21. nóv. 2015


مفروضات کو غلط ثابت کرنا ہماری ذمہ اری

عبدالسلام عاصم

الزامات میں چاروں طرف سے گھر جانے کے بعد بچ نکلنے کا ایک شاطر راستہ یہ ہوتاہے کہ ہر الزام کو ایک نیا مفہوم دے دیا جائے اور معاملات کو اس بری طرح الجھا دیا جائے کہ ہر وضاحت میں سے سازش کی بو آنے لگے۔کچھ ایسے ہی حالات ان دنوں عالم اسلام کو درپیش ہیں۔ماضی میں دوسری اقوام بھی اس سے گزر چکی ہیں۔ وہ زمانہ اطلاعاتی تیکنا لوجی کے محاذ پر اتنا ترقی یافتہ نہیں تھا اس لئے بہت سی باتیںآئینے کی طرح صا ف نہیں۔باوجودیکہ بین السطور مطالعہ اتنا ضرور واضح کر دیتا ہے کہ متاثرہ قوموں کے لئے یہ مرحلہ اُس وقت دشوار تر بن جاتا ہے جب اس سے دوٹوک نمٹنے کے بجائے نظریں چرانے اور حیلے گڑھنے میں وقت ضائع کیا جاتا ہے۔
گیارہ ستمبر کا دہشت گردانہ سانحہ گزرے چودہ سال ہو گئے۔ ان چودہ برسوں میں عالم اسلام اس کی چودہ گنا قیمت ادا کر چکا ہے لیکن آج بھی اس واقعے کو ایک نیا مفہوم دینے اور سامنے کی باتوں سے غیر ضروری نتیجہ اخذ کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہماری مظلومیت تک کو مشکوک سمجھا جانے لگا ہے۔ایک سے زیادہ عالمی مجالس میں ہماری موجودگی محض حاضری لگوانے کی حد تک ہے ۔ کوئی بھی مسلم ملک یا مسلمانوں کا عالمی ادارہ اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ کوئی ایسا تاثر دے سکے جس پر اقوام عالم کو انحصارکرکے آگے بڑھنے میں عار نہ ہو۔
شیخ الجامعہ ازہر احمد طیب کا یہ کہنا قولاً غلط نہیں کہ اللہ اکبر کے نعرے کے ساتھ کسی جرم کے ارتکاب کا مستند اسلام سے کوئی تعلق نہیں لیکن اسی کے ساتھ ان کا یہ کہنا الزامات میں گھرنے سے بچنے کی کوشش نظر آتی ہے کہ دہشت گرد ذیلی مذہبی پیداوارنہیں۔ہر چند کہ انہوں نے اپنی اس وضاحت کا ائرہ اسلام تک محدود نہیں رکھا بلکہ یہ کہنے کو ترجیح دی کہ دہشت گرد کسی بھی’’ براہیمی مذہب کا بائی پروڈکٹ‘‘ نہیں لیکن کیا اس سے عملاًحالات کو بدلنے میں کوئی مدد ملے گی۔ اس کا دوٹوک جوب’’نہیں‘‘ ہے اور یہ نہیں ہمارے ماننے نہ ماننے کی شرط سے مشروط نہیں ۔
مسلمانوں کے حق میںیہ صورت ایکدم سے پیدا نہیں ہوئی۔اس کے لئے صدیاں خراب کی گئی ہیں۔سائنسی ترقی کا مذاق اڑایا گیا ہے ۔کھلی آنکھوں سے یہ دیکھنے کے باوجود کہ ’’ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں‘‘ جامد تصورات میں ملت کو الجھا کر سیاسی حکمرانوں،سماجی اور مذہبی ٹھیکیداروں نے اپنے محدودد مفادات کے تحفظ کاکاروبار کیا ہے۔عام مسلمانوں کی آج حالت یہ ہے کہ ان کے لئے ایک طرف دین کا راستہ انتہا پسندوں نے دشوار کر رکھا ہے تودوسری جانب دنیا کے راستے میں ہر قدم پر انہیں اُن اقوام کا سامنا ہے جو اسلام کے نام پر دہشتگردی کی زد میں ہونے کی وجہ سے اُن پر بھروسہ نہیں کرتیں۔اس طرح بعض تعلیم یافتہ مسلم نوجوان یاتو حالات کی زد میںآکر بکھر جاتے ہیں یا پھراُسی راستے پر چل پڑتے ہیں جس کے حوالے سے ان کی پہچان بنا دی گئی ہے۔
