نہیں ان کے ناقص اطلاق کاہے۔ایسی بحث اکثر بے نتیجہ ختم ہوتی ہے لیکن اس روز بات سے بات نکلتی گئی ۔ایک کوڑی اتنی دور سے لائی گئی کہ سب اُلجھ کر رہ گئے۔ کہا گیا کہ جس طرح مسیحیت کو ویٹیکنائز کر کے مغرب نے علمی ترقی کی راہ آسان کر لی اُسی طرح دیگر مذاہب کو بھی ان کے اصل مقام پر رقبہ اور حدود کے ساتھ اختیار حکمرانی تفویض کر کے باقی دنیا کو بھی سائنسی ترقی کی آماجگاہ میں تبدیل کر دیا جائے۔بحث کو اسی موڑ پر ادھورا چھوڑ کر اگرچہ سب اپنی انفرادی زندگی کی ضرورتوں کے لئے منتشر ہو گئے لیکن میری طرح بہت ممکن ہے دوسروں کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہونا پڑا ہوگا۔
ایک خیال یہ بھی ذہن میں آیا کہ اگر پارلیمانی اجلاس کے آغاز کا موقع نہ ہوتا توکیا یہ معاملہ اتنا طول پکڑتا! شاید نہیں۔ اس لئے کہ ملک میں کسانوں کی خودکشی، دہشت گردی،غریبی، عدم رواداری کے خاتمے کے لئے ہمارے قومی رہنماوں کو جو خدمت اور محنت کرنی ہے ان سے بچنے کے لئے ان چیزوں کا سہارا لیا جاتا ہے اور میڈیا اپنی ٹی آر پی مجبوری کی وجہ سے انہیں طول دینے میں لگ جاتی ہے۔ یہاں بھی موافقت اور مخالفت کا کاروبار اس طرح کیا جاتا ہے کہ ہر جگہ ایک ہی مال دیکھ کر گاہگ بور نہ ہو جائیں۔ اس مرتبہ تو اس کاروبار کو اور آگے بڑھانے کے لئے اسکرین سیاہ کرنے کا وہ حربہ بھی آزمایا گیا جس کے ذریعہ ایمرجنسی کے زمانے میں اخبارات اپنے ادارتی کالموں کو خالی چھوڑ کر یا سیاہ کر کے اپنا بھڑاس نکالا کرتے تھے۔
آج سے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ حکومت سب کچھ سونگھ چکی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے کُل جماعتی میٹنگ میں ایوان کی کارروائیاں چلانے میں تعاون سے اتفاق بھی کیا ہے لیکن کیا ہوگا اس کا سبھی کو اندازہ ہے۔جے این یو تنازعہ اور حیدر آباد سنٹرل یونیورسٹی میں دلت طالب علم کی خودکشی نیز جاٹ آندولن سمیت ایک سے زیادہ ایسے جواز پہلے سے تیار کر دئیے گئے ہیں جو حکومت کو اور آئندہ حکمرانی کی دہلیز پار کرنے کی منتظر اپوزیشن کو عوام کے حقیقی مسائل کی جگہ ان کے جذبات،خیالات اور مسلط کردہ نظریات سے کھیلنے کی پریکٹس سے محروم نہ رہنے دے۔

17. jan. 2016

 اردو صحافت کا دو صدیوں پر محیط عہد بہ عہد سفر

 عبدالسلام عاصم
اردو صحافت کے دو سو سال کے سفرکا آغاز عملاً خبر و نظرکے صحافتی معیار سے الگ مسلمانوں کو درپیش حالات کی محدود ترجمانی کے ساتھ ہوا تھا۔ ہندستان میں مسلمانوں کی آمد،تہذیبی ارتباط و اختلاط، فارسی کے غلبے سے متاثر ماحول سے برطانوی سامراج کا سیاسی استفادہ اور پھر پے بہ پے رونما ہونے والے اختلافی سیاسی واقعات کے راست اور بالواسطہ نتیجے میں مسلمانوں کی معاشرتی حالت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ہم جس اردو صحافت کو (ایک سے زیادہ حوالہ جاتی تحریروں میں) منسوب پاتے ہیں وہ دراصل ابتدا میں مسلم صحافت تھی۔باوجودیکہ اس صحافت کا روشن پہلو یہ تھا کہ اس کا دامن غیر مسلموں کے لئے کبھی تنگ نہیں رہا ۔بصورت دیگر اردو کے غیر مسلم صحافی کم سے کم بیسویں صدی کا حصہ نہیں ہوپاتے۔اردو اخبار کی اولین اشاعتوں کا سہرا 1810 میں جہاں مولوی اکرم کے سر بندھتا ہے وہیں 1822 میں جام جہاں نما کلکتے کے ممتاز بنگالی صحافی تارا چند دتہ کے بیٹے ہری ہر دتہ نے نکالا تھا۔

اس پس منظر میں اردو صحافت جب دو صدیوں پر محیط اپنے عہد بہ عہد سفرمیں ہندستان کی آزادی کے موڑ سے گزرتی ہے تواس کے دامن پرملک کی آزادی کے لئے دی جانے والی قربانیوں کے خون کے بے شماردھبے ہی نظر نہیں آتے بلکہ اس کی پیشانی پرتقسیم ہند کا وہ الزام بھی نظر آتا ہے جسے غلط ثابت کرنے میں اردو والے خود اپنی غیر مربوط اور بے سمت کوششوں کا شکار ہو کر رہ گئے۔ یہ معاملہ کل کی طرح آج بھی صحیح اور غلط کا نہیں بلکہ اس تفہیم کا ہے جو اس وقت ہندووں اور مسلمانوں کو بالترتیب ان کے مزاج اور وقتی تقاضے کے حساب سے متاثر کر رہی تھی۔ انگریزوں نے اس کا غائر مطالعہ کر کے جب دیکھا کہ مسلمان انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور ہندو مصلحت سے کام لے رہے ہیں تو وہ بر سر پیکار حلقے سے لڑنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی توانائی مصلحت کوشوں سے معاملات کرنے میں صرف کرنے لگے۔یہاں سے انیسویں صدی کا آغاز تعلیمی محاذ پر مسلمانوں کی خستہ حالی کے ماحول میں ہوتا ہے جس کی وجہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمدہر گز نہیں تھی۔ اس خستہ حالی کا سبب یہ تھا کہ مسلم قیادت کسی تبدیلی کودیکھنے اور سمجھنے کے بعد قبول یا مسترد کرنا تو درکنار، محسوس تک کرنے کی روادار نہیں تھی۔اس طرز فکر کا تعلق کسی منصوبے یا عزم سے زیادہ مزاج سے تھا۔مسلمان تقریباً ہندستان کے نظم پر اپنی گرفت کھو چکے تھے اس کے باوجود وہ ذہنی طور پر اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اس عہد کی اردو صحافت کو متذکرہ صورتحال کے ترجمان کے طور پر ان دستاویزات میں دیکھا جا سکتا ہے جو شامل محفوظات ہیں۔

