اُف یہ حد سے سوا عجلت اور پیش بندیاں
----------------------------------------
عبدالسلام عاصم
----------------
حالات نے عام مسلمانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ کیا اُن کا صرف مسلمان ہونا ان کے مشتبہ طور پر دہشت گرد ہونے کی پہچان بن گیا ہے! یہ واقعی ایک پریشان کن سوال ہے لیکن اس کا جواب ڈھونڈنے میں جس عجلت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے وہ ملت کو کسی ایسے نتیجے پر پہنچنے نہیں دے رہا ہے جہاں سے ایک نیا آغاز کیا جا سکے ۔جس طرح اسلام، مسلمان اور دہشت گردی کاتکون کسی غور وفکر سے زیادہ بعض ناخوشگوار واقعات بشمول 9/11 سانحہ کا فوری نتیجہ نکالنے کی دہائیوں پر محیط روش کا شاخسانہ ہے۔اسی طرح بدلے ہوئے حالات میں مسلمان بھی غور وفکر سے کام لینے کے بجائے فوری اور شدید ردعمل کے ذریعہ اس منظر نامے کو بدلنا چاہتے ہیں جو مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کیونکہ اس منظر نامے کو سازشیوں اور سازش کا شکار ہونے والوں نے راست اور بالواسطہ طور پر مل کر ہی مرتب کیا ہے۔سب کچھ اتنا الجھا ہوا ہے کہ کسی ایک مضمون کواس حوالے سے ایک ایسا آئینہ بنانے کے لئے کسی سرے تک پہنچنا مشکل ہے جس میں سارے حقائق نظر آ جائیں۔ باوجودیکہ کبھی کبھی ناخوشگوار واقعات میں سے ہی کوئی واقعہ اس رُخ پرمثبت سوچ کو آگے بڑھانے میں کسی حد تک معاون بن جاتا ہے۔
اس سلسلے کا تازہ واقعہ احمد کا ہے ۔ اس مبارک نام کے ساتھ ویسے بھی ایک سے زیادہ حلقوں کی زیادتیاں دستاویز ات کا حصہ بنتی جارہی ہیں ۔حال ہی میں ٹیکساس(امریکہ) میں چودہ سالہ احمد کو بم بنانے کے الزام میں پکڑ لیا گیا۔ احمددراصل بم نہیں ایک گھڑی بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔جسے وہ اپنے ساتھ لے کر اسکول چلا آیا تھا۔ یہاں ایک بات یہ بھی غور طلب ہے کہ دہشت زادہ عالمی ماحول میں احمد کی جتنی تیزی سے گرفتاری عمل میں آئی اتنی ہی تیزی سے اس تصدیق کے بعدکہ وہ بم نہیں بلکہ ایک گھڑی بنانے کی کوشش میں لگا ہوا تھا، اسے رہا کر دیا گیا۔ گرفتاری اور رہائی کے درمیان کا یہ وقفہ حیران کردینے کی حد تک کم تھا۔
ابھی کل تک ایسی گرفتاریاں کسی نوجوان کی زندگی کا بڑا حصہ تباہ کر دینے کے لئے کافی ہوا کرتی تھیں یعنی جب تک گرفتار نوجوان کو بے گناہ قرار دے کر رہا کیا جاتا تھا اُس کی زندگی کے سارے خواب بکھر چکے ہوتے تھے۔احمد کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی شک، خوف اوردہشت کے ماحول میں رونما ہونے والے دوسرے واقعات سے بہت مختلف نہیں لیکن غلط اور صحیح کا فیصلہ پتہ نہیں کیوں دھندلے انداز میں سہی یہ اشارہ بھی دے رہا ہے کہ کل تک ہم جس عجلت پسندی کی وجہ سے کام بگاڑتے چلے گئے تھے اُس کا پہیہ اب شاید اُلٹا گھومنے لگا ہے۔اگر واقعی ایسا ہے توخواہ اسے مصلحت خداوندی کا نام دیا جائے یا انسانی تجربات و مشاہدات کا نتیجہ قرار دیا جائے، ہم دونوں لحاظ سے مطمئن ہیں کیونکہ اس طرح ہم انسانوں کی ہی اصلاح ہو رہی ہے۔
