بہار الیکشن فرقہ وارانہ اور علاقائی فسطائیت کی نذر
----------------------------------------------------
عبدالسلام عاصم
----------------
12اکتوبر تا 05نومبربہار اسمبلی کے جاری انتخابات کے نتائج 08 نومبر کو خواہ کچھ بھی سامنے آئیں جس کا اندازہ ایک سے زیادہ حلقوں کو ہو چکا ہے۔ اس الیکشن کو انتخابی کمیشن بھی فرقہ وارانہ اور علاقائی فسطائیت کی نذر ہونے سے نہیں بچا سکا۔چہرہ اور قیافہ شناسی کے ذریعہ اپنی آرا ظاہر کرنے والوں کا خیال یہ ہے کہ قومی جمہوری اتحاد کے نام پر فرقہ وارانہ بکھراو کو کیش کرنے میں بے روک مصروف بی جے پی اورانتخابی اتحاد تک محدود نیتیش لا لوگٹھ بندھن کے درمیان اسمبلی مقابلے کے ایک سے زیادہ مرحلوں کی آزمائش میں بالآخربہاری بمقابلہ باہری کا غیر صحت مند نعرہ زیادہ کام کر گیا ہے۔بالفرض حتمی نتائج پر اس نعرے کا اثر اگر فرقہ وارانہ انتخابی مہم کو ناکام بنا دیتی ہے تب بھی اس الیکشن میں جس طرح فرقہ وارانہ اور علاقائی فسطائیت کا مظاہرہ کیا گیا ہے اُس سے ملک وقوم کے حق میں وسیع تر اتحاد کے کاز کو نقصان ہی پہنچے گا جو ہندستان جیسے ملک کی ہمہ جہت بقا کے لئے ناگزیر ہے۔
مرکز میں حکمراں قومی جمہوری اتحاد اور ریاست میں بنیادی طور پرآرجے ڈی متحدہ جنتا دل مہاگٹھ بندھن کے رہنماوں نے ایک سے زیادہ بلکہ ان گنت الیکشنی دوروں، ریلیوں،تقاریر اور ایک دوسرے کی کاٹ والے تبصروں میں جو زہر اگلا ہے وہ اگر قوم کی رگوں میں کامل طور پر سرایت کر گیا توسائنسی ارتقا کا سفر جہاں دہائیوں کے لئے تھم کر رہ جائے گا وہیں علاج کے لئے جھاڑ پھونک کی کوششیں معکوس ترقی کے ایسے نمونے بھی سامنے لا سکتی ہیں جنہیں دیکھ کر پاکستان تو کیا قدامت پسند سے قدامت پسند حلقوں میں بھی پٹاخے چھوٹ سکتے ہیں۔
بہار الیکشن ایک طرف جہاں اقلیتی ووٹ بینک، ذات پات کی انتخابی سیاست اوراُس سے آگے بڑھ کرغیر معلنہ ہندوووٹ بینک کے خطرناک اور انتہائی انتشارپسندمحرکات کے ساتھ آگے بڑھا ہے، وہیںیہ الیکشن ملک کے سیکولر اور انصاف پسند حلقوں بالخصوص کانگریس کی وہ بے بسی بھی سامنے لاتا جس میں اُنہیں اپنے ان گناہوں کا کفارہ دا کرنے سے فرصت نہیں۔ اس بے بسی کے نتیجے میں محدود نظریاتی سوچ رکھنے والے لیڈروں کا (بلاا امتیاز دین دھرم آگہی کے نام پر) واہموں کے شکار عام لوگوں تک رسائی کا دائرہ کس قدر وسیع ہوا ہے اس کا اندازہ ہر اُس حوالے سے لگا یا جا سکتا ہے جس میں کسی بھی سوال یا اجتہادی سوچ کو امکانات کے رخ پر دیکھنے اور سمجھنے کے بجائے اندیشوں اور وسوسوں سے کام لینا شروع کر دیا جاتا ہے۔
