18. okt. 2015


پولس لڑکیوں کی آبرو بچائے یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی
-------------------------------------------
عبدالسلام عاصم
----------------
دہلی میں لڑکیوں کی’’ آبرو‘‘ بچانے اور ملک میں’’ فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘‘ کے تحفظ میں ناکامیوں کا بڑھتا ہو ا سلسلہ بلا شبہ تشویشناک ہے۔سیاسی، سماجی اور انتظامی ذمہ داروں کی موجودگی میں یہ صورت حال کیسے پیدا ہوگئی ! اس پربے لاگ غور کرنے سے بنیادی کمزوریاں اور خامیاں ایکدم سے سامنے آجاتی ہیں۔معاملات مطلق سربستہ نہیں۔سب کچھ آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے۔معاشرتی بے بسی کا حال ایسا ہے کہ اس پر غصہ کم اورترس زیادہ آرہا ہے۔
مقامی، علاقائی اور قومی سطح پر نظم و نسق برقرار رکھنے کے لئے بالکل حتمی مرحلے میں جن دو شعبوں پر کامل انحصار کی ضرورت پڑتی ہے وہ پولس اور فوج کے محکمے ہیں۔مقامی طور پر پولس کواور ضلعی اور ریاستی سطح پرصوبائی مسلح فورس اور فوج کو اس وقت فیصلہ کن قدم اٹھا نا پڑتا ہے جب سیاسی، سماجی، مذہبی اورغیر حربی انتظامی سطح پر ذمہ داران الزام کی شکل میں نہیں بلکہ اپنے عمل سے اپنی نااہلی،کمزوری یہاں تک کہ بدعنوانی اور بے ایمانی کا ثبوت پیش کر دیں۔ قوم فرقہ وارانہ محاذ پر بھی ایسی ناکامیوں کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والی مسلح ایجنسیوں کو ایک سے زیادہ موقعوں پر متحرک دیکھ چکی ہے۔
درون ملک ان دونوں محکموں کواگر نگرانی اور خوف کی علامت کے دائرے سے باہر نکل کر کام کرنے کی نوبت جب تواتر سے پیش آنے لگے تو فطری طور پران محکموں کے اندر بھی وہ خرابیاں در آنے لگتی ہیں جن کی وجہ سے معاشرہ اضطراب کا شکار ہوتا رہتاہے۔سر دست بد قسمتی سے لڑکیوں کی آبرو اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی دونوں کے تحفظ کے حوالے سے قوم کو دیوالیہ پن کا سامنا ہے۔ پولس ، صوبائی فورس اور نیم فوجی دستوں کے مسلسل استعمال کے سنگین نتائج یہ مرتب ہو رہے ہیں کہ معاشرہ بڑی تیزی سے بدترین خرابیوں کے انسداد کی سخت کاروائیوں کی مدافعت کا متحمل یعنی imune ہوتاجارہا ہے۔ وقت رہتے اگرسیول( غیر پولس اور غیر فوجی) ذمہ داران نے آپسی چپقلش اورمحدود مفاات کے لئے غیر صحت مند محاذآرائی بند نہیں کی تو ملک اور معاشرے دونوں کو تباہ کن انجام سے گزرنا پڑ سکتا ہے ۔ عجب نہیں کہ ایمان اور وطن فروش عناصر اُن تباہیوں کو بھی کیش کرنے پر اتر آئیں۔
دہلی کے انقلابی رہنما ہونے کے دعویدار وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال، سب کو ساتھ لے کرچلنے کا ورد کرتے نہ تھکنے والے وزیراعظم نریندر مودی اورآپ کے ساتھ آپ کے لئے ہمیشہ کی پرچم برداردہلی پولس کی موجودگی میں بھی اگر راجدھانی خواتین کے لئے محفوظ نہیں تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے معاشرتی بگاڑ کس انتہا پر ہے۔اس طرح فرقہ وارانہ محاذ پر بھی اگر حالات اس قدر دگر گوں ہیں کہ پولس ، نیم عسکری دستے اور فوج ہی صورت حال پر قابو پا سکتی ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ سیاسی، سماجی اور مذہبی اعتبار سے قوم پستی کی کن حدوں سے گزر رہی ہے۔