برطانوی عہد حکومت اگر مسلمانوں کو راس نہیں آئی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اردو صحافت کے نام پر کی جانے والی مسلم صحافت قاری کومکمل طور پر خبر ونظرسے گزارنے میں ناکام تھی ۔حالات کا رونا اور سب کچھ چھن جانے کے اسباب کا بے لاگ جائزہ لینے کے بجائے الزام تراشی کو ادارتی شیوہ بنا لیا گیا تھا۔اس طرز فکر و عمل نے انگریز وں کے اس شبہے کو تقویت دی کہ 1857 کا غدر بنیادی طور پر مسلمانوں نے بر پا کیا تھا۔
1588 بیسویں صدی کا آغاز بھی ہندستان میں بالخصوص شمالی ، مشرقی اور مغربی ہند کے مسلمانوں کے حق میں مالی اور معاشی طور پر خستہ حالی کے دوران ہوا۔یہ صورت حال اُنہیں دیگر ہم وطنوں سے کمتر اور کمزور بناتی جارہی تھی۔ اس وقت اردو صحافت کی نمائندگی جن تین اخباروں تک محدود رہ گئی تھی ان کے نام ’’پیسہ اخبار‘‘، ’’صلح کل‘‘ اور ’’اودھ نامہ‘‘ تھے۔ان اخبارات کے ذریعہ اردو قاریوں کی سوچ کا رخ عظمت رفتہ کے تذکروں سے ہٹا کر اعتدال پسندی کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی جس میں آگے چل کر زمیندار، الہلال اور ہمدرد کے علاوہ ہندستانی نامی ایک اخبار نے بھی بساط بھر اپنا کردار ادا کیا۔یہیں سے آزادی کی قومی تحریک میں اردو صحافت کا وہ رول شروع ہوتا ہے جس نے انقلاب زندہ باد جیسے نعرے کوبلا تفریق مذہب و ملت زبان زد عام کر دیاتھا۔لاہور، امرتسر، کانپور، لکھنو، بجنور، الہ آباد سے شائع ہونے والے ایک سے زیادہ اردو اخبارات نے جن میں ہندستان، دیش، دیپک، ہمدم، سوراج، مدینہ اور مسلم گزٹ سبھی شامل تھے، سیاسی بیداری کی وہ لہر چلائی کہ جدوجہد آزادی کو قومی زندگی کے تقاضوں میں اولین ترجیح حاصل ہوگئی تھی۔حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ ہندو مہا سبھا نے بھی اردو صحافت کو ہی اپنی سیاسی تحریک کا اخباری ذریعہ بنایا تھا۔

خبر رساں ایجنسیوں سے استفادہ کرنے تک آگے بڑھنے میں اردو اخبارات کو ایک لمبا سفر طے کرنا پڑا۔ ریکارڈ کے مطابق زمیندار پہلا اردو اخبار ہے جس نے اردو صحافت کو درپیش شکایات ، مشکلات اور جہادی ترجیحات تک محدود رکھنے کی یک طرفگی کو ختم کرتے ہوئے اسے خبر و نظر کا آئینہ دار بنانے کے لئے خبر رساں ایجنسیوں کو سبسکرائب کرنا شروع کیا۔بہرحال مسلمانوں میں مذہبی اور قومی بیداری کو نتیجہ خیز بنانے میں مولانا ابوالکلام آزاد کے الہلال کا کردار سب سے نمایا ں رہا ۔ اس بیداری نے ہندستانی مسلمانوں کی ذاتی اور اجتماعی سوچ کو کس طرح متاثر کیا اس پر روشنی ڈالنے کے لئے چونکہ الگ سے ایک باب درکار ہے اس لئے یہاں بات اردو اخبارات کے عہد بہ عہد سفر تک محدود رکھی جاتی ہے۔

بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں تحریک آزادی کے خطوط پوری طرح نمایاں ہو چکے تھے۔ 1919 میں مہاتما گاندھی کی تحریک آزادی اور انڈین نیشنل کانگریس کی سیاسی سوچ کی ترسیل و اشاعت میں لاہور کے روزنامہ پرتاپ نے اہم کردار ادا کیا ۔ برطانوی حکومت نے اس کا اس قدر سخت نوٹس لیا کہ اس اخبار کی کئی مرتبہ اشاعت روک دی گئی۔باوجودیکہ آزادی کے حق میں صف بندی غیر متاثر رہی۔ انگریزوں نے مسلمانوں کو جداگانہ قومی شناخت کے ساتھ ایک الگ ملک کے حق میں ہندستان کی تقسیم پر راغب دیکھ کر اس جذبے کو مہمیز لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔اس طرح نوبت 1947 میں عملاًفیصلہ کن تقسیم تک پہنچی ۔ اس وقت ہندستانی اردو اخبارات بشمول میقاتی رسائل کی مجموعی تعداد 415 تھی۔ منقسم ہندستان میںیہ تعدادگھٹنے کے باوجود ریکارڈ کے مطابق 345 تھی۔یعنی صرف 70 اردو اخبارات مالکان سمیت پاکستان کا حصہ بنے۔

تقسیم ہند کے بعد بہر حال اب یہ حقیقیت صرف دستاویزات کا حصہ ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان نہیں ہے اورمغل حکمرانوں نے غیر مہذب زبان قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔اس کی دوٹوک وجہ یہ تھی کہ اردو مختلف تہذیبوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے ہندستانی لوگوں کے درمیان رابطے کی زبان ہوا کرتی تھی۔ مسلمان ہرگز یہ زبان کہیں سے اپنے ساتھ لے کر نہیں آئے تھے۔بصورت دیگر اردو صحافت کا آغاز غیر مسلم صحافیوں کے سرگرم اشتراک سے ہر گز نہ ہوتا ۔ تقسیم ہندکے بعد کی ابتدائی دہائیوں میں جب سماجی اور اقتصادی بہبود کا بیشتر انحصار غالب سویت اشتراک سے رفتار پکڑنے والی صنعتی ترقی پر تھا،اس وقت ہندستان میں اردو والوں بہ الفاظ دیگر مسلمانوں کی سمجھ بوجھ کو خوش سمت بنانے میں اردو کے یومیہ اور میقاتی اخبارات کو انتہائی ذمہ داری کے ساتھ جو کردار ادا کرنا چاہئے تھا اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ ناموافق حالات میں کوئی تین دہائیاں ایسی گزریں جن میں کہیں جوابی الزام تراشی اور غیر ضروری صفائی پیش کرنے کے رجحان کو فروغ ملا تو کہیں اس قدر شاکی انداز اپنا یا گیا کہ بیشتر اخبارات شکایت نامے میں تبدیل ہو کر رہ گئے تھے۔اُس زمانے میں اردو اخبارات کو آج کی طرح اشاعتی گھرانوں کی سرپرستی حاصل نہیں تھی اور محدود فکری پیمانے پر جو اشاعتی گھرانے تھے وہ اس قابل نہیں تھے کہ اردو بولنے والی لسانی اقلیت کے لئے، جسے جذباتی تسکین پہنچانے والوں سے زیادہ زمانہ ساز پُرساں حالوں کی ضرورت تھی، اپنے ملی کاروبار سیاست پر عصری تقاضوں کو ترجیح دیتے ۔ مسلمانوں کے غیر اردو حلقے جن میں جنوبی ہند اور مراٹھواڑہ خطہ شامل تھا بہر حال اس حوالے سے نسبتاً کم متاثر رہے۔حیدر آباد کے اردو اخبارت نے سب سے پہلے سنبھالا لیا اور اپنے قارئین کی عصری رہنمائی شروع کی۔ممبئی اور کلکتہ کے اردو اخبارات نے بھی مرحلہ وار نئی سوچ اور نئی فکر کے ساتھ اپنے ادارتی صفحات کی گنجائش بڑھائی ۔

