13. okt. 2015


چارہ گر دستِ ہُنر مند ترا، مندمل زخم نہ ہونے دے گا
-----------------------------------
عبدالسلام عاصم
.................
مقتول محمد اخلاق کے گھر والے کہتے رہے کہ اُن کے گھر میں گائے کا گوشت نہیں لیکن تشدد پر بھڑکے ہوئے لوگ نہیں مانے۔ پھر کیا ہوا اسے بار بار دہرا کریہاں اُن زخموں کوکریدنا مقصود نہیں جن پر آج تک وقت کا مرہم کام نہیں کر سکا ہے ۔ اس مرہم کے کام نہ کرنے میں خاصہ دخل بعض چارہ گروں کے دستِ ہُنر مند کا بھی ہے۔کہتے ہیں کہ جس معاشرے میں علمائے مذاہب نفرت کی تعلیم دینے لگیں اور عاملین (ایگزیکیوٹیو)اپنی کام چوری چھپانے کے لئے پروچن اور تبلیغ کی آڑ لینے لگیں وہ معاشرہ عام آدمی کے لئے جہنم کی مثال پیش کرنے لگتا ہے۔بدقسمتی سے وطن عزیزکا حال بھی کچھ ایسا ہی ہے جس کی تصدیق ٹی وی پر ہندووں اور مسلمانوں کی از خود نمائندگی کرنے والے ہمارے میڈیا سیوی علماء کے علاوہ عوام کے ذریعہ راست اور بالواسطہ منتخب عاملین بھی کرتے آرہے ہیں ۔
اس لحاظ سے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ دادری سانحہ عامل اور عالم کے بدلتے کردار کا شاخسانہ ہے۔یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں کہ اس پر حیرانی ظاہر کی جائے لیکن اتنا پرانا بھی نہیں کہ اسے قوموں کی تقدیر مان کر حالات سے سمجھوتہ کر لیا جائے۔ہندستان جنت نشان کسی صورت ایسی کسی روایت کی پاسداری نہیں کرتا جسے دوسروں کی نقل میں یہاں مسلط کرنے کی دہائیوں پر محیط کوشش اب سنگین شکل اختیار کرنے لگی ہے۔ یہ ملک آج بھی ہر اُس انسانی تہذیب کا آئینہ دار ہے جو مشرق سے مغرب اور شمال تا جنوب نوع انسانی کی بہبود کے سلسلے سے عبارت ہے۔باوجودیکہ دنیا کی ایک سے زیادہ قوموں کو متاثر کرنے والی کثرت میں وحدت کی ہندستانی مثال اگر آج اپنے ہی گھر میں بدترین ناقدری سے دوچار ہے تو اس کی وجہ کہیں اور نہیں ہمیں اپنے اندر ڈھونڈنا ہوگی ۔جستجو کے اس رُخ پر ایماندارانہ کوششکرنے والا ہم میں سے ہر کوئی دوٹوک یا بصد اکراہ اسی نتیجے پر پہنچے گا کہ عامل اور عالم کا بدلتا کردارہی عملاً موجودہ صورتحال کا راست ذمہ دار ہے۔
پچھلے دنوں صدر جمہوریہ نے کسی اعلان کے بغیر دادری کے پس منظر میں قوم کو نیکی کی ہر وہ تلقین کردی جس کی امید مبلغین ، دھرم گرووں اور کلیرکس سے کی جانی چاہئے تھی ۔ اس کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے بھی اس سے اپنی انتخابی مہم میں اس طرح استفادہ کیا کہ انتخابی فائدہ بھی ہوجائے اور سیاسی نقصان بھی نہ ہو ۔