اس واقعے پربہر حال اب تک جو تبصرے آئے ہیں ان میں تشویش ، افسوس اور مذمت کا حق تو پورے شد و مد کے ساتھ ادا کیا گیا ہے لیکن اُن باتوں کو محسوس کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی جو سابقہ سلسلوں سے الگ ہیں اور اپنے اند ر رجائیت رکھتی ہیں۔یہ کہنا کہ احمد نے جو کمال دکھانے کی کوشش کی ہے اگر وہی کوشش کسی جوزف نے کی ہوتی تو اسے سر آنکھوں پر بٹھا یا گیا ہو تا۔ اس پر انعامات برسائے گئے ہوتے، ایک ایسا جذباتی ردعمل ہے جو کسی ممکنہ خوش آئند تبدیلی کے حق میں کسی بھی طرح معاون نہیں۔کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ احمد کی گرفتای پر افسوس نہ کیا جائے۔بے شک جو حالات ہیں اُن میں کسی بچے کی ایک اچھی کوشش پر پہلے شبہہ پھر اُس کی تعریف بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ باوجودیکہ اگر سوچنا ہی ہے تو کیوں نہ پورے ایپی سوڈ کے مثبت پہلو پر غور کیا جائے اور اس کی اس قدر تشہیر کی جائے کہ وہ کم سے کم اُن لوگوں کی سوچ بدل دے جو سازش تو نہیں کرتے لیکن مسلمانوں کے تعلق سے شک و شبہے میں مبتلا رہتے ہیں۔
احمد کا یہ بیان انتہائی حوصلہ افزا ہے کہ وہ شروع میں جہاں ڈر گیا تھا وہیں اب واقعی بہت خوش ہے۔اُسے ساری دنیا کی تائید و حمایت حاصل ہے۔احمد کا ذہن کتنا اختراعی ہے اس کی مثال صرف وہ گھڑی ہی نہیں جس نے پہلے تو اسے مشکل میں ڈالا پھر ایسا نکالا کہ وہ ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ واقعے کے تعلق سے اس کا یہ کہنا آج کے دہشت زدہ ماحول کو بدلنے کی ہر جائز تحریک کو مہمیز لگاتا ہے کہ اُسے یعنی احمد کو جو تائید و حمایت ملی ہے وہ صرف اُس کے لئے نہیں بلکہ اُن سب کے لئے ہے جو اس مرحلے سے پریشان گزرے ہیں۔احمد کا یہ جملہ نئی نسل کی سوچ کے لئے انتہائی انقلا ب آفریں ہے کہ "I will fight for you if you can't stand up for yourself"۔ جس پولس نے احمد کو گرفتار کیا، گھڑی ضبط کی ،پوچھ گچھ کی پھر رہا کر دیا ا ب وہ اُ س گھڑی کی منتظر ہے جس گھڑی ضبط شدہ گھڑی گھڑی ساز کے حوالے کی جائے گی۔پولس کا بھی کہنا ہے کہ اگرچہ ہر قدم مبنی بر اطلاع اٹھایا گیالیکن محسوس کیا جاتا ہے کہ معاملہ فہمی اور طریق عمل پر نظر ثانی کی جانی چاہئے۔
کہتے ہیں کہ خوف کے ماحول میں حد سے سوا احتیاط اور پیش بندیوں سے بھی بعض اوقات وہ نقصان ہو جاتا ہے، اصل میں جس سے بچنا مقصود ہوتا ہے کیونکہ اندھیرے میں ہر آہٹ پر وہی شبہہ گزرتا ہے جو ہم دل میں لئے بیٹھے ہوتے ہیں ۔ اس طرح بعض اوقات اُسے ہی نقصان پہنچ جاتا ہے جس کی حفاظت کے لئے تیر یا گولی چلائی گئی تھی۔