آزاد ہندستان میں ہر چند کہ آج اردو اخبارات سرکولیشن کے اعتبار سے ہندی اور انگریزی کے بعد تیسرے مقام پر ہیں اور عملاً مسلمانوں کی زبان بن کر رہ جانے کے باوجود اردو اخبارات کے مالکان کی اچھی خاصی تعداد غیر مسلموں پر مشتمل ہے لیکن یہ دونوں باتیں صرف اخباری صنعت و تجارت سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا اردو صحافت کے ماضی کے کسی کردار سے کوئی تعلق نہیں۔البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اردو اخبارا ت کی نمایاں تعداداب خبر و نظر کے معیار پر ملک کی دوسری زبانوں سے کسی طرح ٰپیچھے نہیں۔تقریباً ہر اردو اخبار کی آن لائن اشاعت بھی موجود ہے۔ رفتار زمانہ کے ساتھ اردو صحافت میں بھی کچھ خرابیاں بھی در آئی ہیں ۔ تجارتی اور دوسرے مفادات نے ایسی مقابلہ جاتی صحافت کو ضروری بنادیا ہے جو مالی اغراض پر مبنی ہو۔ذمہ داران صحافت کو اس کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے کیونکہ خبر نویسی کی اقدار سے سمجھوتہ کرنے والی نامہ نگاری سے نہ صرف سماجی مقاصد کو پورا کرنے کی پریس کی صلاحیت محدود ہوجاتی ہے بلکہ جمہوریت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

ایک تبدیلی زبان کی سطح پر بھی آئی ہے جسے محض ناپسندیدگی کی بنیاد پر خرابی کا نام نہیں دیا جا سکتاکیونکہ اس کا راست تعلق اطلاعاتی تیکنالوجی کے انقلاب، اقتصادی سرگرمیوں کے دائرے میں وسعت اور تنوع کے ساتھ دنیا کی ہر تہذیب میں صارفیت کے در آنے سے ہے۔البتہ خالص تجارتی حلقوں کی طرف سے بہ انداز دیگر اردو کے استحصال کا بھی اس میں بھر پور عمل دخل ہے۔مثلاً بالی ووڈ کو نغمات سے مکالمات تک اردو سے راست اور بالواسطہ طور پر محروم کردینے کی زائد از تین دہائیوں کے بعدٹیلی ویزن کے چھوٹے اور سنیما گھروں کے بڑے پردوں پر دوبارہ اردو سے مراجعت کی ذمہ داری جس نسل کو سونپی گئی ہے وہ ہر گز اردو سے مبینہ قطع تعلقی کی ذمہ دار نہیں ۔ روزگار رُخی تعلیم کے موجودہ عہد کی نمائندگی کرنے والی اس نسل میں چونکہ نتیجہ خیز کارکردگی پیش کرنے کا جوش بدرجہا اتم پایا جاتا ہے ۔اس لئے اس نے اس ذمہ داری کو بھی ایکدم سے قبول کر لیا۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے اور وہ یہ ہے کہ آج اردو سے ناواقف نئی نسل اردو میڈیا کا بیشترکاروبار چلارہی ہے جس میں غیر اردو مکالموں اور انداز بیان کو اردو دکھانے کے لئے محض جذباتوں، حالاتوں اور مشکلاتوں کی ادائیگی پرہی زور نہیں دیا جاتا بلکہ ’’آپ‘‘ کو ’’خود‘‘۔ ’’اپنا‘‘ کو ’’تمہارا‘‘یہاں تک کہ ’’عینی شاہدوں‘‘ کو ’’چشم دیدوں‘‘۔میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔اس کا اثر اردو گھرانوں پر بھی پڑ رہا ہے جہاں نئی نسل ’’پھر‘‘ کو ’’فر ‘‘ کہنے میں کوئی عارمحسوس نہیں کرتی بلکہ کچھ اس لحاظ سے فخر محسوس کرتی ہے جیسے اس طرح اُ س نے اپنے آپ کو (نئے لفظ کے حساب سے ’’خود ‘‘ )کو ہم عصروں سے جوڑ رکھاہے۔

