1. des. 2015


رواداری خوف کو ’’دور‘‘کرنا ہے ’’مسترد ‘‘ کرنا نہیں

عبدالسلام عاصم

رواداری معاشرتی زندگی کا وہ تہذیبی عنصر ہے جس کے لئے اتفاق رائے کی کوشش میں الجھنے سے زیادہ اختلافات کے ساتھ جینے کا ہُنر سیکھنا ضروری ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کسی کے موقف سے راضی ہونے کے بجائے عدم اتفاق سے اتفاق کیا جائے ۔ عملی زندگی میں اسے یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ عدم رواداری معاشرے میں ایک توازن برقرار رکھنے کی خواہش ہے جس کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ اتفاق رائے کی ایسی خارجی کوششوں سے گریز کیا جائے جو داخلی جذبات کو بھڑکا سکتی ہوں۔
اس تمہید کے ساتھ کہیں دور جانے کے بجائے اگرعامر خان ایپی سوڈ تک بات محدود رکھی جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ اس معاملے میں کسی کے خوف کو’’ دور‘‘ کرنے کے بجائے اسے’’ مسترد‘‘ کرنے کی جو کوشش کی گئی دراصل وہی ’’عدم رواداری ‘‘ہے ۔اس عدم براشت کی طرف حالیہ دنوں میں کئی لوگوں اور حلقوں نے ملک و ملت کی توجہ مبذول کرائی لیکن میڈیا جسے نشر واشاعت کے محاذ پر مالی منفعت کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا چن چن کر ان لوگوں کی باتیں پیش کرتا رہا جو عامر خان کی موافقت اور مخالفت میں عدم برداشت کا ہی مظاہرہ کر رہے تھے۔
عام آدمی جو صرف الیکشن میں ووٹ ڈالنے تک اپنی فکر یا جذبات سے کام لیتا ہے دونوں طرف کی باتیں سن کرخوف پھیلانے والوں سے نالاں اور خوفزدہ حلقے میں سر پھروں کی طرف سے اوٹ پٹانگ دفاعی قدم اٹھائے جانے کے اندیشوں کی طرف سے پریشان تھا کہ اسی دوران پارلیمنٹ کا اجلاس سرما شروع ہو گیا۔اخبارات نے اس اجلاس کے حوالے سے بھی ایسی ایسی پیشن گوئیاں کررکھی تھیں کہ امن پسندوں کی آنکھوں کے سامنے مایوسی کا کہرا چھا گیاتھا۔
کہتے ہیں ہر تکلیف کے فطری ازالے کی صورت انسانی سوچ کے اندر از خود طور پر موجود ہوتی ہے اور سمجھدار آدمی اس کا بروقت استعمال کر کے حالات پر قابو پا لیتا ہے۔ پارلیمنٹ میں دستور ہند کے تئیں عہد بندی پر بحث میں بھی دوسرے دن کچھ ایسا ہی ہوا۔اس بحث کے تکمیلی مرحلے میں کسی اعتراض کا جواب اعتراض سے دینے اور اپنے حلقے کو خوش کرنے تک محدود رہنے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی نے رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حیرت انگیز طور پر جو باتیں کیں وہ آئین کے تعلق سے خوف کے ماحول کو ’’مسترد ‘‘کرنے کے بجائے ’’دور‘‘ کرتی نظر آئیں۔خاص طور پر ان کا یہ کہنا کہ ملک کی ترقی میں پنڈت نہرو سمیت تمام سابقہ حکومتی سربراہوں کی خدمات شامل ہیں، ان کے سیاسی مخالفین بشمول سونیا اور راہل گاندھی کو ہی نہیں اُن کے اپنے حلقے میں یکطرفہ سوچ رکھنے والوں کو بھی حیران کر گیا۔
دوقومی نظرئیے کی تاب نہ لاکر دولخت ہو جانے والے ہندستان کی شاید یہی سب سے بڑی خوبی ہے کہ وہ اپنے سیکولر کردار سے کسی حالت میں دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ ہندستان اس وقت بھی سیکولر تھا جب یہ لفظ مقدمہء دستور کا حصہ نہیں تھا اورآج بھی یہ ملک پوری طرح سیکولر ہے۔ یہ الگ بحث ہے کہ مذاہب کی طرح سیکولرزم کا بھی بے جا استحصال ہوا ہے۔ مذاہب کا استحصال جس طرح مذہبی ٹھیکدار کرتے ہیں دہریت کے علمبردار نہیں۔اسی طرح سیکولرزم کو بھی اُس کا دھندہ کرنے والوں نے نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی کسی غیر سیکولر حلقے نے نہیں۔بی جے پی کی قیادت میں حسب سابق این ڈی اے دوئم کی حکومت کابھی ایک تائیدی حلقہ چونکہ اپنے مذہبی رجحان میں شدت کی وجہ سے زیادہ سرخیوں میں رہتا ہے اس لئے اکثر ایسے اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے معاشرتی توازن میں خلل پڑتا رہتا ہے۔باوجودیکہ معاملہ فہمی کے مر حلے میں عدم رواداری پر رواداری کو ہی کامیاب پایا گیا ۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسے موقعوں پر زندگی کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرنے والے لوگ حسب توفیق دکانداری بھی کر لیتے ہیں ۔اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہوا جسے کل بھی ٹالا نہیں جا سکتا۔
