ٹریفک کی خستہ حالی: غیر مربوط منصوبہ بندی کا شاخسانہ
----------------------------------------------------------
عبدالسلام عاصم
.....................
دہلی میں سڑکوں پر نقل و حمل کا نظام درست کرنے کی کوششیں گذشتہ ایک دہائی سے زیادہ وقفے سے اخباری سرخیوں میں ہیں۔ان کوششوں کے ایک سے زیادہ نتائج زمیں پر ہی نہیں زیر زمیں بھی مرتب ہوچکے ہیں،لیکن جو سہولتیں سامنے آئی ہیں ان میں سے ایک تازہ معلنہ سہولت کچھ اس طرح کی ہے کہ ٹریفک کو سنبھالنے کے ذمہ داران sms کے ذریعہ اب یہ بتائیں گے کہ مسافر اپنی منزل کے لئے جو راستہ منتخب کرکے آگے بڑھنا چاہتا ہے اس پر ’بہ لحاظ وقت‘ اُس کی منزل کتنی دور ہے۔ ٹریفک میں پھنسی ایمبولنس گاڑی میں لیٹا مریض اگر ہوش میں ہے تو اس کے لئے بہ الفاظ دیگر اس پیغام کا یہ مطلب ہوگا کہ اس وقت جو راستے اسپتالوں کی طرف جاتے ہیں وہ پاس کے قبرستانوں یا شمشان کدوں کے مقابلے زیادہ تکلیف دہ اور تاخیر طلب ہیں۔
کسی بھی خراب صورتحال کے ذمہ دار بہ باطن سبھی متعلقین ہوتے ہیں لیکن اُسے سدھارنے کی بنیادی ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے جو اختیارات سے لیس ہوتے ہیں۔ایسے میں بااختیار حلقے کے لئے لازمی ہے کہ وہ مسئلے کی نوعیت اور حل کے تعلق سے پوررے طور پر حساس ہو اور اپنے کام میں کسی رعایت یا یکطرفہ سختی کو آڑے نہ آنے دے۔بدقسمتی سے دہلی میں یہی بااختیار حلقہ مسائل کے حل نہ ہونے کا بالواسطہ ذمہ دار ہے۔اس کی بنیادی وجہ کرپشن نہیں بلکہ غیر مربوط منصوبہ بندی اور اس پر نیم دلانہ عمل درآمد ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب کسی سے کوئی کام نہیں ہوتا تو وہ مبلغ یعنی پرچارک بن جاتا ہے اور اچھی اچھی باتیں کرنے لگتا ہے جن میں اُس کی نیت سے زیادہ بے بسی جھلکتی ہے۔دہلی میں انتطامیہ کے تمام ذمہ دار اداروں بشمول پولس کی یہی حالت ہے۔سب نے اپنی ذمہ داریاں نظم و ضبط کے پرچار تک محدود کر لی ہیں۔
اس سلسلے کی ایک خبر نگاری کے دوران پچھلے دنوں بہ کثرت پرائیویٹ گاڑیوں کے ذریعہ یومیہ بیس تیس کلو میٹر کا سفر طے کر کے دفاتر یا اپنے تجارتی مراکز تک پہنچنے والے لوگوں سے رجوع کیاگیا تو ان سے بات چیت میں اُن لوگوں کے جس تقاضے یا مطالبے کو مشترک حیثیت حاصل رہی وہ یہ تھی کہ ذاتی کار میں یومیہ سفر کرنے کی اہلیت رکھنے والاکوئی بھی شخص یا حلقہ سڑکوں پر گاڑیوں کی بھیڑ کم کرنے کی کسی کوشش کا حصہ اُسی وقت بن سکتا ہے جب اُسے محسوس ہو کہ مسئلے کے حل میں عوام کے ساتھ خواص کا بھی دھیان رکھا جا رہا ہے۔پرائیویٹ گاڑیاں بہ کثرت استعمال کرنے والوں نے اس مکالمے میں جس ایک بات پر تواتر سے زوردیا وہ یہ تھی کہ آرام اور سہولت کے ساتھ سفر کرنے کا متحمل کوئی بھی شخص ٹریفک کے مسائل کے حل میں عملاً حصہ لینے کے لئے صرف اپنی پرائیویسی چھوڑ سکتا ہے آرام نہیں۔
