17. jan. 2016

 اردو صحافت کا دو صدیوں پر محیط عہد بہ عہد سفر

 عبدالسلام عاصم
اردو صحافت کے دو سو سال کے سفرکا آغاز عملاً خبر و نظرکے صحافتی معیار سے الگ مسلمانوں کو درپیش حالات کی محدود ترجمانی کے ساتھ ہوا تھا۔ ہندستان میں مسلمانوں کی آمد،تہذیبی ارتباط و اختلاط، فارسی کے غلبے سے متاثر ماحول سے برطانوی سامراج کا سیاسی استفادہ اور پھر پے بہ پے رونما ہونے والے اختلافی سیاسی واقعات کے راست اور بالواسطہ نتیجے میں مسلمانوں کی معاشرتی حالت میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے ہم جس اردو صحافت کو (ایک سے زیادہ حوالہ جاتی تحریروں میں) منسوب پاتے ہیں وہ دراصل ابتدا میں مسلم صحافت تھی۔باوجودیکہ اس صحافت کا روشن پہلو یہ تھا کہ اس کا دامن غیر مسلموں کے لئے کبھی تنگ نہیں رہا ۔بصورت دیگر اردو کے غیر مسلم صحافی کم سے کم بیسویں صدی کا حصہ نہیں ہوپاتے۔اردو اخبار کی اولین اشاعتوں کا سہرا 1810 میں جہاں مولوی اکرم کے سر بندھتا ہے وہیں 1822 میں جام جہاں نما کلکتے کے ممتاز بنگالی صحافی تارا چند دتہ کے بیٹے ہری ہر دتہ نے نکالا تھا۔

اس پس منظر میں اردو صحافت جب دو صدیوں پر محیط اپنے عہد بہ عہد سفرمیں ہندستان کی آزادی کے موڑ سے گزرتی ہے تواس کے دامن پرملک کی آزادی کے لئے دی جانے والی قربانیوں کے خون کے بے شماردھبے ہی نظر نہیں آتے بلکہ اس کی پیشانی پرتقسیم ہند کا وہ الزام بھی نظر آتا ہے جسے غلط ثابت کرنے میں اردو والے خود اپنی غیر مربوط اور بے سمت کوششوں کا شکار ہو کر رہ گئے۔ یہ معاملہ کل کی طرح آج بھی صحیح اور غلط کا نہیں بلکہ اس تفہیم کا ہے جو اس وقت ہندووں اور مسلمانوں کو بالترتیب ان کے مزاج اور وقتی تقاضے کے حساب سے متاثر کر رہی تھی۔ انگریزوں نے اس کا غائر مطالعہ کر کے جب دیکھا کہ مسلمان انہیں اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور ہندو مصلحت سے کام لے رہے ہیں تو وہ بر سر پیکار حلقے سے لڑنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنی توانائی مصلحت کوشوں سے معاملات کرنے میں صرف کرنے لگے۔یہاں سے انیسویں صدی کا آغاز تعلیمی محاذ پر مسلمانوں کی خستہ حالی کے ماحول میں ہوتا ہے جس کی وجہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی آمدہر گز نہیں تھی۔ اس خستہ حالی کا سبب یہ تھا کہ مسلم قیادت کسی تبدیلی کودیکھنے اور سمجھنے کے بعد قبول یا مسترد کرنا تو درکنار، محسوس تک کرنے کی روادار نہیں تھی۔اس طرز فکر کا تعلق کسی منصوبے یا عزم سے زیادہ مزاج سے تھا۔مسلمان تقریباً ہندستان کے نظم پر اپنی گرفت کھو چکے تھے اس کے باوجود وہ ذہنی طور پر اسے قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ اس عہد کی اردو صحافت کو متذکرہ صورتحال کے ترجمان کے طور پر ان دستاویزات میں دیکھا جا سکتا ہے جو شامل محفوظات ہیں۔