ہم جس دنیا میں جی رہے ہیں وہ آسانیوں اورمشکلات دونوں سے عبارت ہے، ناممکنات اور توہمات سے نہیں جیسا کہ ہم دیکھنے اور سوچنے لگے ہیں۔ ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہو گی۔ ہم اگر پانی سے بجلی پیدا کر سکتے ہیں،مصنوعی پروں (طیاروں) کی مدد سے اُڑ سکتے ہیں، مریض کی حیات بخش پیوند کاری کر سکتے ہیں تو دل و دماغ کو بھی بجھنے اور ماوٗف ہونے سے بچا سکتے ہیں۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ماچس کی تیلی سے آگ لگانے والے ذہنوں کو اُسی ایجاد سے مثبت استفادہ کرنے کا عملاً متحمل بنایا جائے تاکہ روشنی پھیلے اور ایسی تاریکیاں ختم ہوں جو دلوں میں وسوسے پیدا کرتی ہیں اور پھر اُن وسوسوں سے نفرت کے تاجر کاروباری فائدہ اٹھاتے ہیں۔
احمد کے معاملے میں بھی وسوسوں کی سرمایہ کاری سے نفرت کا کاروبار کرنے والی ذہنیت سامنے آئی ہے۔ احمد کا گھڑی کے ساتھ اسکول جانا،متعلقہ ٹیچر کا مبینہ طور پریہ کہنا کہ دوسرے ٹیچروں کو مت دکھانا، پھر گھڑی سے نکلنے والی آواز کوغالباً بم پھٹنے کی آواز پر محمول کرنا،پولس کو اطلاع ملنا پھر اس کے بعد احمد کو بعض ایسے ریمارک کا سامنا کرنا جو کسی بھی طرح معاملے کی گتھی سُلجھانے سے تعلق نہیں رکھتے تھے صاف طور پر مظہر ہیں کہ نفرت سے متاثر ماحول سے نمٹنے والے لوگ اگر پہلے سے منفی ذہن بنا کر کام کر رہے ہیں تو یا تووہ دوسرے کو نقصان پہنچائیں گے یا سخت خفت اٹھائیں گے زیر بحث ایپی سوڈ اسی المیہ کا ترجمان ہے۔
ہم نے بچپن میں ایک درسی کتاب میں ایک نظم پڑھی تھی جس میں ایک بچہ اپنے گھر کی چھت پر ایک برقع دیکھ کر ڈر جاتا ہے۔ اُس بچے کو شاعر اس ڈر سے نجات دلانے کے لئے اپنی سخن فہمانہ کوشش کا رُخ برقعے کی افادیت کے بجائے اس یقین دہانی کی طرف رکھتا ہے کہ بھوت اورپریت کا دنیا میں سرے سے کوئی وجود ہے ہی نہیں۔ غالباً’ ’ہماری کتاب‘‘ نامی اس کتاب میں رفع شر کے رُخ پر اور بھی بہت ساری منظوم اور منثوم تخلیقات تھیں جن سے استفادہ کرنے کی توفیق نے ہی ناچیز کو ہر معاملے کے مثبت پہلو پر غور کرنے کا کسی حد تک متحمل بنایا ہے لیکن علم کا یہ پہلو عصری تعلیمی ماحول کے ڈیجیٹلائزیشن کی بھاگ دوڑمیں بے ارادہ سہی کہیں کھو کر رہ گیا ہے۔ اس کی بازیافت ہرگز مشکل نہیں۔شرط صرف یہ ہے کہ لکھنے والے اپنے نام کی جگہ اپنے معاشرے کی پہچان اور اندیشوں کی جگہ امکان کو سامنے رکھ کر سنبھل سنبھل کر لکھیں، بے تکا ن نہیں، انشااللہ نئی نسل کو قیادت کی ذمہ اری سونپنے سے پہلے دنیا کو انسانوں کی بہترین رہائش گاہ بنانے کی وہ منزل ہمارے سامنے ہوگی جس کی تمنا لئے بیسویں صدی بے نیل و مرام گزر گئی۔
Engin ummæli:
Skrifa ummæli