پچھلی دہائی کے اواخر میں ناچیز کوامریکی محکمہ خارجہ کے پیشہ ورانہ تبادلے کے ایک بین اقوامی پروگرام کا حصہ بننے کا موقع ملا تھا۔اس امریکی دورے میں اگرچہ بنیادی فوکس کسی اعلان کے بغیر دہشت گردی پر تھا لیکن جن دو چیزوں کو میں نے الگ سے محسوس کیا وہ معاشرتی ہم آہنگی کے رخ پر صفائی ستھرائی اور بے خوف جینے کے حق سے متعلق تھیں۔میرے اصرار پر دورے میں شامل دوسرے ملکوں کے ساتھیوں نے بھی ان پہلووں پر الگ سے ذمہ داران سے بات چیت کے مواقع نکالے۔مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پروگرام چلانے والوں نے ہماری اس طرح کی آزادنہ ترجیحات میں بھی دلچسپی لی اوردورے پر آنے والوں کی سوچ کے تعلق سے اپنی معلومات بڑھائی۔
واشنگٹن ڈی سی سے نیویارک ، جیکسن ہول اور پھر سیئٹل کے دورے میں جہاں ایک طرف ہمیں ایک سے زیادہ شعبہ ہائے زندگی کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا وہیں پیشہ ورانہ ملاقاتوں میں اُن چیزوں کو سمجھنے کا بھی شرف حاصل ہوا جن کا بس مشاہدہ کافی نہیں تھا ۔انہی مشاہدات میں ’’بے خوف زندگی‘‘ اور’’ فرقہ وارانہ ہم آہنگی‘‘ کو یقینی بنانے کی وہ نظیریں سامنے آئیں جنہیں اپنانے کے لئے ہماری معاشرتی زندگی کے ناصحین کے سینے میں بہت بڑا کلیجہ چاہئے۔
جیکسن ہول میں ہماری ملاقات وہاں کے پولس محکمے کے اعلیٰ ذمہ داروں سے کرائی گئی۔گفتگو کا یہ سلسلہ آگے بڑھانے سے پہلے میں ایک بات یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ جس طرح یہاں ہم لوگ بات بات پر سنجیدگی اختیار کر لیتے ہیں اور وہ سنجیدگی ایک جھٹکے سے تلخ کلامی یا راست تصادم میں بدل جاتی ہے ، اُس کے عین بر عکس وہاں میں نے محسوس کیا کہ سنجیدہ موضوعات پر بھی لوگ ہنس کر بات کرتے ہیں اور ان کی تمام تر کوشش کا رُخ خاطی کی اصلاح کی طرف ہوتا ہے، اُسے اتنا ذلیل کرنے کی طرف نہیں کہ وہ طیش میں آکر خاطی سے عادی مجرم بننے کی طرف قدم بڑھا دے۔
پولس مقتدرہ کے ایک اعلی افسر سے جب ہم نے یہ پوچھا کہ ’’آپ لا اینڈ آرڈرکیسے نافذ کرتے ہیں؟ تو اُس نے اس مختصر جواب سے ہمیں حیراں کردیا کہ ’’ یہ ہماری ذمہ داری نہیں‘‘۔ یہ جواب ہمارے لئے نا کافی اور غیر اطمینان بخش ہی نہیں بہت حد تک فہم سے بالا تر تھا۔پھر کیا تھا ہم اس حوالے سے ایک سے زیادہ استفسار پر اتر آئے۔جواب دینے والے کا کمال صرف یہ نہیں تھا کہ اس نے ہمیں خوش کن طور پر حیران کردیا بلکہ اپنے رویئے کو بھی اُس نے اس قدر تعاون پسندانہ رکھا کہ ہم سبھی عش عش کر اٹھے۔ ہمارے ساتھیوں میں برازیل اور بوسنیاکے جو لوگ تھے وہ بھی اپنے ملکوں کی پولس کے حوالے سے اتنے ہی پریشان نظر آئے جتنا میں بے چینی محسوس کر رہا تھا۔