26. des. 2015

ہند پاک رشتوں کا امیدوں بھرا نیا سال 

عبدالسلام عاصم

پچھلے دنوں ایک پاکستانی بلاگ میں کہی جانے والی یہ باتیں اچھی لگیں کہ دہشت گردی کا رونا رونے والے ہند وپاک کے حکمراں جب تک باہمی اختلافات کو مذہبی عینک سے دیکھتے رہیں گے تب تک انتہاپسندی اور دہشت گردی سے نجات نہیں ملنے والی اور ان خرابیوں کی گھنٹیاں سوشل میڈیا اور بگڑے نوجوانوں کے سر باندھنے سے بات نہیں بنے گی بلکہ خود حکمرانوں کو اپنے قول و عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کا پچھلے ہفتے عین کرسمس کے دن اچانک پاکستان پہنچ جانا بظاہر اسی عوامی جذبے کی ترجمانی کرتا ہے جس کا ایک پاکستانی بلاگر نے اپنے طور پر اظہار کیا ہے۔مسٹر مودی کے اس دورے پر دونوں ملکوں کے عوام اور سیاست دانوں کے رد عمل سے بھی بالترتیب اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ عوام جس تکلیف سے نجات چاہتے ہیں، سیاستداں راست اور بالواسطہ طور پر اپنی ضرورت سماج پر مسلط رکھنے کے لئے اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ 
مسٹر مودی کے اس دورے کے وقت تو کشیدگی کا کاروبار کرنے والے سناٹے میں آگئے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ پھر دکانیں سجا کر بیٹھ گئے۔ الجزیرہ کو بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو نے ایک انٹرویو میں ہند، پاک اور بنگلہ دیش کے انضمام کی بات چھیڑ دی ہے۔ عجب نہیں کہ کل پاکستان میں بھی کوئی بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کی بات کرنے لگے۔ ان باتوں سے اب بہرحال کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ زائد از ساٹھ برسوں سے ہند پاک کشیدگی، نفرت اور جنگ کے کاروبارکی روٹیاں توڑنے والے ایک دم سے خاموش تو نہیں ہو جائیں گے لیکن وہ بجلی اور سمنٹ کے کاروبار کو بھی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش سے باز نہیں آئیں گے۔
خوشی کے اظہار میں محتاط رہنے کا مشورہ غلط نہیں لیکن ہر وقت بس اندیشوں کی کھوج میں لگا رہنا آخرکس ذہنی صحت مندی کی علامت ہے؟ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہند پاک تعلقات کو اپنے انداز سے نیا موڑ دینے کی مسٹر مودی کی کوشش نے دونوں طرف کے شور پسندوں کو ردعمل کے محاذ پراس قدر بے قابو کر دیا ہے کہ انہیں یہ انداز ہی نہیں ہوپا رہا ہے کہ وہ جنون میں کیا کچھ بکے چلے جا رہے ہیں۔بہر حال ایسا نہیں کہ دوسرے محاذ پر سب کچھ عوام رُخی ہے اور محدود مفادا ت کا کہیں کوئی عمل دخل نہیں ۔باوجودیکہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مودی شریف لاہور ملاقات کا ایک رُخ تجارتی بھی تھا۔ تب بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس تجارت کی بنیادکسی انفرادی فائدے کے لئے اجتماعی نقصان والی عوام دُشمنی پر نہیں۔اس کے بر عکس دونوں ملکوں کو بعض تعصبات اور بے جا فخر نے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔مثلاً ہندو ازم اور اسلام کو اس بری طرح ایک دوسرے کے مد مقابل لا کھڑا کیا گیا کہ نوبت صرف تقسیم ہند تک نہیں پہنچی بلکہ مسلسل آگے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے دونوں ملکوں نے ایسی ایجادات سے کام لیا جو نفرت کو دوام بخشتی رہیں۔ دونوں ملکوں کے میزائلوں کے نام ہی اس حوالے سے سرپیٹنے کے لئے کافی ہیں۔
بہر حال سوشل میڈیا کی مہر بانی سے اب ظاہر و باطن کا فرق بہت حد تک مٹنے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے جارحیت پسند رہنما رات دن سوشل میڈیا کو کوستے رہتے ہیں اوریہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں لگے رہتے ہیں اس سے نوجوان گمراہ ہو رہے ہیں۔اب انہیں یہ کون بتاے کہ اچھی سے اچھی چیز کا بھی غلط استعمال نقصان پہنچا تا ہے ۔ مذہب کے بے جا استحصال نے ہی آج دنیا کو تہذیبی تصادم کے موڑ تک پہنچا یا ہے۔اب لیکن مرحلہ وار حالات بدل رہے ہیں جس کا میڈیا میں نوٹس بھی لیا جانے لگا ہے۔ جمہوری اقدار اور اعتدال پسندی کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ عجب نہیں کہ لکیر کے فقیر سلسلے کے نئے عہدیداران بھی اس معاملے میں ادراک سے کام لینے لگے ہوں اور ان کی بعض کوششیں خود ان کے حلقو ں کو حیران کرنے لگی ہوں۔مسٹر مودی کے لاہور دورے پر کانگریس اور دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے مخالفانہ ردعمل میں جہاں کوئی حیران کن پہلو نہیں وہیں شیو سینا کی مخالفت سے اس کی بہ انداز دیگر تصدیق ہوجاتی ہے۔
مسٹر مودی کے لاہور کے دورے کے دوسرے روز ہندستان اور پاکستان کے اخبارارت میں نظر آنے والی حیرانیوں کا موازنہ کیا جائے تو ایک چیز یہ ضرور نظر آئے گی کہ اخبارات نے مسٹر مودی کے لاہور پہنچنے سے پہلے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے ٹیلیفونی رابطے کے متن کو الگ الگ انداز میں پیش کیا ہے ۔ پاکستانی اخبارا ت یہ تاثر دیتے نظر آئے کہ مسٹر مودی نے کابل سے ہندستان واپسی کے سفر میں پاکستا ن کی فضائی حدود سے گزرنے کے وقفے کو سرزمیں پاکستان پر قدم رکھنے تک بڑھانے کی خواہش ظاہر کی تھی جس کا نواز شریف نے والہانہ احترام کیا۔ہندستانی اخبارات کے مطابق مسٹر مودی نے جب فون پر اپنے پاکستانی ہم منصب کو سالگرہ کی مبارکباد دی تو مسٹر شریف نے مسٹ مودی سے لاہو ر ہوتے ہوئے دہلی لوٹنے کی خواہش ظاہر کی اور مسٹر مودی نے ان کی اس خواہش کا پاس رکھا۔یہ دراصل دو ملکوں کے رہنماوں کی بات چیت کی اخباری ترجمانی کا انداز ہے جسے ضرورت سے زیادہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔اصل چیز ربط ہے۔جس طرح دوریوں کے لئے صرف رابطے کا فقدان کا فی ہے اُسی طرح قربت میں بھی بنیادی حیثیت صرف رابطے کو حاصل ہوتی ہے۔بصورت دیگر ایک ہی محفل میں شریک ہوکر بھی دو لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی بنے رہ سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی مجالس کے شرکا کو اس مرحلے سے گزرتے صحافتی نگاہیں دیکھ چکی ہیں۔
جہاں تک اسٹریٹجیائی ماہرین کا تعلق ہے تو پاکستان کے ساتھ بہتر ہمسائیگی کی دیرینہ کمی ختم کرنے کے لئے انتہائی مطلوب باہمی امن مساعی کی گاڑی دوبارہ پٹری پر لانے کے ارادے سے مسٹر مودی نے حیران کن انداز میں سہی جو قدم اٹھا یا ہے وہ صد لائق تحسین ہے۔ہندستان اور پاکستان کے عام شہریوں کو جہاں اس تبدیلی نے امیدوں سے سر شار کیا ہے وہیں سابق سفارتکاروں اور ریٹائر ہندستانی فوجی جنرلوں نے بھی مسٹر مودی کے خیر سگالانہ جذبے کو ایک اچھی شروعات پر محمول کیا ہے۔وزارت خارجہ کے سابق سکریٹری پنکج رنجن چٹرجی نے جہاں میڈیا سے کہا ہے کہ یہ خیر سگالانہ دورہ ناگزیر تھا وہیں جنرل وید پرکاش ملک کا خیال ہے کہ اس مختصر دورے نے ہندستان اور پاکستان دونوں کے لئے اہم معاملات طے کرنے کی طرف قدم بڑھانے کے لئے لازمی سازگار ماحول فراہم کر دیا ہے۔پاکستانی فوجی حلقوں کی طرف سے اب تک کوئی ایسا ردعمل سامنے نہیں آیاجوامکانات کو اندیشے میں بدل سکتا ہو۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے دورہء لاہور کے بعد کی ناخوشگواریوں کا خسارہ سب کے سامنے ہے ۔دہشت گردی کے محاذ پر درون ملک ایک سے زیادہ ہلاکت خیز تباہیوں کا سامنا کرنے کے بعد ضرب عضب سے کام لینے پر مجبور پاکستانی فوجی ادارے اس نئی تبدیلی سے کس طرح خود کو ہم آہنگ کر پاتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گالیکن اتنا طے نظر آتا ہے کہ ہند پاک کشمیررُخی کشیدگی کو دہشت گردی کے رخ پر آگے بڑھانے والوں کے حوصلے آنے والے دنوں میں شاید اتنے بلند نظر نہ آئیں جو اس ملاپ کو شرمندہ کردیں۔ ہندستان نے بھی غالباً کرگل ردعمل کو سامنے رکھتے ہوئے اس مرتبہ صرف نواز شریف تک اپنی رسائی محدود نہیں رکھی بلکہ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر کے ذریعہ فوجی سپہ سالار اعظم راحیل شریف کو بھی بالواسطہ شامل سفر رکھا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیران کی ملاقاتوں کی راہ ہموار رکھی گئی ہے اور ہندستاں نے پاکستانی نفسیات کو سمجھتے ہوئے جموں و کشمیر کو بھی ایک موضوع کے طور پر شامل معاملات رکھا ہے۔ 
نئے سال کا آغاز ہند پاک رشتوں میں جن امیدوں کے ساتھ ہونے جارہا ہے ۔ اسے سیاسی بدنگاہی سے بھی بچانے کی ضرورت ہے ۔ درون ملک ناگزیر سیاسی اختلافات کو سرحدی رشتے بنانے بگاڑنے کی حد تک بڑھانے سے بچانے کی ذمہ داری اپوزیشن سے زیادہ حکمراں حلقے پر عائد ہوتی ہے ۔مسٹر مودی کے اچانک لاہور پہنچ جانے پر کانگریس کا ردعمل غیر موافق ہی نہیں غیر صحتمند بھی ہے جو ایک ایسی پارٹی سے متوقع نہیں تھی جس کا راست رشتہ ملک کی آزادی کی تحریک سے ہی نہیں بلکہ آزاد ہندستان کے سیکولر کردار کو دوسروں کے لئے لائق تقلید بنانے سے بھی ہے۔