سیاق و سباق سے ہٹ کر رات دن کی اس رٹ نے کہ ’’یہود و نصارا کو دوست نہ بنانا‘‘ آج مسلمانوں کوجس آزمائش میں مبتلا کر رکھا ہے وہ ہرگز مصلحت خداوندی نہیں بلکہ اپنی کرنی کی سزا ہے اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ بیشتر مسلم ملکوں میں مسلمان داخلی تشدد اور جنگی جنون میں مبتلا ہیں۔ہر وقت یہ کہنا کہ کچھ گمراہ لوگوں کو استعمال کیا جارہاہے آخر کیا مطلب رکھتا ہے۔اس طرح کا استدلال کرنے والے کبھی خود احتسابی سے کام کیوں نہیں لیتے۔کیا انہیں نہیں معلوم کہ موالی ہمیشہ تھوڑے ہی ہوتے ہیں جو اچھی خاصی آبادی کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔پھر ایک مرحلے پر پولس سے ان کی ساز باز ہو جاتی ہے۔ داعش ، القاعدہ اور ایسی دوسری دہشت گرد تنظیمیں اسی زمرے میں آتی ہیں اور ہتھیار بیچنے والوں نے ان سے ساز باز کر رکھی ہے تو کیا ان موالیوں کو پیدا کرنے اور اپنے آنگن میں پرورش کاموقع فراہم کرنے کے لئے ہم کسی بھی طرح ذمہ دار نہیں۔
شیعہ، سنی، احمدی،سلفی، وہابی، بریلوی، دیوبندی پتہ نہیں کتنی تکفیری اصطلاحیں ہیں جن میں الجھا کر ہم نے قوم کے لئے اتنی فرصت ہی چھوڑی نہیں کہ وہ تسخیر کائنات کا سائنسی سبق ’’بھی‘‘پڑھ سکے ۔ جومعدودے چند یہ سبق پڑھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں انہیں غیر مانوس دنیا کے لوگ انسان کم اور مسلمان زیادہ سمجھ کر یا تو فاصلہ قائم کر لیتے ہیں یا پھر اُن طالب علموں کو اندیشوں اور شک و شبہے کی بھینٹ چڑھ جانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ان سب کے لئے سرے سے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرا دینا آسان تو ہے لیکن اس سے وہ حالات نہیں بدلیں گے جوہمارے اشتراک عمل کا نتیجہ ہیں۔ ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہوگا اور اپنے حصے کے گناہ کی از خود تلافی سے کام لینا ہوگا۔ 
جنگی جنون کا جو منظر نامہ ہمارے سامنے ہے اس کے حوالے سے پچھلے دنوں اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ(سوئیڈن) کی ایک رپورٹ دیکھ کر حیرانی کم کوفت زیادہ ہوئی کہ پچھلے سال سعودی عرب، عمان، یو اے ای اور ترکی ہتھیاروں کی خریداری میں سر فہرست رہے۔2014 میں سعودی عرب نے جہاں 80ہزار72میلین ڈالر کے ہتھیار خریدے وہیں یو اے ای نے22ہزار755میلین ڈالر کی حربی خریداری کی۔عمان، مصر، ترکی، عراق کی یہ ہزاروں میلین ڈالر کی خریداریاںآخر کیا ظاہر کرتی ہیں۔ یہ خریداریاں مظہر ہیں کہ ان ملکوں کے حکمرانوں کے پاس اپنی بقا کے لئے ہتھیاروں کے علاوہ کچھ نہیں۔اعلیٰ تعلیم،سائنسی ترقی، تیکناوجیائی ایجادات کا ٹھیکہ تو جیسے وسروں نے اٹھا رکھا ہے۔ترقی یافتہ دنیانے جہاں ایک برقی کتاب فیس بک کے نام سے گھر گھر پہنچادی ،وہیں بیشتر اسلامی دنیا آتشیں ہتھیار بیچنے والوں کی پُر کشش منڈی بنی ہوئی ہے۔