برطانوی عہد حکومت اگر مسلمانوں کو راس نہیں آئی تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اردو صحافت کے نام پر کی جانے والی مسلم صحافت قاری کومکمل طور پر خبر ونظرسے گزارنے میں ناکام تھی ۔حالات کا رونا اور سب کچھ چھن جانے کے اسباب کا بے لاگ جائزہ لینے کے بجائے الزام تراشی کو ادارتی شیوہ بنا لیا گیا تھا۔اس طرز فکر و عمل نے انگریز وں کے اس شبہے کو تقویت دی کہ 1857 کا غدر بنیادی طور پر مسلمانوں نے بر پا کیا تھا۔
1588 بیسویں صدی کا آغاز بھی ہندستان میں بالخصوص شمالی ، مشرقی اور مغربی ہند کے مسلمانوں کے حق میں مالی اور معاشی طور پر خستہ حالی کے دوران ہوا۔یہ صورت حال اُنہیں دیگر ہم وطنوں سے کمتر اور کمزور بناتی جارہی تھی۔ اس وقت اردو صحافت کی نمائندگی جن تین اخباروں تک محدود رہ گئی تھی ان کے نام ’’پیسہ اخبار‘‘، ’’صلح کل‘‘ اور ’’اودھ نامہ‘‘ تھے۔ان اخبارات کے ذریعہ اردو قاریوں کی سوچ کا رخ عظمت رفتہ کے تذکروں سے ہٹا کر اعتدال پسندی کی طرف موڑنے کی کوشش کی گئی جس میں آگے چل کر زمیندار، الہلال اور ہمدرد کے علاوہ ہندستانی نامی ایک اخبار نے بھی بساط بھر اپنا کردار ادا کیا۔یہیں سے آزادی کی قومی تحریک میں اردو صحافت کا وہ رول شروع ہوتا ہے جس نے انقلاب زندہ باد جیسے نعرے کوبلا تفریق مذہب و ملت زبان زد عام کر دیاتھا۔لاہور، امرتسر، کانپور، لکھنو، بجنور، الہ آباد سے شائع ہونے والے ایک سے زیادہ اردو اخبارات نے جن میں ہندستان، دیش، دیپک، ہمدم، سوراج، مدینہ اور مسلم گزٹ سبھی شامل تھے، سیاسی بیداری کی وہ لہر چلائی کہ جدوجہد آزادی کو قومی زندگی کے تقاضوں میں اولین ترجیح حاصل ہوگئی تھی۔حیرت انگیز بات تو یہ ہے کہ مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ ہندو مہا سبھا نے بھی اردو صحافت کو ہی اپنی سیاسی تحریک کا اخباری ذریعہ بنایا تھا۔

خبر رساں ایجنسیوں سے استفادہ کرنے تک آگے بڑھنے میں اردو اخبارات کو ایک لمبا سفر طے کرنا پڑا۔ ریکارڈ کے مطابق زمیندار پہلا اردو اخبار ہے جس نے اردو صحافت کو درپیش شکایات ، مشکلات اور جہادی ترجیحات تک محدود رکھنے کی یک طرفگی کو ختم کرتے ہوئے اسے خبر و نظر کا آئینہ دار بنانے کے لئے خبر رساں ایجنسیوں کو سبسکرائب کرنا شروع کیا۔بہرحال مسلمانوں میں مذہبی اور قومی بیداری کو نتیجہ خیز بنانے میں مولانا ابوالکلام آزاد کے الہلال کا کردار سب سے نمایا ں رہا ۔ اس بیداری نے ہندستانی مسلمانوں کی ذاتی اور اجتماعی سوچ کو کس طرح متاثر کیا اس پر روشنی ڈالنے کے لئے چونکہ الگ سے ایک باب درکار ہے اس لئے یہاں بات اردو اخبارات کے عہد بہ عہد سفر تک محدود رکھی جاتی ہے۔

بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں تحریک آزادی کے خطوط پوری طرح نمایاں ہو چکے تھے۔ 1919 میں مہاتما گاندھی کی تحریک آزادی اور انڈین نیشنل کانگریس کی سیاسی سوچ کی ترسیل و اشاعت میں لاہور کے روزنامہ پرتاپ نے اہم کردار ادا کیا ۔ برطانوی حکومت نے اس کا اس قدر سخت نوٹس لیا کہ اس اخبار کی کئی مرتبہ اشاعت روک دی گئی۔باوجودیکہ آزادی کے حق میں صف بندی غیر متاثر رہی۔ انگریزوں نے مسلمانوں کو جداگانہ قومی شناخت کے ساتھ ایک الگ ملک کے حق میں ہندستان کی تقسیم پر راغب دیکھ کر اس جذبے کو مہمیز لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔اس طرح نوبت 1947 میں عملاًفیصلہ کن تقسیم تک پہنچی ۔ اس وقت ہندستانی اردو اخبارات بشمول میقاتی رسائل کی مجموعی تعداد 415 تھی۔ منقسم ہندستان میںیہ تعدادگھٹنے کے باوجود ریکارڈ کے مطابق 345 تھی۔یعنی صرف 70 اردو اخبارات مالکان سمیت پاکستان کا حصہ بنے۔

تقسیم ہند کے بعد بہر حال اب یہ حقیقیت صرف دستاویزات کا حصہ ہے کہ اردو مسلمانوں کی زبان نہیں ہے اورمغل حکمرانوں نے غیر مہذب زبان قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔اس کی دوٹوک وجہ یہ تھی کہ اردو مختلف تہذیبوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے ہندستانی لوگوں کے درمیان رابطے کی زبان ہوا کرتی تھی۔ مسلمان ہرگز یہ زبان کہیں سے اپنے ساتھ لے کر نہیں آئے تھے۔بصورت دیگر اردو صحافت کا آغاز غیر مسلم صحافیوں کے سرگرم اشتراک سے ہر گز نہ ہوتا ۔ تقسیم ہندکے بعد کی ابتدائی دہائیوں میں جب سماجی اور اقتصادی بہبود کا بیشتر انحصار غالب سویت اشتراک سے رفتار پکڑنے والی صنعتی ترقی پر تھا،اس وقت ہندستان میں اردو والوں بہ الفاظ دیگر مسلمانوں کی سمجھ بوجھ کو خوش سمت بنانے میں اردو کے یومیہ اور میقاتی اخبارات کو انتہائی ذمہ داری کے ساتھ جو کردار ادا کرنا چاہئے تھا اس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ ناموافق حالات میں کوئی تین دہائیاں ایسی گزریں جن میں کہیں جوابی الزام تراشی اور غیر ضروری صفائی پیش کرنے کے رجحان کو فروغ ملا تو کہیں اس قدر شاکی انداز اپنا یا گیا کہ بیشتر اخبارات شکایت نامے میں تبدیل ہو کر رہ گئے تھے۔اُس زمانے میں اردو اخبارات کو آج کی طرح اشاعتی گھرانوں کی سرپرستی حاصل نہیں تھی اور محدود فکری پیمانے پر جو اشاعتی گھرانے تھے وہ اس قابل نہیں تھے کہ اردو بولنے والی لسانی اقلیت کے لئے، جسے جذباتی تسکین پہنچانے والوں سے زیادہ زمانہ ساز پُرساں حالوں کی ضرورت تھی، اپنے ملی کاروبار سیاست پر عصری تقاضوں کو ترجیح دیتے ۔ مسلمانوں کے غیر اردو حلقے جن میں جنوبی ہند اور مراٹھواڑہ خطہ شامل تھا بہر حال اس حوالے سے نسبتاً کم متاثر رہے۔حیدر آباد کے اردو اخبارت نے سب سے پہلے سنبھالا لیا اور اپنے قارئین کی عصری رہنمائی شروع کی۔ممبئی اور کلکتہ کے اردو اخبارات نے بھی مرحلہ وار نئی سوچ اور نئی فکر کے ساتھ اپنے ادارتی صفحات کی گنجائش بڑھائی ۔