1. des. 2015


رواداری خوف کو ’’دور‘‘کرنا ہے ’’مسترد ‘‘ کرنا نہیں

عبدالسلام عاصم

رواداری معاشرتی زندگی کا وہ تہذیبی عنصر ہے جس کے لئے اتفاق رائے کی کوشش میں الجھنے سے زیادہ اختلافات کے ساتھ جینے کا ہُنر سیکھنا ضروری ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کسی کے موقف سے راضی ہونے کے بجائے عدم اتفاق سے اتفاق کیا جائے ۔ عملی زندگی میں اسے یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ عدم رواداری معاشرے میں ایک توازن برقرار رکھنے کی خواہش ہے جس کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ اتفاق رائے کی ایسی خارجی کوششوں سے گریز کیا جائے جو داخلی جذبات کو بھڑکا سکتی ہوں۔
اس تمہید کے ساتھ کہیں دور جانے کے بجائے اگرعامر خان ایپی سوڈ تک بات محدود رکھی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس معاملے میں کسی کے خوف کو’’ دور‘‘ کرنے کے بجائے اسے’’ مسترد‘‘ کرنے کی جو کوشش کی گئی دراصل وہی ’’عدم رواداری ‘‘ہے ۔اس عدم براشت کی طرف حالیہ دنوں میں کئی لوگوں اور حلقوں نے ملک و ملت کی توجہ مبذول کرائی لیکن میڈیا جسے نشر واشاعت کے محاذ پر مالی منفعت کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا چن چن کر ان لوگوں کی باتیں پیش کرتا رہا جو عامر خان کی موافقت اور مخالفت میں عدم برداشت کا ہی مظاہرہ کر رہے تھے۔
عام آدمی جو صرف الیکشن میں ووٹ ڈالنے تک اپنی فکر یا جذبات سے کام لیتا ہے دونوں طرف کی باتیں سن کرخوف پھیلانے والوں سے نالاں اور خوفزدہ حلقے میں سر پھروں کی طرف سے اوٹ پٹانگ دفاعی قدم اٹھائے جانے کے اندیشوں کی طرف سے پریشان تھا کہ اسی دوران پارلیمنٹ کا اجلاس سرما شروع ہو گیا۔اخبارات نے اس اجلاس کے حوالے سے بھی ایسی ایسی پیشن گوئیاں کررکھی تھیں کہ امن پسندوں کی آنکھوں کے سامنے مایوسی کا کہرا چھا گیاتھا۔
کہتے ہیں ہر تکلیف کے فطری ازالے کی صورت انسانی سوچ کے اندر از خود طور پر موجود ہوتی ہے اور سمجھدار آدمی اس کا بروقت استعمال کر کے حالات پر قابو پا لیتا ہے۔ پارلیمنٹ میں دستور ہند کے تئیں عہد بندی پر بحث میں بھی دوسرے دن کچھ ایسا ہی ہوا۔اس بحث کے تکمیلی مرحلے میں کسی اعتراض کا جواب اعتراض سے دینے اور اپنے حلقے کو خوش کرنے تک محدود رہنے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی نے رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حیرت انگیز طور پر جو باتیں کیں وہ آئین کے تعلق سے خوف کے ماحول کو ’’مسترد ‘‘کرنے کے بجائے ’’دور‘‘ کرتی نظر آئیں۔خاص طور پر ان کا یہ کہنا کہ ملک کی ترقی میں پنڈت نہرو سمیت تمام سابقہ حکومتی سربراہوں کی خدمات شامل ہیں، ان کے سیاسی مخالفین بشمول سونیا اور راہل گاندھی کو ہی نہیں اُن کے اپنے حلقے میں یکطرفہ سوچ رکھنے والوں کو بھی حیران کر گیا۔
دوقومی نظرئیے کی تاب نہ لاکر دولخت ہو جانے والے ہندستان کی شاید یہی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ اپنے سیکولر کردار سے کسی حالت میں دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ ہندستان اس وقت بھی سیکولر تھا جب یہ لفظ مقدمہء دستور کا حصہ نہیں تھا اورآج بھی یہ ملک پوری طرح سیکولر ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ مذاہب کی طرح سیکولرزم کا بھی بے جا استحصال ہوا ہے۔ مذاہب کا استحصال جس طرح مذہبی ٹھیکدار کرتے ہیں دہریت کے علمبردار نہیں۔اسی طرح سیکولرزم کو بھی اُس کا دھندہ کرنے والوں نے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی کسی غیر سیکولر حلقے نے نہیں۔بی جے پی کی قیادت میں حسب سابق این ڈی اے دوئم کی حکومت کابھی ایک تائیدی حلقہ چونکہ اپنے مذہبی رجحان میں شدت کی وجہ سے زیادہ سرخیوں میں رہتا ہے اس لئے اکثر ایسے اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے معاشرتی توازن میں خلل پڑتا رہتا ہے۔باوجودیکہ معاملہ فہمی کے مر حلے میں عدم رواداری پر رواداری کو ہی کامیاب پایا گیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسے موقعوں پر زندگی کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرنے والے لوگ حسب توفیق دکانداری بھی کر لیتے ہیں ۔اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا جسے کل بھی ٹالا نہیں جا سکتا۔
ویسے پچھلے چند مہینوں کے دوران ایک سے زیادہ ایسے واقعات پیش آئے جو سیاست ، معاشرت اور معیشت کے طالب علموں کوبظاہر اُن کی نصابی کتابوں سے زیادہ فائدہ پہنچا گئے ۔ بہار کے الیکشن میں مسٹر مودی، امت شاہ، نتیش کمار اور لالو پرسا یادو کی ایک سے زیادہ انتخابی تقاریر (جو صدا بندی اور عکس بندی کے مرحلوں سے گزر کر اب محفوظ ریکارڈ کا حصہ ہیں) سب سے پہلے جو ثابت کرتی ہیں وہ یہ ہے کہ ان رہنماوں نے ایک سے زیادہ جلسوں میں جو باتیں کیں ان میں سے بیشتر باتیں ان کی اُس وقت کی کاروبای مجبوریاں تھیں۔ یہ مجبوری مختلف شعبہ ہائے زندگی کے حوالے سے اپنی پہچان بنانے ( بعض اوقات بھُنانے)والوں کا قومی علاقائی اور عالمی سطحوں پرپیچھا کرتی رہتی ہیں ۔ اسی طرح ادب، آرٹ اور فلم کی دنیا بھی فنون کی خدمت کے ساتھ کاروباری سہولتوں پر بھی نظر رکھتی ہے۔ادیبوں اور ناقدوں کی بیشتر لڑائیاں بھی کاروباری لحاظ سے نورا کشتی ہوتی ہیں ۔ دونوں اپنے اپنے طور پر اسے کیش کرتے ہیں۔اسی طرح فلمیں بھی کامیابی کے لئے ریلیز سے پہلے اخبارات سے منی اسکرین تک ایک سے زیادہ تشہیری مرحلوں سے گزرتی ہیں ۔ کبھی کبھی اس کاروبار میں بھی غیر ضروری تنازعے کا سہارا لیا جاتا ہے ۔بالی ووڈ کے ایک سے زیادہ خانان بھی اس سے الگ نہیں۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ عامر خاں نے بھی عدم رواداری کے تعلق سے اپنے اظہار خیال میں کسی نشانہ بندی سے کام لیا ہو۔مجموعی حالات کے پیش نظر یہ محض ایک اندازہ ہے جوچانکیہ کے اگزٹ پول کی طرح کسی ایک کے حق میں مرتب کردہ نہیں ۔ اس کے باوجود ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہوا ہو ۔یہ اندازہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔
ہمارے ایک عزیز کا کہنا ہے کہ رواداری اور عدم برداشت میں بہ انداز دیگرچولی دامن کا ساتھ ہے ۔اس کی مثال انہوں نے اس طرح دی کہ ازدواجی زندگی کے باہمی احترام پر مبنی اصول سے الگ ہٹ کر بھی کچھ گھرانوں میں ازدواجی سلسلہ کسی ٹوٹ پھوٹ کے بغیر اس لئے جاری رہتا ہے کہ وہاں فریق ثانی (خاص طور پر بیوی) عزت نفس کا سبق بھول کر صرف اور صرف اتفاق سے کام لیتا ہے۔جبر اور صبر میں اس مفاہمت کی جو مثالیں دی جاتی ہیں وہ کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے مشروط نہیں۔ممنوعات ، معیوبات ، پرہیز اور گریزکی یکطرفہ فہرست کے ساتھ اخلاقیات مرتب کرنے والے معاشروں میں اس صورتحال کی نظیر عام ہے۔
بدقسمتی سے ایسے ماحول کے لوگ جب کثرت پر مبنی سماج کی ٹھیکداری میں بھی حصہ لینے لگتے ہیں تو ان کی تمام تر کوشش ہوتی ہے کہ کسی ایسی تبدیلی کو راہ نہ دی جائے جو ان کی روایتی بالا دستی ختم کر دے۔ پارلیمنٹ میں خواتین کے لئے ریزرویشن کی بات اگر آج بھی بے نتیجہ بحث تک محدود ہے تو اس کے ذمہ دار وہی عناصر ہیں جو رواداری کے لئے ایسی کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے جن سے وہ اتفاق نہیں اختلاف رکھتے ہوں۔بہر حال مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ دستور ہند کے تئیں عہد بندی پر پارلیمنٹ میں دو روزہ بحث میں جہاں ایک سے زیادہ موقعوں پر رواداری اور عدم برداشت کے حوالے سے بات کی گئی ۔پریس گیلری میں موجود میرے میڈیا ساتھیوں نے بھی محسوس کیاکہ نئی نسل کی نمائندگی کرنے والے ارکان پارلیمنٹ اپنی تمام تر جماعتی وابستگی کے باوجود جمہوری صحت کے لئے اختلاف رائے کو اہمیت دیتے نظر آئے ۔