اس بحث کو ایک صاحب نے یوں مثالی بنایا کہ دہلی میں ڈی ٹی سی کی طرف سے سُرخ رنگ کی وسیع ، کشادہ اور چڑھنے اُترنے میں آرامدہ ایئر کنڈیشنڈ بسیں جب چلائی گئیں اُس وقت منصوبہ سازوں کے ذہن میں بھلے یہ بات رہی ہو کہ اس اقدام سے سڑکوں پر پرائیویٹ کاروں کی تعداد کم ہو سکتی ہے لیکن وہ اس پہلو پر ہر رُخ سے غور کرنے میں ناکام رہے۔اُن کی نظر میں عام آدمی کی ضرورت تو تھی لیکن خاص آدمی سہولت نہیں تھی۔ بصورت دیگر اُسی وقت سڑکو ں کو یومیہ استعمال کے اعتبار سے پرائیویٹ گاڑیوں سے نجات دلائی جاسکتی تھی ۔ ارباب اختیارایسا کرنے میں اس لئے ناکام رہے کہ اُن کے سیاسی دماغ میں اجتماعیت کی انتخابی آلودگی اس قدر بھر گئی ہے کہ وہ انفرادی فائدے اور سہولت کی بات اپنی ذات کے دائرے سے باہر نہ سوچ سکتے ہیں نہ ہی سُن سکتے ہیں۔
دہلی کی سڑکوں کو بے تحاشہ پرائیویٹ گاڑیوں سے نجات دلانے کے لئے ڈی ٹی سی کی تمام یا محدودسرخ ایئر کنڈیشنڈ بسوں کا کرایا اتنا زیادہ ضروررکھا جانا چاہئے تھا جو صرف کار چھوڑنے والے ادا کر پاتے ۔ اس طرح وہ اُن بسوں میں اجتماعی سفر کرتے وقت صرف اپنی پرائیویسی سے محروم رہتے ، آرام سے نہیں۔سردست ڈی ٹی سی کی ائیر کنڈیشنڈ بسوں کی حالت یہ ہے کہ یا تو وہ ڈپومیں یا کسی سڑک کے کنارے خراب حات میں خالی پڑی ہیں یا پھر مسافروں سے اسقدر بھری ہیں کہ اندر نہ کھڑے ہونے کی جگہ ہے نہ سانس لینے کی ۔ اے سی صرف اُس وقت کام کرتا ہے جبب بسوں میں جتنی سیٹیں اتنے مسافر ہوں اور ایسا غیر مصروف اوقات میں بھی کم ہوتا ہے۔ ایسی راحت کا مزہ صبح کے ابتدائی یا رات کے انتہائی مرحلے میں ہی اٹھایا جا سکتا ہے۔دفتری اوقات کا حال کتنا بُرا ہے وہ سب پر عیاں ہے۔
ایسے میں پرائیویٹ گاڑیاں استعمال کرنے والوں سے یہ امید کرنا عبث ہے کہ وہ تپتی ہوئی گرمی میں کھچاکھچ بھری گرین،ایلو یا ایئر کنڈیشنڈ ہونے کے نام پر ہر طرف سے بنداور اندر گھٹن سے بھری بسوں میں سفر کرنے پر راضی ہو جائیں گے۔سڑکوں کی قلت یا ٹریفک کی زیادتی کے حوالے سے وہ عملاً اس طرح نہیں سوچ سکتے جس طرح ارباب اختیار سوچتے ہیں جن کی انفرادی سہولتیں ہمیشہ غیر متاثر رہتی ہیں۔ حکومتیں عوام اور خواص دونوں سے چلتی ہیں ۔آج اگر خواص کی سہولت کی قیمت عام آدمی چکانے پر مجبور ہے اور عام آدمی کی پریشانیوں کا حل ٹھوس طریقے سے ڈھونڈنے کے بجائے صرف کاسمیٹک طور پرنکالا جا رہا ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری نظم و ضبط کے اُن ذمہ داروں پر عائد ہوتی ہے جوعام آدمی کے لئے خواص کو اور خواص کے لئے عام آدمی کو احسن اور صحتمند انداز سے معاون بنانے کے سائنسی علم سے محروم ہیں۔