آزاد ہندستان میں ہر چند کہ آج اردو اخبارات سرکولیشن کے اعتبار سے ہندی اور انگریزی کے بعد تیسرے مقام پر ہیں اور عملاً مسلمانوں کی زبان بن کر رہ جانے کے باوجود اردو اخبارات کے مالکان کی اچھی خاصی تعداد غیر مسلموں پر مشتمل ہے لیکن یہ دونوں باتیں صرف اخباری صنعت و تجارت سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا اردو صحافت کے ماضی کے کسی کردار سے کوئی تعلق نہیں۔البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اردو اخبارا ت کی نمایاں تعداداب خبر و نظر کے معیار پر ملک کی دوسری زبانوں سے کسی طرح ٰپیچھے نہیں۔تقریباً ہر اردو اخبار کی آن لائن اشاعت بھی موجود ہے۔ رفتار زمانہ کے ساتھ اردو صحافت میں بھی کچھ خرابیاں بھی در آئی ہیں ۔ تجارتی اور دوسرے مفادات نے ایسی مقابلہ جاتی صحافت کو ضروری بنادیا ہے جو مالی اغراض پر مبنی ہو۔ذمہ داران صحافت کو اس کا نوٹس لینے کی ضرورت ہے کیونکہ خبر نویسی کی اقدار سے سمجھوتہ کرنے والی نامہ نگاری سے نہ صرف سماجی مقاصد کو پورا کرنے کی پریس کی صلاحیت محدود ہوجاتی ہے بلکہ جمہوریت کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

ایک تبدیلی زبان کی سطح پر بھی آئی ہے جسے محض ناپسندیدگی کی بنیاد پر خرابی کا نام نہیں دیا جا سکتاکیونکہ اس کا راست تعلق اطلاعاتی تیکنالوجی کے انقلاب، اقتصادی سرگرمیوں کے دائرے میں وسعت اور تنوع کے ساتھ دنیا کی ہر تہذیب میں صارفیت کے در آنے سے ہے۔البتہ خالص تجارتی حلقوں کی طرف سے بہ انداز دیگر اردو کے استحصال کا بھی اس میں بھر پور عمل دخل ہے۔مثلاً بالی ووڈ کو نغمات سے مکالمات تک اردو سے راست اور بالواسطہ طور پر محروم کردینے کی زائد از تین دہائیوں کے بعدٹیلی ویزن کے چھوٹے اور سنیما گھروں کے بڑے پردوں پر دوبارہ اردو سے مراجعت کی ذمہ داری جس نسل کو سونپی گئی ہے وہ ہر گز اردو سے مبینہ قطع تعلقی کی ذمہ دار نہیں ۔ روزگار رُخی تعلیم کے موجودہ عہد کی نمائندگی کرنے والی اس نسل میں چونکہ نتیجہ خیز کارکردگی پیش کرنے کا جوش بدرجہا اتم پایا جاتا ہے ۔اس لئے اس نے اس ذمہ داری کو بھی ایکدم سے قبول کر لیا۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے اور وہ یہ ہے کہ آج اردو سے ناواقف نئی نسل اردو میڈیا کا بیشترکاروبار چلارہی ہے جس میں غیر اردو مکالموں اور انداز بیان کو اردو دکھانے کے لئے محض جذباتوں، حالاتوں اور مشکلاتوں کی ادائیگی پرہی زور نہیں دیا جاتا بلکہ ’’آپ‘‘ کو ’’خود‘‘۔ ’’اپنا‘‘ کو ’’تمہارا‘‘یہاں تک کہ ’’عینی شاہدوں‘‘ کو ’’چشم دیدوں‘‘۔میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔اس کا اثر اردو گھرانوں پر بھی پڑ رہا ہے جہاں نئی نسل ’’پھر‘‘ کو ’’فر ‘‘ کہنے میں کوئی عارمحسوس نہیں کرتی بلکہ کچھ اس لحاظ سے فخر محسوس کرتی ہے جیسے اس طرح اُ س نے اپنے آپ کو (نئے لفظ کے حساب سے ’’خود ‘‘ )کو ہم عصروں سے جوڑ رکھاہے۔

Engin ummæli:

Skrifa ummæli