ویسے پچھلے چند مہینوں کے دوران ایک سے زیادہ ایسے واقعات پیش آئے جو سیاست ، معاشرت اور معیشت کے طالب علموں کوبظاہر اُن کی نصابی کتابوں سے زیادہ فائدہ پہنچا گئے ۔ بہار کے الیکشن میں مسٹر مودی، امت شاہ، نتیش کمار اور لالو پرسا یادو کی ایک سے زیادہ انتخابی تقاریر (جو صدا بندی اور عکس بندی کے مرحلوں سے گزر کر اب محفوظ ریکارڈ کا حصہ ہیں) سب سے پہلے جو ثابت کرتی ہیں وہ یہ ہے کہ ان رہنماوں نے ایک سے زیادہ جلسوں میں جو باتیں کیں ان میں سے بیشتر باتیں ان کی اُس وقت کی کاروبای مجبوریاں تھیں۔ یہ مجبوری مختلف شعبہ ہائے زندگی کے حوالے سے اپنی پہچان بنانے ( بعض اوقات بھُنانے)والوں کا قومی علاقائی اور عالمی سطحوں پرپیچھا کرتی رہتی ہیں ۔ اسی طرح ادب، آرٹ اور فلم کی دنیا بھی فنون کی خدمت کے ساتھ کاروباری سہولتوں پر بھی نظر رکھتی ہے۔ادیبوں اور ناقدوں کی بیشتر لڑائیاں بھی کاروباری لحاظ سے نورا کشتی ہوتی ہیں ۔ دونوں اپنے اپنے طور پر اسے کیش کرتے ہیں۔اسی طرح فلمیں بھی کامیابی کے لئے ریلیز سے پہلے اخبارات سے منی اسکرین تک ایک سے زیادہ تشہیری مرحلوں سے گزرتی ہیں ۔ کبھی کبھی اس کاروبار میں بھی غیر ضروری تنازعے کا سہارا لیا جاتا ہے ۔بالی ووڈ کے ایک سے زیادہ خانان بھی اس سے الگ نہیں۔ اس لئے کہا جا سکتا ہے کہ عامر خاں نے بھی عدم رواداری کے تعلق سے اپنے اظہار خیال میں کسی نشانہ بندی سے کام لیا ہو۔مجموعی حالات کے پیش نظر یہ محض ایک اندازہ ہے جوچانکیہ کے اگزٹ پول کی طرح کسی ایک کے حق میں مرتب کردہ نہیں ۔ اس کے باوجود ضروری نہیں کہ ایسا ہی ہوا ہو ۔یہ اندازہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔
ہمارے ایک عزیز کا کہنا ہے کہ رواداری اور عدم برداشت میں بہ انداز دیگرچولی دامن کا ساتھ ہے ۔اس کی مثال انہوں نے اس طرح دی کہ ازدواجی زندگی کے باہمی احترام پر مبنی اصول سے الگ ہٹ کر بھی کچھ گھرانوں میں ازدواجی سلسلہ کسی ٹوٹ پھوٹ کے بغیر اس لئے جاری رہتا ہے کہ وہاں فریق ثانی (خاص طور پر بیوی) عزت نفس کا سبق بھول کر صرف اور صرف اتفاق سے کام لیتا ہے۔جبر اور صبر میں اس مفاہمت کی جو مثالیں دی جاتی ہیں وہ کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے مشروط نہیں۔ممنوعات ، معیوبات ، پرہیز اور گریزکی یکطرفہ فہرست کے ساتھ اخلاقیات مرتب کرنے والے معاشروں میں اس صورتحال کی نظیر عام ہے۔
بدقسمتی سے ایسے ماحول کے لوگ جب کثرت پر مبنی سماج کی ٹھیکداری میں بھی حصہ لینے لگتے ہیں تو ان کی تمام تر کوشش ہوتی ہے کہ کسی ایسی تبدیلی کو راہ نہ دی جائے جو ان کی روایتی بالا دستی ختم کر دے۔ پارلیمنٹ میں خواتین کے لئے ریزرویشن کی بات اگر آج بھی بے نتیجہ بحث تک محدود ہے تو اس کے ذمہ دار وہی عناصر ہیں جو رواداری کے لئے ایسی کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے جن سے وہ اتفاق نہیں اختلاف رکھتے ہوں۔بہر حال مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ دستور ہند کے تئیں عہد بندی پر پارلیمنٹ میں دو روزہ بحث میں جہاں ایک سے زیادہ موقعوں پر رواداری اور عدم برداشت کے حوالے سے بات کی گئی ۔پریس گیلری میں موجود میرے میڈیا ساتھیوں نے بھی محسوس کیاکہ نئی نسل کی نمائندگی کرنے والے ارکان پارلیمنٹ اپنی تمام تر جماعتی وابستگی کے باوجود جمہوری صحت کے لئے اختلاف رائے کو اہمیت دیتے نظر آئے ۔

Engin ummæli:

Skrifa ummæli