اس پس منظر میں فرانس میں ہلاکت خیز دہشت گردی کا مسلم ملکوں میں ہونے والے پرتشدد اور ہلاکت خیز واقعات سے موازنہ کر کے اس باب کو بند نہیں کیا جاسکتا جسے کھولنے میں راست اور بالواسطہ دونوں طرف کا عمل دخل ہے۔فرانس پر دہشت گردانہ حملے کو جس طرح جنگی اقدام پر محمول کیا گیا ہے وہ کسی صورت عالم اسلام کے لئے فال نیک نہیں۔ایسے میں مسلم دنیا میں ناگزیر انقلاب کا بہت کچھ انحصار مستقبل کے بجائے حال کے منظر نامے میں آنے والی تبدیلی پر ہے۔یہ تبدیلی کتنی مثبت ہوتی ہے یہ تووقت بتائے گا ۔ ہاں!اگر معاملات افہام و تفہیم کے دائرے سے باہر نکلتے ہیں جس کا اغلب اندیشہ اس لئے پایا جاتا ہے کہ مسلم دنیا کے حکمرانوں کو نظریاتی تسلط کی جنگ سے فرصت نہیں ، تو عجب نہیں کہ پرتشد واقعات میں اور اضافہ ہو۔بالفرض ایسا ہوتا ہے تو اس کے نہ صرف اسٹریٹیجک بلکہ دوررس سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔شامی محاذ پر روس کے بڑھتے ہوئے اثرات اور امریکی حاشیہ برداروں کی بگڑتی ہوئی درگت مشرق وسطیٰ میں مفادات کی وہ جنگ چھیڑ سکتی ہے جوبے قابو ہونے پر فریقین میں سے کسی کو راس نہیں آئے گی۔ ہو سکتا ہے کہ داعش کا حشر بھی طالبان جیسا ہو لیکن اس کا فائدہ اٹھانے والے علاقائی کھلاڑی کل تک اس قدر نڈھال ہو چکے ہوں گے کہ امریکی اور روسی حلقوں کا عمل دخل بڑھ جائے گا۔ بالفرض ایسا ہوتا ہے تو مسلم حکمرانوں کی خفت اور عوام کی مایوسی انسانی تہذیب کی تاریخ میں ایک او رسبق آموز باب کا اضافہ کرے گی۔
ان مفروضات کو غلط ثابت کرنے کا مربوط قدم اٹھانے کی مہلت ابھی ختم نہیں ہوئی۔لیکن اس کے لئے شرط ہے کہ مسلم ملکوں کے دانشوران، غیر نظریاتی جامعات کے فارغین اور اقتصادی منصوبہ ساز سر جوڑ کر بیٹھیں اور دہائیوں پر محیط اپنی فروگزاشتوں، غفلتوں، حماقتوں اور رعونتوں کا ایماندارانہ جائزہ لیں تاکہ ذہنی اور جسمانی قوت سمیت تمام تر لا محدود وسائل سے استفادہ کرنے کا کینوس اتنا بڑا کیا جا سکے جو اپنے اندر علاقائی نہیں بلکہ کائناتی حدیں رکھتا ہو۔مستقبل بعید میں جب بھی یہ تبدیلی ممکن ہوگی تسخیر کائنات کے’’ مقصد کُن‘‘ کی تکمیل میں مسلمانوں کا کردار بھی از خود عمل سے عبارت نظر آنے لگے گا۔
آخری بات یہ کہ دہشت گردی کے جواز کے طور پریہ کہنا بھی فرار پسندی ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق، افغانستان اور شام میں کیا کیا۔بلا شبہ غلط کیا ۔لیکن گیارہ ستمبر سے پہلے طالبان افغانستان میں کیا کر رہے تھے! اسی طرح ایک مسلم ملک دوسرے مسلم ملک کے ساتھ نیز ایک ہی ملک کے مسلمان فرقے، مسلک اور مکتب فکر کے اختلاف پر ایک دوسرے کے ساتھ کیسا وحشیانہ سلوک کرتے ہیں! کیا ی یہ بتانے کی ضرورت ہے! تو ضرورت صرف اُس تبدیلی کی ہے جو عصری تقاضے سے ہم آہنگ ہو اور اس ’’ضرورت‘‘ پر مغرب کا اجارہ نہیں ہم خود اس سے بے پروائی برتنے کے خطاوار ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Engin ummæli:

Skrifa ummæli