26. des. 2015

ہند پاک رشتوں کا امیدوں بھرا نیا سال 

عبدالسلام عاصم

پچھلے دنوں ایک پاکستانی بلاگ میں کہی جانے والی یہ باتیں اچھی لگیں کہ دہشت گردی کا رونا رونے والے ہند وپاک کے حکمراں جب تک باہمی اختلافات کو مذہبی عینک سے دیکھتے رہیں گے تب تک انتہاپسندی اور دہشت گردی سے نجات نہیں ملنے والی اور ان خرابیوں کی گھنٹیاں سوشل میڈیا اور بگڑے نوجوانوں کے سر باندھنے سے بات نہیں بنے گی بلکہ خود حکمرانوں کو اپنے قول و عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ واقعی انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی کا پچھلے ہفتے عین کرسمس کے دن اچانک پاکستان پہنچ جانا بظاہر اسی عوامی جذبے کی ترجمانی کرتا ہے جس کا ایک پاکستانی بلاگر نے اپنے طور پر اظہار کیا ہے۔مسٹر مودی کے اس دورے پر دونوں ملکوں کے عوام اور سیاست دانوں کے رد عمل سے بھی بالترتیب اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ عوام جس تکلیف سے نجات چاہتے ہیں، سیاستداں راست اور بالواسطہ طور پر اپنی ضرورت سماج پر مسلط رکھنے کے لئے اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ 
مسٹر مودی کے اس دورے کے وقت تو کشیدگی کا کاروبار کرنے والے سناٹے میں آگئے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ پھر دکانیں سجا کر بیٹھ گئے۔ الجزیرہ کو بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری رام مادھو نے ایک انٹرویو میں ہند، پاک اور بنگلہ دیش کے انضمام کی بات چھیڑ دی ہے۔ عجب نہیں کہ کل پاکستان میں بھی کوئی بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کی بات کرنے لگے۔ ان باتوں سے اب بہرحال کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ زائد از ساٹھ برسوں سے ہند پاک کشیدگی، نفرت اور جنگ کے کاروبارکی روٹیاں توڑنے والے ایک دم سے خاموش تو نہیں ہو جائیں گے لیکن وہ بجلی اور سمنٹ کے کاروبار کو بھی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش سے باز نہیں آئیں گے۔
خوشی کے اظہار میں محتاط رہنے کا مشورہ غلط نہیں لیکن ہر وقت بس اندیشوں کی کھوج میں لگا رہنا آخرکس ذہنی صحت مندی کی علامت ہے؟ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ ہند پاک تعلقات کو اپنے انداز سے نیا موڑ دینے کی مسٹر مودی کی کوشش نے دونوں طرف کے شور پسندوں کو ردعمل کے محاذ پراس قدر بے قابو کر دیا ہے کہ انہیں یہ انداز ہی نہیں ہوپا رہا ہے کہ وہ جنون میں کیا کچھ بکے چلے جا رہے ہیں۔بہر حال ایسا نہیں کہ دوسرے محاذ پر سب کچھ عوام رُخی ہے اور محدود مفادا ت کا کہیں کوئی عمل دخل نہیں ۔باوجودیکہ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ مودی شریف لاہور ملاقات کا ایک رُخ تجارتی بھی تھا۔ تب بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس تجارت کی بنیادکسی انفرادی فائدے کے لئے اجتماعی نقصان والی عوام دُشمنی پر نہیں۔اس کے بر عکس دونوں ملکوں کو بعض تعصبات اور بے جا فخر نے کہیں زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔مثلاً ہندو ازم اور اسلام کو اس بری طرح ایک دوسرے کے مد مقابل لا کھڑا کیا گیا کہ نوبت صرف تقسیم ہند تک نہیں پہنچی بلکہ مسلسل آگے بڑھتی رہی۔ یہاں تک کہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے دونوں ملکوں نے ایسی ایجادات سے کام لیا جو نفرت کو دوام بخشتی رہیں۔ دونوں ملکوں کے میزائلوں کے نام ہی اس حوالے سے سرپیٹنے کے لئے کافی ہیں۔
بہر حال سوشل میڈیا کی مہر بانی سے اب ظاہر و باطن کا فرق بہت حد تک مٹنے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے جارحیت پسند رہنما رات دن سوشل میڈیا کو کوستے رہتے ہیں اوریہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش میں لگے رہتے ہیں اس سے نوجوان گمراہ ہو رہے ہیں۔اب انہیں یہ کون بتاے کہ اچھی سے اچھی چیز کا بھی غلط استعمال نقصان پہنچا تا ہے ۔ مذہب کے بے جا استحصال نے ہی آج دنیا کو تہذیبی تصادم کے موڑ تک پہنچا یا ہے۔اب لیکن مرحلہ وار حالات بدل رہے ہیں جس کا میڈیا میں نوٹس بھی لیا جانے لگا ہے۔ جمہوری اقدار اور اعتدال پسندی کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ عجب نہیں کہ لکیر کے فقیر سلسلے کے نئے عہدیداران بھی اس معاملے میں ادراک سے کام لینے لگے ہوں اور ان کی بعض کوششیں خود ان کے حلقو ں کو حیران کرنے لگی ہوں۔مسٹر مودی کے لاہور دورے پر کانگریس اور دوسری اپوزیشن پارٹیوں کے مخالفانہ ردعمل میں جہاں کوئی حیران کن پہلو نہیں وہیں شیو سینا کی مخالفت سے اس کی بہ انداز دیگر تصدیق ہوجاتی ہے۔