ہندووں میں ستی کی نام نہاد مذہبی رسم کے انجام کار خاتمے سے مسلمانوں میں تین طلاق کی بدعت کے خلاف دہائیوں سے جاری جدو جہد تک کسی بھی اجتہادی کوشش پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو پتہ چل جائے گا کہ بحیثیت قوم ارتقا کے سفر میں ہم کہاں کھڑے ہیں۔ ستی پر پابندی کے خیر مقدم میں اجتماعی خوشی کو کل جس طرح ایک دوسرے کی رسموں کی تضحیک کے جذبے نے ہائی جیک کر لیا تھا ٹھیک اُسی طرح آج ایک ساتھ تین طلاق کی موافقت اور مخالفت کابیڑہ زیادہ تر غیر صحت مند سوچ رکھنے والوں نے اٹھا رکھا ہے جنہیں کسی بھی مسئلے کے حل کی محنت طلب نفسیاتی کوشش سے کوئی غرض نہیں ہوتا ۔ وہ محض اپنے اعتراض یا تائید کے حق میں ان لوگوں سے نعرے لگوانا چاہتے ہیں جو بھیڑکی شکل میں ان کی طاقت کی پہچان ہوتے ہیں اور ووٹوں کی اہمیت سمجھیں یا نہ سمجھیں بیلٹ پیپر پر ایک منتخب نام یا پہچان کے سامنے کا بٹن بے سوچے دبا سکتے ہیں۔
اس جملہ معترضہ سے ہٹ کر دیکھا جا ئے تو فرقہ واریت، فسطائیت خاص طور پر مرکز میں حکومت وقت کی مجموعی معاشرتی روش کے خلاف ایک سے زیادہ نمائندہ حلقوں کے عملی احتجاج سے عبارت پچھلے مہینے کے آخری دن ہمارے جمہوری طور پر منتخب وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندستان کی آزادی کے ممتاز محرکین میں سے ایک مجاہد آزادی سردار ولبھ بھائی پٹیل کی 140 ویں سالگرہ پر قومی راجدھانی نئی دہلی میں وحدت کے رُخ پر پیش قدی کو ہری جھنڈی دکھانے کے موقع کو بھی محدود مفادات کے لئے استعمال کرنے سے مطلق گریز نہیں کیا۔وزیر اعظم نے قومی اتحاد اور یک جہتی کے حوالے سے انہی باتوں پر زور دیا جو ان کی اور ایک مخصوص حلقے کی محدودکی ترجمانی کرتی ہے۔راج پتھ پر مجتمع بھیڑ سے اپنے خطاب میں ایک طرف جہاں انہوں نے سردار پٹیل کی زندگی سے ملک و قوم کے حق میں اتحاد و یک جہتی کی تحریک حاصل کرنے کی تلقین کی اور بجا طور پر کہا کہ ’’اتحاد ہی ہماری سب سے بڑی طاقت ہے‘‘وہیں دوسرے ہی لمحے یہ کہہ کربھیڑ کے ساتھ ساتھ پوری قوم کی توجہ انتخابی سیاسی رقابت کی طرف موڑ دی کہ آنجہانی پٹیل موروثی یا خاندانی سیاست پر یقین نہیں رکھتے تھے اور اپنی زندگی میں انہوں نے اپنی فیملی کے کسی رکن کو سیاست میں آنے کی تحریک یا ترغیب نہیں دی۔
اپنے اس سیاسی بیان کو موثر بنانے کی دھن میں مسٹر مودی یہ بھول گئے کہ وہ اُس زمانے کی بات کر رہے ہیں جب قومی سیاست کا تعلق ذاتی یا خاندانی فائدے سے نہیں بلکہ اجتماعی فلاح سے ہوا کرتاتھا ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس وقت بھی بہبود رُخی ’’بے تفریق ‘‘اجتماعی سوچ میں بعض حلقے اختلافات رکھتے تھے۔مسلم لیگ نے اس اختلاف کاہی فائدہ اٹھا یا۔دو قومی لیگی نظریہ ناکام ہو جاتا اگر دوسری طرف سے اُسے خالص سیاسی طور پر مسترد کردیا گیا ہوتا۔ بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکااورآزادی کی طویل جدوجہد سے تھکی کانگریس کی عافیت پسندی کی وجہ سے لیگی نظرئیے کوہندو مذہبی شدت پسندانہ ردعمل کا سامنا ہوگیا۔مذاہب کا راست طور پر کسی علاقے کی تہذیب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا (جیسا کہ ترکیبی طور پر حروف ہائے تہجی کی میلان سے لگتا ہے)مذہب کا سیاست میں عمل دخل ہمیشہ تہذیبی غارتگری کا سبب بنتا آیا ہے ۔اُس وقت بھی وہی ہوا جوبالآخرتقسیم ہند کی صورت میں تباہ کن ثابت ہوا۔