21. nóv. 2015


مفروضات کو غلط ثابت کرنا ہماری ذمہ اری

عبدالسلام عاصم

الزامات میں چاروں طرف سے گھر جانے کے بعد بچ نکلنے کا ایک شاطر راستہ یہ ہوتاہے کہ ہر الزام کو ایک نیا مفہوم دے دیا جائے اور معاملات کو اس بری طرح الجھا دیا جائے کہ ہر وضاحت میں سے سازش کی بو آنے لگے۔کچھ ایسے ہی حالات ان دنوں عالم اسلام کو درپیش ہیں۔ماضی میں دوسری اقوام بھی اس سے گزر چکی ہیں۔ وہ زمانہ اطلاعاتی تیکنا لوجی کے محاذ پر اتنا ترقی یافتہ نہیں تھا اس لئے بہت سی باتیںآئینے کی طرح صا ف نہیں۔باوجودیکہ بین السطور مطالعہ اتنا ضرور واضح کر دیتا ہے کہ متاثرہ قوموں کے لئے یہ مرحلہ اُس وقت دشوار تر بن جاتا ہے جب اس سے دوٹوک نمٹنے کے بجائے نظریں چرانے اور حیلے گڑھنے میں وقت ضائع کیا جاتا ہے۔
گیارہ ستمبر کا دہشت گردانہ سانحہ گزرے چودہ سال ہو گئے۔ ان چودہ برسوں میں عالم اسلام اس کی چودہ گنا قیمت ادا کر چکا ہے لیکن آج بھی اس واقعے کو ایک نیا مفہوم دینے اور سامنے کی باتوں سے غیر ضروری نتیجہ اخذ کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری مظلومیت تک کو مشکوک سمجھا جانے لگا ہے۔ایک سے زیادہ عالمی مجالس میں ہماری موجودگی محض حاضری لگوانے کی حد تک ہے ۔ کوئی بھی مسلم ملک یا مسلمانوں کا عالمی ادارہ اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کوئی ایسا تاثر دے سکے جس پر اقوام عالم کو انحصارکرکے آگے بڑھنے میں عار نہ ہو۔
شیخ الجامعہ ازہر احمد طیب کا یہ کہنا قولاً غلط نہیں کہ اللہ اکبر کے نعرے کے ساتھ کسی جرم کے ارتکاب کا مستند اسلام سے کوئی تعلق نہیں لیکن اسی کے ساتھ ان کا یہ کہنا الزامات میں گھرنے سے بچنے کی کوشش نظر آتی ہے کہ دہشت گرد ذیلی مذہبی پیداوارنہیں۔ہر چند کہ انہوں نے اپنی اس وضاحت کا ائرہ اسلام تک محدود نہیں رکھا بلکہ یہ کہنے کو ترجیح دی کہ دہشت گرد کسی بھی’’ براہیمی مذہب کا بائی پروڈکٹ‘‘ نہیں لیکن کیا اس سے عملاًحالات کو بدلنے میں کوئی مدد ملے گی۔ اس کا دوٹوک جوب’’نہیں‘‘ ہے اور یہ نہیں ہمارے ماننے نہ ماننے کی شرط سے مشروط نہیں ۔
مسلمانوں کے حق میںیہ صورت ایکدم سے پیدا نہیں ہوئی۔اس کے لئے صدیاں خراب کی گئی ہیں۔سائنسی ترقی کا مذاق اڑایا گیا ہے ۔کھلی آنکھوں سے یہ دیکھنے کے باوجود کہ ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘ جامد تصورات میں ملت کو الجھا کر سیاسی حکمرانوں،سماجی اور مذہبی ٹھیکیداروں نے اپنے محدودد مفادات کے تحفظ کاکاروبار کیا ہے۔عام مسلمانوں کی آج حالت یہ ہے کہ ان کے لئے ایک طرف دین کا راستہ انتہا پسندوں نے دشوار کر رکھا ہے تودوسری جانب دنیا کے راستے میں ہر قدم پر انہیں اُن اقوام کا سامنا ہے جو اسلام کے نام پر دہشتگردی کی زد میں ہونے کی وجہ سے اُن پر بھروسہ نہیں کرتیں۔اس طرح بعض تعلیم یافتہ مسلم نوجوان یاتو حالات کی زد میںآکر بکھر جاتے ہیں یا پھراُسی راستے پر چل پڑتے ہیں جس کے حوالے سے ان کی پہچان بنا دی گئی ہے۔
سیاق و سباق سے ہٹ کر رات دن کی اس رٹ نے کہ ’’یہود و نصارا کو دوست نہ بنانا‘‘ آج مسلمانوں کوجس آزمائش میں مبتلا کر رکھا ہے وہ ہرگز مصلحت خداوندی نہیں بلکہ اپنی کرنی کی سزا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ بیشتر مسلم ملکوں میں مسلمان داخلی تشدد اور جنگی جنون میں مبتلا ہیں۔ہر وقت یہ کہنا کہ کچھ گمراہ لوگوں کو استعمال کیا جارہاہے آخر کیا مطلب رکھتا ہے۔اس طرح کا استدلال کرنے والے کبھی خود احتسابی سے کام کیوں نہیں لیتے۔کیا انہیں نہیں معلوم کہ موالی ہمیشہ تھوڑے ہی ہوتے ہیں جو اچھی خاصی آبادی کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔پھر ایک مرحلے پر پولس سے ان کی ساز باز ہو جاتی ہے۔ داعش ، القاعدہ اور ایسی دوسری دہشت گرد تنظیمیں اسی زمرے میں آتی ہیں اور ہتھیار بیچنے والوں نے ان سے ساز باز کر رکھی ہے تو کیا ان موالیوں کو پیدا کرنے اور اپنے آنگن میں پرورش کاموقع فراہم کرنے کے لئے ہم کسی بھی طرح ذمہ دار نہیں۔