مسٹر مودی کے لاہور کے دورے کے دوسرے روز ہندستان اور پاکستان کے اخبارارت میں نظر آنے والی حیرانیوں کا موازنہ کیا جائے تو ایک چیز یہ ضرور نظر آئے گی کہ اخبارات نے مسٹر مودی کے لاہور پہنچنے سے پہلے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے ٹیلیفونی رابطے کے متن کو الگ الگ انداز میں پیش کیا ہے ۔ پاکستانی اخبارا ت یہ تاثر دیتے نظر آئے کہ مسٹر مودی نے کابل سے ہندستان واپسی کے سفر میں پاکستا ن کی فضائی حدود سے گزرنے کے وقفے کو سرزمیں پاکستان پر قدم رکھنے تک بڑھانے کی خواہش ظاہر کی تھی جس کا نواز شریف نے والہانہ احترام کیا۔ہندستانی اخبارات کے مطابق مسٹر مودی نے جب فون پر اپنے پاکستانی ہم منصب کو سالگرہ کی مبارکباد دی تو مسٹر شریف نے مسٹ مودی سے لاہو ر ہوتے ہوئے دہلی لوٹنے کی خواہش ظاہر کی اور مسٹر مودی نے ان کی اس خواہش کا پاس رکھا۔یہ دراصل دو ملکوں کے رہنماوں کی بات چیت کی اخباری ترجمانی کا انداز ہے جسے ضرورت سے زیادہ پڑھنے کی ضرورت نہیں۔اصل چیز ربط ہے۔جس طرح دوریوں کے لئے صرف رابطے کا فقدان کا فی ہے اُسی طرح قربت میں بھی بنیادی حیثیت صرف رابطے کو حاصل ہوتی ہے۔بصورت دیگر ایک ہی محفل میں شریک ہوکر بھی دو لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی بنے رہ سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی مجالس کے شرکا کو اس مرحلے سے گزرتے صحافتی نگاہیں دیکھ چکی ہیں۔
جہاں تک اسٹریٹجیائی ماہرین کا تعلق ہے تو پاکستان کے ساتھ بہتر ہمسائیگی کی دیرینہ کمی ختم کرنے کے لئے انتہائی مطلوب باہمی امن مساعی کی گاڑی دوبارہ پٹری پر لانے کے ارادے سے مسٹر مودی نے حیران کن انداز میں سہی جو قدم اٹھا یا ہے وہ صد لائق تحسین ہے۔ہندستان اور پاکستان کے عام شہریوں کو جہاں اس تبدیلی نے امیدوں سے سر شار کیا ہے وہیں سابق سفارتکاروں اور ریٹائر ہندستانی فوجی جنرلوں نے بھی مسٹر مودی کے خیر سگالانہ جذبے کو ایک اچھی شروعات پر محمول کیا ہے۔وزارت خارجہ کے سابق سکریٹری پنکج رنجن چٹرجی نے جہاں میڈیا سے کہا ہے کہ یہ خیر سگالانہ دورہ ناگزیر تھا وہیں جنرل وید پرکاش ملک کا خیال ہے کہ اس مختصر دورے نے ہندستان اور پاکستان دونوں کے لئے اہم معاملات طے کرنے کی طرف قدم بڑھانے کے لئے لازمی سازگار ماحول فراہم کر دیا ہے۔پاکستانی فوجی حلقوں کی طرف سے اب تک کوئی ایسا ردعمل سامنے نہیں آیاجوامکانات کو اندیشے میں بدل سکتا ہو۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے دورہء لاہور کے بعد کی ناخوشگواریوں کا خسارہ سب کے سامنے ہے ۔دہشت گردی کے محاذ پر درون ملک ایک سے زیادہ ہلاکت خیز تباہیوں کا سامنا کرنے کے بعد ضرب عضب سے کام لینے پر مجبور پاکستانی فوجی ادارے اس نئی تبدیلی سے کس طرح خود کو ہم آہنگ کر پاتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گالیکن اتنا طے نظر آتا ہے کہ ہند پاک کشمیررُخی کشیدگی کو دہشت گردی کے رخ پر آگے بڑھانے والوں کے حوصلے آنے والے دنوں میں شاید اتنے بلند نظر نہ آئیں جو اس ملاپ کو شرمندہ کردیں۔ ہندستان نے بھی غالباً کرگل ردعمل کو سامنے رکھتے ہوئے اس مرتبہ صرف نواز شریف تک اپنی رسائی محدود نہیں رکھی بلکہ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر کے ذریعہ فوجی سپہ سالار اعظم راحیل شریف کو بھی بالواسطہ شامل سفر رکھا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیران کی ملاقاتوں کی راہ ہموار رکھی گئی ہے اور ہندستاں نے پاکستانی نفسیات کو سمجھتے ہوئے جموں و کشمیر کو بھی ایک موضوع کے طور پر شامل معاملات رکھا ہے۔ 
نئے سال کا آغاز ہند پاک رشتوں میں جن امیدوں کے ساتھ ہونے جارہا ہے ۔ اسے سیاسی بدنگاہی سے بھی بچانے کی ضرورت ہے ۔ درون ملک ناگزیر سیاسی اختلافات کو سرحدی رشتے بنانے بگاڑنے کی حد تک بڑھانے سے بچانے کی ذمہ داری اپوزیشن سے زیادہ حکمراں حلقے پر عائد ہوتی ہے ۔مسٹر مودی کے اچانک لاہور پہنچ جانے پر کانگریس کا ردعمل غیر موافق ہی نہیں غیر صحتمند بھی ہے جو ایک ایسی پارٹی سے متوقع نہیں تھی جس کا راست رشتہ ملک کی آزادی کی تحریک سے ہی نہیں بلکہ آزاد ہندستان کے سیکولر کردار کو دوسروں کے لئے لائق تقلید بنانے سے بھی ہے۔

Engin ummæli:

Skrifa ummæli