ایک تیر سے دونشانے والی یہ کوشش جو ابھی کل تک سیکولر اور غیر سیکولر دونوں طرح کے روایتی اقتدار پسند حلقوں تک محدودتھی اب اس طبقے کو بھی متاثر کرنے لگی جس نے دونوں کے خلاف علم بلند کیا تھا۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ قومی سیاست میں علاقائی طورپر انقلاب بر پا کرنے والے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بھی دادری سانحے کے بعد’’بہ باطن‘‘ اپنی پارٹی کو عوام میں مقبول بنانے کے لئے ’’بظاہر‘‘اُسی اشتہاری مہم کا سہارا لیا ہے جس نے عملاً صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی کے پروچن اور اس پروچن پر عمل کی وزیراعظم نریندر مودی کی تلقین کے متوازی خطوط کو ایک بند تکون میں بدل دیا ہے ۔
کہتے ہیں درس محبت حاصل کرنے والے کے لئے جہاں صرف پاس مارک سے امتحان پاس کرنا فیل ہونے کے برابر ہے وہیں نفرت کی تعلیم کا کُند سے کُندذہنوں پر بھی اتنا اثر ہوجاتا ہے کہ وہ نتیجہ خیز ثابت ہو۔گویا سارا معاملہ ذہنی تربیت کا ہے ۔ اس لحاظ سے دادری سانحہ جس مخصوص ذہنی پرورش کا نتیجہ ہے اس کے ذمہ داربشمول میڈیا ہم سب ہیں۔ میڈیا نے ہمیشہ مذہبی وضع قطع رکھنے والے ایسے چہروں کو بالترتیب اقلیت اور اکثریت کی نمائندگی کا موقع دینے کی فاش غلطی کی ہے جن کے لئے عقیدوں پر مبنی مذاہب اور فطری انسانی تہذیب کی ہم آہنگی سے انکار پیشہ ورانہ مجبوری ہے۔
ملک میں تعلیم کا نظام ایک طرف جہاں گلو بلائزیشن کے تقاضوں سے آنکھیں ملا رہا وہیں دوسری طرف آگہی کے نام پر ہر وہم کے ساتھ جینا جیسے ہمارا مقدر بنا دیا گیا ہے۔ابھی پچھلے ہفتے کے اواخر میں یہاں ورلڈ سائنس کانگریس کی پانچویں بین الاقوامی سائنس کانفرنس کے شرکا نے بھی کسی واضح حوالے کے بغیر تعلیم کو غریبی، جہالت اور ضعیف الاعتقادی جیسے خطرناک چیلنجوں سے کامل طور پر نمٹنے کا متحمل بنانے پر زور دیاتاکہ سماجی برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے میں جدید سائنس اور ٹیکنا لوجی سے بھر پور استفادہ کیا جا سکے۔بصورت دیگردادری کی کہانی کل بھی کسی نہ کسی جگہ دہرائی جائے گی۔مین پوری میں بھی ایسی ہی کوشش اگرہلاکت خیز شکل اختیار نہیں کر سکی تو اس وقتی چوکسی کا نتیجہ ہے جو دادری سانحے کے نتیجے میں سر دست برتی جارہی ہے۔صورت حال کو یکسر بدلنے یا فرقہ وارانہ معاملات کو دس برسوں تک اٹھا رکھنے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے وعدے کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لئے انتظامی سطح پر جن اقدامات کی ضرورت ہے وہ ایگزیکیوٹیو کی سطح پر اچھی اچھی باتیں کرنے اور عاملین کی طرف سے تبلیغ اور پر وچن کے ذریعہ نہیں کئے جا سکتے۔