شیعہ، سنی، احمدی،سلفی، وہابی، بریلوی، دیوبندی پتہ نہیں کتنی تکفیری اصطلاحیں ہیں جن میں الجھا کر ہم نے قوم کے لئے اتنی فرصت ہی چھوڑی نہیں کہ وہ تسخیر کائنات کا سائنسی سبق ’’بھی‘‘پڑھ سکے ۔ جومعدودے چند یہ سبق پڑھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں انہیں غیر مانوس دنیا کے لوگ انسان کم اور مسلمان زیادہ سمجھ کر یا تو فاصلہ قائم کر لیتے ہیں یا پھر اُن طالب علموں کو اندیشوں اور شک و شبہے کی بھینٹ چڑھ جانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ان سب کے لئے سرے سے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا دینا آسان تو ہے لیکن اس سے وہ حالات نہیں بدلیں گے جوہمارے اشتراک عمل کا نتیجہ ہیں۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اور اپنے حصے کے گناہ کی از خود تلافی سے کام لینا ہوگا۔ 
جنگی جنون کا جو منظر نامہ ہمارے سامنے ہے اس کے حوالے سے پچھلے دنوں اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سوئیڈن) کی ایک رپورٹ دیکھ کر حیرانی کم کوفت زیادہ ہوئی کہ پچھلے سال سعودی عرب، عمان، یو اے ای اور ترکی ہتھیاروں کی خریداری میں سر فہرست رہے۔2014 میں سعودی عرب نے جہاں 80ہزار72میلین ڈالر کے ہتھیار خریدے وہیں یو اے ای نے22ہزار755میلین ڈالر کی حربی خریداری کی۔عمان، مصر، ترکی، عراق کی یہ ہزاروں میلین ڈالر کی خریداریاںآخر کیا ظاہر کرتی ہیں۔ یہ خریداریاں مظہر ہیں کہ ان ملکوں کے حکمرانوں کے پاس اپنی بقا کے لئے ہتھیاروں کے علاوہ کچھ نہیں۔اعلیٰ تعلیم،سائنسی ترقی، تیکناوجیائی ایجادات کا ٹھیکہ تو جیسے وسروں نے اٹھا رکھا ہے۔ترقی یافتہ دنیانے جہاں ایک برقی کتاب فیس بک کے نام سے گھر گھر پہنچادی ،وہیں بیشتر اسلامی دنیا آتشیں ہتھیار بیچنے والوں کی پُر کشش منڈی بنی ہوئی ہے۔
اس پس منظر میں فرانس میں ہلاکت خیز دہشت گردی کا مسلم ملکوں میں ہونے والے پرتشدد اور ہلاکت خیز واقعات سے موازنہ کر کے اس باب کو بند نہیں کیا جاسکتا جسے کھولنے میں راست اور بالواسطہ دونوں طرف کا عمل دخل ہے۔فرانس پر دہشت گردانہ حملے کو جس طرح جنگی اقدام پر محمول کیا گیا ہے وہ کسی صورت عالم اسلام کے لئے فال نیک نہیں۔ایسے میں مسلم دنیا میں ناگزیر انقلاب کا بہت کچھ انحصار مستقبل کے بجائے حال کے منظر نامے میں آنے والی تبدیلی پر ہے۔یہ تبدیلی کتنی مثبت ہوتی ہے یہ تووقت بتائے گا ۔ ہاں!اگر معاملات افہام و تفہیم کے دائرے سے باہر نکلتے ہیں جس کا اغلب اندیشہ اس لئے پایا جاتا ہے کہ مسلم دنیا کے حکمرانوں کو نظریاتی تسلط کی جنگ سے فرصت نہیں ، تو عجب نہیں کہ پرتشد واقعات میں اور اضافہ ہو۔بالفرض ایسا ہوتا ہے تو اس کے نہ صرف اسٹریٹیجک بلکہ دوررس سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔شامی محاذ پر روس کے بڑھتے ہوئے اثرات اور امریکی حاشیہ برداروں کی بگڑتی ہوئی درگت مشرق وسطیٰ میں مفادات کی وہ جنگ چھیڑ سکتی ہے جوبے قابو ہونے پر فریقین میں سے کسی کو راس نہیں آئے گی۔ ہو سکتا ہے کہ داعش کا حشر بھی طالبان جیسا ہو لیکن اس کا فائدہ اٹھانے والے علاقائی کھلاڑی کل تک اس قدر نڈھال ہو چکے ہوں گے کہ امریکی اور روسی حلقوں کا عمل دخل بڑھ جائے گا۔ بالفرض ایسا ہوتا ہے تو مسلم حکمرانوں کی خفت اور عوام کی مایوسی انسانی تہذیب کی تاریخ میں ایک او رسبق آموز باب کا اضافہ کرے گی۔
ان مفروضات کو غلط ثابت کرنے کا مربوط قدم اٹھانے کی مہلت ابھی ختم نہیں ہوئی۔لیکن اس کے لئے شرط ہے کہ مسلم ملکوں کے دانشوران، غیر نظریاتی جامعات کے فارغین اور اقتصادی منصوبہ ساز سر جوڑ کر بیٹھیں اور دہائیوں پر محیط اپنی فروگزاشتوں، غفلتوں، حماقتوں اور رعونتوں کا ایماندارانہ جائزہ لیں تاکہ ذہنی اور جسمانی قوت سمیت تمام تر لا محدود وسائل سے استفادہ کرنے کا کینوس اتنا بڑا کیا جا سکے جو اپنے اندر علاقائی نہیں بلکہ کائناتی حدیں رکھتا ہو۔مستقبل بعید میں جب بھی یہ تبدیلی ممکن ہوگی تسخیر کائنات کے’’ مقصد کُن‘‘ کی تکمیل میں مسلمانوں کا کردار بھی از خود عمل سے عبارت نظر آنے لگے گا۔
آخری بات یہ کہ دہشت گردی کے جواز کے طور پریہ کہنا بھی فرار پسندی ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق، افغانستان اور شام میں کیا کیا۔بلا شبہ غلط کیا ۔لیکن گیارہ ستمبر سے پہلے طالبان افغانستان میں کیا کر رہے تھے! اسی طرح ایک مسلم ملک دوسرے مسلم ملک کے ساتھ نیز ایک ہی ملک کے مسلمان فرقے، مسلک اور مکتب فکر کے اختلاف پر ایک دوسرے کے ساتھ کیسا وحشیانہ سلوک کرتے ہیں! کیا ی یہ بتانے کی ضرورت ہے! تو ضرورت صرف اُس تبدیلی کی ہے جو عصری تقاضے سے ہم آہنگ ہو اور اس ’’ضرورت‘‘ پر مغرب کا اجارہ نہیں ہم خود اس سے بے پروائی برتنے کے خطاوار ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2. nóv. 2015