کہتے ہیں ماضی کی تابناکیوں سے تحریک اور غلطیوں سے سبق حاصل کرنا ارتقا کے سفر کو کامیاب بنانے کے لئے انتہائی ضروری ہے اور دنیا کی تمام عصری غالب قوموں کی تاریخ ایسی ہی ایک سے زیادہ مثالوں سے بھری ہے ۔دوسری طرف یونان، مصرور روم کی تاریخ کے تاریک ابواب پڑھ کر دیکھیں تو پتہ چلے گا کہ اُن کے خلاف کسی طرح کی داخلی یا خارجی سازش نہیں ہوئی تھی بلکہ تینوں ہی قومیں اپنے اعمال کے ہتھے چڑھیں۔آزادی کے بعد ہندستان نے اپنے سیکولر کردار کے ساتھ جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان پر درون ملک جہاں قوم کو ناز ہے وہیں دوسری ترقی پذیر یا غیر ترقی یافتہ اقوام کے لئے ہندستان کی ترقی آج بھی مشعل راہ ہے۔ حال ہی میں ختم ہونے والے ہند افریقہ سربراہ اجلاس کی محض اخباری دستاویزات کا بھی جائزہ لیائے تو پتہ چلے گاکہ داخلی سیاسی، معاشرتی، ثقافتی اور مذہبی چپقلش میں ہم اپنی کس عالمی پہچان کا زیاں کر رہے ہیں۔
عالمی منظر نامے میں ہندستان کو احسن طور پر نمایاں کرنے کے لئے سائنس،اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ترقی کے محاذ پر آگے بڑھنے کی جو راہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے اس کی تکمیل وہ خانگی سیاست نہیں کرتی جس کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔کہنے کو تو مسٹر مودی نے’’وحدت کے رُخ پر پیش قدمی‘‘ کے موقع پر ایک بار پھر کہہ دیا کہ قوم متحد ہو کر امن کے ماحول میں ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھی تو ملک ایک جھٹکے میں 125کروڑ قدم آگے بڑھ سکتی ہے لیکن اس زبانی جمع خرچ کے پردے کے پیچھے عملاًکیا ہو رہا ہے اس سے خود مسٹر مودی بھی آگاہ ہیں۔ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے ،اُنہیں اچھی طرح یاد ہو گا کہ بہار کے ایک انتخابی جلسے میں وہ کس طرح 125کروڑ میں سے 25کروڑ کی نمائندگی سے بالواسطہ طور پر دستبردار ہو گئے تھے۔رنگ اور نسل، ذات اور مذہب کی سیاست سے بری طرح متاثر ملک کی ریزرویشن پالیسی کو درست کرنے کی کوشش کو اگر ایک سے زیادہ اڑچنوں بھرے راستے سے گزرنا پڑ رہا ہے تو اس کی وجہ صرف وہ ذہنیت ہے جو تاریخ کواپنی سوچ کے مطابق درست کرنے کی کوشش میں مزید تاریک ابواب کا اضافہ کرتی جارہی ہے۔
بہار میں بہاری بمقابلہ باہر ی نعرے نے جہاں پوری قوم کو نقصان پہنچایا وہیں ریزرویشن کی مخالفت اور موافقت کے محاذ پر مسٹر مودی نے محدود انتخابی فائدے کے لئے وہ بات کہہ دی جو کسی طرح قوم کو متحد ہو کر ہم آہنگی کے ساتھ ترقی کی راہ میں آگے بڑھنے کی تحریک نہیں دیتی۔درج فہرست ذات وقبائل کے لئے ریزوریشن کی سوچ غلط نہیں تھی لیکن اس سوچ کے ساتھ مرحلہ وار جو ٹریٹمنٹ کیا گیا اس سے سماجی کایاپلٹ کے محاذ پر کوئی صحت مند کامیابی نہیں ملی۔ اگر ملی ہوتی تو آج صورتحال مختلف ہوتی۔ اتر پردیش میں نہ تو سماجوادی پارٹی اس کا بے جا استحصال کرتی نظر آتی نہ ہی بی ایس پی کا وجود سامنے آتا۔
Engin ummæli:
Skrifa ummæli