ہر مذہب کے مبلغ کو نفرت انگیزی سے روکنا ہے اور یہ کام ناممکن ہر گز نہیں البتہ اُن بے عمل حکمرانوں کے لٗے مشکل ضرور ہے جو اپنی بے عملی کے سنگین نتائج کا الزام ہمیشہ دوسرے کے سر ڈال دیتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک’’ سر‘‘ سوشل میڈیا کا بھی ہے جس سے استفادہ نہ کرنے والے کو’’ علم‘‘ کے محاذ پر صرف نقصان کا سامنا رہے گا۔اس میڈیا نے انقلاب کی جو راہ ہموار کی ہے وہ ناقابل مسدود ہے ۔ اس راستے پر بھی غلط لوگوں کے در آنے کا خطرہ خارج از اندیشہ نہیں لیکن اس اندیشے کو ٹالنے کے لئے امکانات کا راستہ بند نہیں کیا جا سکتا۔
’’کسی بھی صحیح چیز کو غلط زاویئے سے دیکھنے کا نام نفرت ہے ‘‘ اس قول کی روشنی میں ہندستان میں ذبیحہ گاو کا مسئلہ ہو یا پاکستان میں ’’کدوشریف‘‘ کوکھانے / نہ کھانے کے اظہار کے طریقے پر فتویٰ کا معاملہ ۔دونوں پر غور کیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ان کا تعلق بھی صحیح چیز کو غلط زاویئے سے دیکھنے سے یعنی ایک ایسی جذباتی سطحیت سے ہے جس کا ازالہ تعلیم کو نظریات سے دور کئے بغیر ممکن نہیں(واضح رہے کہ کدوکو پیغمبر اسلام کی پسندیدہ خوراک میں شامل بتایا جاتا ہے) ۔سوشل میڈیا نے اس محاذ پر جو بیداری پیدا کی ہے وہ لائق تحسین ہے۔مذہبی شدت پسندی کے خاتمے کے لئے کسی جوابی شدت پسندی کی ضرورت نہیں۔اس کی واحد بہترین صورت سیکولر تعلیم ہے جو ہندستان میں تمام مذاہب کے یکساں احترام کا ذریعہ ہے۔پاکستان میں بھی شروع میں حکومت کو کسی بھی مذہب کی نمائندگی سے دورر کھنے کے" وسیلے "کے طور پرسیکورزم کو غیر معلنہ انداز میں اختیار کیا گیا تھا لیکن مسٹر جناح کے انتقال کے ساتھ پاکستان اسلامی جمہوریہ میں تبدیل ہوگیا۔
تاریخ کی بدقسمتی سے متاثر تو قومیں ہوا کرتی ہیں لیکن اسے مرتب کرنے میں چند لوگوں کا ہی ہاتھ ہوتاہے۔مسٹر جناح مسلمانوں کے لئے ایک الگ ملک کے مطالبے کی حد تک اپنی روشن خیالی کا دائرہ محدود کرنے پر کس طرح مجبور ہوئے یہ ایک متنازعہ بحث ہے جس میں کسی بھی نتیجے سے عام اتفاق ممکن نہیں لیکن دونوں ہی ملکوں کے پڑھے لکھے اور جمہوری سوچ رکھنے والوں کو اس بات سے اتفاق ضرور کرنا چاہئے کہ عصری ہندستان اگر سیکولرزم پر ناز کرنے کے بجائے اسے بچانے کے لئے فکر مند ہے تو اس کے ذمہ دارہم ہیں ہمارے مجاہدین آزادی نہیں تھے ۔ اسی طرح مسٹرجناح بھی اپنی سوچ میں اس پاکستان کے بانی ہرگز نہیں تھے جو آج ہمارے سامنے ہے۔ بہر حال مایوسی کفر ہے اور ہم اس لئے مایوس نہیں کہ جس دادری میں محمد اخلاق بین مذہبی منافرت کا شکار ہوئے وہیں بساڑا گاوں کے حکیم نامی ایک مسلمان کی دو بیٹیوں کی شادی کے اخراجات ہندو ہمسایوں نے برداشت کئے ہیں۔حکیم حالات کے پیش نظر شادی کا نظم کہیں او ر کرنا چاہتے تھے لیکن ہمسایوں نے حکیم کے خوف کی جگہ رواداری کو نظیر بننے کا موقع دیا ۔

Engin ummæli:

Skrifa ummæli