رکشا،ای رکشا، آٹو اور ٹیکسیاں سب بنیادی طور پر سفری ضرورتیں ہیں لیکن کسی بھی ضرورت کا بے جا استحصال کس انجام کو پہنچاتا ہے وہ دہلی میں سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔سفری ضرورتوں سے جب شکایات پیدا ہونے لگیں تو سمجھ لینا چاہئے کہ محدود مفادات تیزی سے کام کرنے لگے ہیں۔حالات کس قدر سنگیں ہو چکے ہیں اُن کی عکاسی یا وضاحت کے لئے دل دہلانے دینے والی خبروں کا تراشہ سامنے رکھنے کی مطلق ضرورت نہیں ۔بُرے حالات میں چھن کر آنے والی اچھی خبر بھی دلوں کو دہلا دینے کے لئے کافی ہوتی ہے بشرطیکہ سوچنے والاذہن کسی حد تک کام کر رہا ہو۔دہلی کے اخبارات کے ہر پیر کے ایڈیشن کے وہ صفحات دیکھ لیں جن میں خوبصورت الفاظ، بندشوں، جملوں اور تصاویر کے ساتھ کناٹ پلیس، دوارکا اور مشرقی دہلی کی ’’راہگیریوں‘‘ کا تقریباً آنکھوں دیکھا حال بیان کیا جاتا ہے اور اس تاثر کی دادلی جاتی ہے کہ ’’سڑکیں کتنی اچھی لگتی ہیں جب اُن پر گاڑیوں کی جگہ ہم اور آپ رواں دواں نظر آئیں‘‘۔
دہلی اور قومی راجدھانی خطے میں نقل وحمل کی آسانی پیدا کرنے کی ایک سے زیادہ سطحوں پر کی جانے والی کوششوں کو شہر اور نواح میں انتہائی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی نے جس طرح پچھاڑ رکھا ہے اُس میں ایک بڑا دخل اُن ہجرتوں کا ہے جن کا راست تعلق روزگار سے ہے۔یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں ۔ دہائیوں سے جاری اس عمل کو گلوبلائزیشن اور اطلاعاتی تیکنالوجی کے انقلاب نے مہمیز لگا دی ہے۔ ایسا نہیں کہ معاشرتی سائنس دانوں کو اس کا ادراک نہیں لیکن کسی بھی پروجیکٹ کو جب تک دیگر عوامل اور تقاضوں سے مربوط رکھے بغیر نشانہ بند کیا جاتا رہے گا ۔ وسائل کی کمی نہ ہونے سے اُس پروجیکٹ کو ظاہری کامیابی تو ملتی ر ہے گی بہ باطن وہ مقصد پورا نہیں ہوگا جو محض کسی پروجیکٹ کی تکنکی تکمیل سے عبارت نہیں ۔
میٹرو ریل کے ساتھ بھی ایسا ہی کچھ ہو اجس کا بے تحاشا جال پھیل جانے کے باوجود سفر آسان نہیں بدستور دشوار بنا ہوا ہے اور بھیڑ ہے کہ سنبھالے نہیں سنبھل رہی ہے۔ میٹرو کا جال دہلی میں بچھاکراس شہر کی کشش سیاحت اور تجارت کرنے والوں سے کئی گنا زیادہ ہجرت کرنے والوں میں بڑھادی گئی ہے ۔روزگار کے لئے دورراز کے علاقوں سے یومیہ آمد ورفت کی دشواریاں بھی لوگوں کو ہجرت پر مجبور کرتی ہیں۔میٹرو کا جال دہلی کے قلب کے بجائے اگر نواح میں بچھایا گیا ہوتا اور اس کے سرے دور دراز کے علاقوں سے جوڑے گئے ہوتے تو آج منظرنامہ کچھ اور ہوتااور یہ شہر جو قومی راجدھانی بھی ہے صد فی صدتو نہیں لیکن بہت حد تک دنیا کے ان کامیاب شہروں جیسا ہو جاتا جہاں دن کی آبادی رات میں گھٹ کر 60 فیصد رہ جاتی ہے ۔40 فیصد لوگ روزگار کر کے ایک دو گھنٹے میں آرام کے ساتھ سو ڈیڑہ سو کلو میٹر دور اپنے گھر چلے جاتے ہیں۔ایسے ہی شہروں میں ایک شہر ٹوکیو بھی ہے۔
Engin ummæli:
Skrifa ummæli