2. nóv. 2015

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
-----------------------------------------
عبدالسلام عاصم
----------------
فرقہ وارانہ ہم آہنگی، امداد باہمی اور یگانگت کا بیڑہ جب لال بجھکڑ قسم کے لوگ بہ کثرت اٹھانے لگتے ہیں تو ان کی انتہا پسندانہ کوششوں کو انجام کار کچھ اس طرح کے افسانوی انجام کا بھی سامانا کرنا پڑتا ہے۔ 
کہتے ہیں ایک جگہ ایک دوسرے سے تقریباً متصل مندر مسجد میں بالترتیب پوجا اور نماز کے اوقات میں تصادم نے جب رفتہ رفتہ فرقہ وارانہ تصادم کی شکل اختیار کر لی تو دونوں طرف کے دیندات حلقوں کی  جانب سے بقائے باہم کی کوشش شروع ہو گئی، لیکن اس کوشش میں بھی بات انتہا کو پہنچ کرہی رہی۔ 
پہلے یہ تجویز رکھی گئی کہ "نماز کے وقت مندر کی گھنٹیاں نہیں بجائی جائیں گی"۔ اس تجویز کی کاٹ میں یہ مانگ کی گئی کہ "بھجن کیرتن کے وقت اذان نہیں دی جائے گی"۔ 
نماز کے طےشدہ اوقات اور بھجن کیرتن کے وقفے پر عدم اتفاق کی وجہ سے جب بات صلح سے دور ہوتی نظر آئی تو دونوں طرف سے مزید گنجائش والے نئے حلقوں نے مداخلت سے کام لینا شروع کیا۔ اس بار اتنی صلح ہوگئی کہ فجر کی اذان اور نماز میں مسلمانوں کو پہلے عبادت کا موقع دے دیا گیا اور مغرب کے بعد عشا سے قبل پہلے مندر میں بھجن کیرتن کی گنجائش نکال دی گئی۔
دوری میں غارت گری کی انتہا کے عادی لوگ بھلا قربت میں کسی اعتدال سے کیسے مطمئں ہو سکتے تھے۔ ابھی چند دن بھی نہیں گزرے تھے کہ مسجد کے احاطے میں رمضان کی افطاری میں ہندووں کو دعوت دیدی گئی۔ پھر کچھ دنوں بعد دسہرہ اور دیوالی میں مندر کا در مسلمانوں کے لئے کھول دیا گیا۔
اس آمد ورفت کی دو طرفہ ٹریفک مرحلہ وار جب خلل کی حد تک بڑھی تو ایسا محسوس ہونے لگا کہ:
چلے جہاں سے تھے پہنچے ہیں پھر وہیں سب لوگ 
ہوا نہ فائدہ کچھ بھی نئی اُڑانوں سے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 
اس طرح پھر جھگڑوں اور پنچایتوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ آر پار کی لڑائی کی باتوں سے افہام و تفہیم کی کوشش تک سبھی سر کھپانے میں لگ گئے۔ ایک سے بڑھ کر ایک تجویز سامنے آنے لگی۔ اس کے باوجود  اتفاق کی صورت دور دور تک نظر نہیں آرہی تھی۔ ایسے میں کسی نے یہ طنز کردیا کہ ذہنوں کو بانٹنے کے وسیلے اب دلوں کو بھی بانٹنے لگےہیں۔ یہ آواز جیسے ہی ہندووں اور مسلمانوں کے کانوں میں پڑی دونوں نے متحد ہوکر طنز کرنے والے کو ملحد قرار دے دیا۔ اس کے بعد اُس کی کیا درگت ہوئی ہوگی اس کا اندازہ برصغیر کے لوگ آسانی سے لگا سکتے ہیں۔
ایک حلقہ  بڑی دیر سے فسطائی اتحاد کے ہاتھوں کسی نہتے پر تشدد کا یہ عجیب و غریب منظر دیکھ رہا تھا۔ اس پرایکدم سے اس قدر رقت طاری ہو گئی کہ ہندو اور مسلمان دونوں مل کر بھی اس پر قابو نہیں پا سکے۔ اس طرح اس ناکامی نے پھر دونوں کو الگ کر دیا۔ 
دونوں اپنے اپنے گھٹن سے بھرے میانوں مین تلواروں کی طرح لوٹ تو گئے لیکن اس سے پہلے کہ مسجد کی اذاں، مندر کی گھنٹی اور کیرتن کا شور دونوں کو قوت سماعت سے محروم کردیتا ایک صوفی اس علاقے میں وارد ہوئے۔ انہوں نے حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ جس کے لئے ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں وہ مندر اور مسجد میں نہیں رہتا وہ تو ان کا دلنشیں ہے۔
صوفی کی بات انتہائی اعتدال پسندانہ تھی اس لئے دونوں کے سمجھ میں نہیں آئی۔ دونوں آج بھی اذانوں، مندر کی گھنٹیوں، نمازوں اور کیرتنوں کی ایک ایسی گتھی سلجھانے میں لگے پڑے ہیں جو کسی صورت نہیں سلجھ سکتی خواہ ہفتے میں تین دن پنڈت جی نماز کیوں نہ پڑھانے لگیں اور تین دن مولوی صاحب ناقوس کیوں نہ بجائیں۔ ساتوِیں دن پھر نوبت تصادم تک پہنچ سکتی ہے۔ فاعتبرو یا اولی الابصار۔

Engin ummæli:

Skrifa ummæli