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
-----------------------------------------
عبدالسلام عاصم
----------------
فرقہ وارانہ ہم آہنگی، امداد باہمی اور یگانگت کا بیڑہ جب لال بجھکڑ قسم کے لوگ بہ کثرت اٹھانے لگتے ہیں تو ان کی انتہا پسندانہ کوششوں کو انجام کار کچھ اس طرح کے افسانوی انجام کا بھی سامانا کرنا پڑتا ہے۔ 
کہتے ہیں ایک جگہ ایک دوسرے سے تقریباً متصل مندر مسجد میں بالترتیب پوجا اور نماز کے اوقات میں تصادم نے جب رفتہ رفتہ فرقہ وارانہ تصادم کی شکل اختیار کر لی تو دونوں طرف کے دیندات حلقوں کی  جانب سے بقائے باہم کی کوشش شروع ہو گئی، لیکن اس کوشش میں بھی بات انتہا کو پہنچ کرہی رہی۔ 
پہلے یہ تجویز رکھی گئی کہ "نماز کے وقت مندر کی گھنٹیاں نہیں بجائی جائیں گی"۔ اس تجویز کی کاٹ میں یہ مانگ کی گئی کہ "بھجن کیرتن کے وقت اذان نہیں دی جائے گی"۔ 
نماز کے طےشدہ اوقات اور بھجن کیرتن کے وقفے پر عدم اتفاق کی وجہ سے جب بات صلح سے دور ہوتی نظر آئی تو دونوں طرف سے مزید گنجائش والے نئے حلقوں نے مداخلت سے کام لینا شروع کیا۔ اس بار اتنی صلح ہوگئی کہ فجر کی اذان اور نماز میں مسلمانوں کو پہلے عبادت کا موقع دے دیا گیا اور مغرب کے بعد عشا سے قبل پہلے مندر میں بھجن کیرتن کی گنجائش نکال دی گئی۔
دوری میں غارت گری کی انتہا کے عادی لوگ بھلا قربت میں کسی اعتدال سے کیسے مطمئں ہو سکتے تھے۔ ابھی چند دن بھی نہیں گزرے تھے کہ مسجد کے احاطے میں رمضان کی افطاری میں ہندووں کو دعوت دیدی گئی۔ پھر کچھ دنوں بعد دسہرہ اور دیوالی میں مندر کا در مسلمانوں کے لئے کھول دیا گیا۔
اس آمد ورفت کی دو طرفہ ٹریفک مرحلہ وار جب خلل کی حد تک بڑھی تو ایسا محسوس ہونے لگا کہ:
چلے جہاں سے تھے پہنچے ہیں پھر وہیں سب لوگ 
ہوا نہ فائدہ کچھ بھی نئی اُڑانوں سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
اس طرح پھر جھگڑوں اور پنچایتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ آر پار کی لڑائی کی باتوں سے افہام و تفہیم کی کوشش تک سبھی سر کھپانے میں لگ گئے۔ ایک سے بڑھ کر ایک تجویز سامنے آنے لگی۔ اس کے باوجود  اتفاق کی صورت دور دور تک نظر نہیں آرہی تھی۔ ایسے میں کسی نے یہ طنز کردیا کہ ذہنوں کو بانٹنے کے وسیلے اب دلوں کو بھی بانٹنے لگےہیں۔ یہ آواز جیسے ہی ہندووں اور مسلمانوں کے کانوں میں پڑی دونوں نے متحد ہوکر طنز کرنے والے کو ملحد قرار دے دیا۔ اس کے بعد اُس کی کیا درگت ہوئی ہوگی اس کا اندازہ برصغیر کے لوگ آسانی سے لگا سکتے ہیں۔
ایک حلقہ  بڑی دیر سے فسطائی اتحاد کے ہاتھوں کسی نہتے پر تشدد کا یہ عجیب و غریب منظر دیکھ رہا تھا۔ اس پرایکدم سے اس قدر رقت طاری ہو گئی کہ ہندو اور مسلمان دونوں مل کر بھی اس پر قابو نہیں پا سکے۔ اس طرح اس ناکامی نے پھر دونوں کو الگ کر دیا۔ 
دونوں اپنے اپنے گھٹن سے بھرے میانوں مین تلواروں کی طرح لوٹ تو گئے لیکن اس سے پہلے کہ مسجد کی اذاں، مندر کی گھنٹی اور کیرتن کا شور دونوں کو قوت سماعت سے محروم کردیتا ایک صوفی اس علاقے میں وارد ہوئے۔ انہوں نے حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ جس کے لئے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں وہ مندر اور مسجد میں نہیں رہتا وہ تو ان کا دلنشیں ہے۔
صوفی کی بات انتہائی اعتدال پسندانہ تھی اس لئے دونوں کے سمجھ میں نہیں آئی۔ دونوں آج بھی اذانوں، مندر کی گھنٹیوں، نمازوں اور کیرتنوں کی ایک ایسی گتھی سلجھانے میں لگے پڑے ہیں جو کسی صورت نہیں سلجھ سکتی خواہ ہفتے میں تین دن پنڈت جی نماز کیوں نہ پڑھانے لگیں اور تین دن مولوی صاحب ناقوس کیوں نہ بجائیں۔ ساتوِیں دن پھر نوبت تصادم تک پہنچ سکتی ہے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار۔