’’یہ ہماری ذمہ داری نہیں‘‘ اس جواب پر ہم لوگوں نے سوالات کی جو بوچھاڑ کی اُسے خندہ لب جھیلتے ہوئے متعلقہ افسر نے ہم پر یہ واضح کرنے کی بساط بھر کوشش کی کہ ایک مہذب زندگی کے تصور کو آپ جتنا آسان بنائیں گے انسانی جبلتیں جرم کے دائرے میں قدم رکھنے سے اتنی ہی دور رہیں گی اور اسی کوشش کا نام لا اینڈ آرڈر ہے جس کے نفاذ کی ذمہ داری سیاسی، سماجی اور مذہبی ذمہ اروں پر عائد ہوتی ہے، پولس یا فوج پر نہیں۔البتہ اس ذمہ داری سے احسن طور پر عہدہ بر آ ہونے والوں کو انتظامیہ کا عملی تعاون حاصل رہتا ہے۔اُس افسر نے بتایا کہ لا اینڈ آرڈر کے اس سماجی نظم کا تانا بانا اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ محض جرم کے ارادے سے نہیں ٹوٹ سکتا ، اسے توڑنے کے لئے باقاعدہ جرم کا ارتکاب ناگزیر ہے اور امریکی سماج میں اس کی دوٹوک گرفت کی بھر پور طاقت سے لیس پولس محکمہ موجود ہے۔بہ الفاظ دیگر پولس لا اینڈ آرڈر نافذ نہیں کرتی بلکہ قانون شکنی کو گرفت میں لیتی ہے۔
ہم نے جب ان اچھی باتوں کو مثال کے ساتھ سامنے رکھنے پر اصرار کیا توہماری اس خواہش کا بھی پاس رکھا گیا اور ایک ادنیٰ مثال یہ دی گئی کہ جرم اور بلوغت میں چولی دامن کا ساتھ ہوتاہے۔اس لئے آداب معاشرت کا سبق مرتب کرنے والوں کو اس ادراک سے کام لینا چاہئے کہ نوخیزوں کی زندگی کے ابتدائی مرحلے کواخلاقیات اور کردار سازی کے نام پر اتنا دشوار نہ بنا دیا جائے کہ ان کے اندر شرارت کم
اور جرم کا موقع زیادہ تلاش کرنے کا جذبہ لاشعوری طور پر پیدا ہونے لگے۔۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا آپ کا اشارہ مورل پولیسنگ کی طرف ہے ہم سبھی قہقہہ زار ہو گئے۔
وطن عزیز میں آئے دن ہمارے نوجوانوں کی اسی پریشانی سے گزرنا پڑتا ہے ۔مخلوط تعلیم پر یقین نہ سہی پھر بھی اس سے بھر پور استفاد ہ کرنے والے لوگ بھی لڑکوں اور لڑکیوں کو برابر کی آزادی نہیں دیتے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اخلاقی چوکیداری کی راست مخالفت نہ کرنے والے نوجوان جہاں اپنے گناہوں پر دبیز پردہ ڈالنے کا انتظام کرنے لگتے ہیں، وہیں ڈھیٹ بچے سیدھا جرم کی دنیا میں قدم رکھ دیتے ہیں ۔ان مجرموں کا سب سے کمزور نشانہ لڑکیاں ہوتی ہیں۔پولس جس کا کا م قانون شکنی کی گرفت ہے اُسے ہر گلی کوچے میں سڑک چھاپ عاشقوں اور بدمعاشوں کی تلاش میں سرگرداں کر دیا جا تا ہے ۔ آداب معاشرت کا سبق پڑھنے کی جگہ رٹ لینے والے اسی پر اکتفا نہیں کرتے ،پولس کو وہ لوگ اخلاقی چوکیداری پربھی لگا دیتے ہیں اور اُس سے یہ امید رکھی جاتی ہے کہ وہ ڈنڈا لے کر لڑکیوں کی حفاظت کرے۔فرقہ وارانہ محاذ پر بھی بہ انداز دیگر یہی حال ہے ۔ معاشرتی ذمہ داران چاہتے ہیں کہ سماج میں کوئی لاکھ نفرت پھیلائے، کہیں بھی کوئی فساد ہو تو فوراًپولس کی گردن پکڑ لی جائے کہ تمہارے ہوتے ہوئے ایسا کیوں ہوا! اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی کالونی کے ایک ہزار رہائشی دس مسلح موالیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے اور ایسے ہی دس موالیوں سے ایک ہزارعام شہریوں کو بچانے کے لئے پولس فورس تشکیل دی گئی ہے لیکن پولس سے اگر یہ توقع کی جانے لگے کہ وہ سماج میں موالی پیداہی نہ ہونے دے تو آخر یہ سماج سدھار کے ٹھیکیدار کس مرض کا علاج ہیں۔

Engin ummæli:

Skrifa ummæli