جے این یو تنازعہ : وطن پرستی کی ایک سے زیادہ تفہیم کا شاخسانہ
-------------------------------------------------------------
عبدالسلام عاصم
--------------
تعلیمی اداروں کی تشخیص اور منظوری کی قومی کونسل کی جانب سے 2012 میں ہندستان کی سب سے بہترین جامعہ قرار پانے والی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کو عرف عام میں جے این یو کہا جاتا ہے۔ یہ مخفف کسی دوسری یونیورسٹی کے مخفف سے اس لئے الگ ہے کہ یہ قصر علم اُن تہذیبی اقدار کی درس گاہ ہے جہاں اطلاعات سے استفادہ توکیا جاتا ہے ان پر کامل انحصار کو علم کا درجہ نہیں دیا جاتا۔ جے این یو کی یہی پہچان اُسے نہ صرف دوسری جامعات سے ممیز کرتی ہے بلکہ انسان کی سائنسی فکر کی اُس انفرادی آزادی کو علمی ضمانت دیتی ہے جس آزادی کی اجتماعی سوچ والے’’ مبنی بر عقیدہ ‘‘کسی بھی نظرئیے میں مطلق گنجائش نہیں۔
اس پس منظر میں جاری تنازعے کو سمجھنا کوئی مشکل کام نہیں لیکن اسے اُن حلقوں کو سمجھانا اگرناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہے جو ’’علم‘‘ کم اور’’ اطلاعات‘‘ زیادہ رکھتے ہیں۔ایسے حلقے معاشرے میں تنقیدی سوچ، بحث اور اعتراض برائے وضاحت کی حوصلہ افزائی کی کبھی ستائش نہیں کر سکتے ۔ جے این یو تنازعہ کا تعلق ملک دشمنی سے نہیں بلکہ ملک دوستی کی ایک سے زیادہ تفہیم سے ہے۔اسے نظریاتی لڑائی کا بھی نام دیا جا سکتا ہے لیکن اس کے محاذ کچھ اس طرح کھولے گئے ہیں کہ سب کچھ گڈ مڈ ہو کر رہ گیا ہے۔ کانگریس کا رول وہی ہے جو بی جے پی کا ہے ۔ البتہ یساری سوچ رفتار زمانہ سے ہم آہنگی کے فقدان کی وجہ سے ناقابل فہم تو نہیں لیکن اُس اپیل سے محروم ہوتی جارہی ہے جو اپیل ماضی میں اپنے عہد کے انسانی تقاضوں کا آئینہ دار ہوا کر تی تھی۔
کچھ سماجی نمائندے ہندستان کی آزادی کے ساتھ اظہار کی آزادی کا سفر ختم دیکھنا چاہتے ہیں جبکہ معاشرتی زندگی میں یہ سفر ایک سے زیادہ حوالوں سے جاری رہتا ہے ۔ظلم سے، جبر سے، دہشت کی سیہ کاری سے،تہذیب کی عیاری سے،خانگی جھگڑے سے، ہمسائے کی مکاری سے یہاں تک کہ دق زدہ سوچ کی بیماری سے آزادی کا سفر آج بھی معاشرتی زندگی کی جدوجہد کا حصہ ہے اورکم سے کم ترقی پذیر دنیا میں جب تک انسانی بہبود کا سفر شورش کے موڑ سے گزرتا رہے گا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔بہ انداز دیگر اس کا ثبوت اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کی جے این یو یونٹ کے تین عہدے داروں نے بھی پچھلے ہفتے اُس وقت پیش کیا جب وہ لوگ حکمراں بی جے پی کی طلبا شاخ سے الگ ہو گئے۔مرکز نے جے این یو تنازعے سے جس طور پر نمٹنے کو ترجیح دی وہ حکومت سے نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کے نزدیک ہی غلط نہیں بلکہ ہر اس ذہن کے لئے موجب تشویش بن گئی ہے جو ایسی اجتماعیت کے حق میں نہیں جو انفرادی آزادی پر قدغن لگائے۔
قوم پرستی اپنے آپ میں ایک ایسا جذبہ ہے جس کا مثبت اور منفی دونوں طرح سے استحصال کیا جا سکتا ہے۔ ماضی میں اس کی ایک سے زیادہ نظیریں دیکھی جا سکتی ہیں۔اٹھارویں صدی کے اواخر اور19ویں صدی میں قوم پرستی کے جذبے سے ہی یورپ میں آمریت اور استعماریت سے نجات حاصل کی گئی۔اس سلسلے کی بیسویں صدی کی نسبتاً زیادہ قریبی تاریخ کو زیادہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ ایشیا اور جنوبی افریقہ میں استعماریت کے خاتمے میں یہی جذبہ بنیادی طور پر محرک رہا۔اس جزبے کو محدود سیاسی مفادات سے کس طرح آلودہ کیا جاتا رہاہے، اُس کی نظیر دیکھنے کے لئے بھی دور جانے کی ضرورت نہیں برصغیر کی تاریخ اسے سمجھنے اور جاننے کے لئے کافی ہے بشرطیکہ سمجھنے کی کوشش بھی کی جائے۔بصورت دیگر یہی جذبہ فسطائیت کا نقیب بھی بن جاتا ہے۔یورپ میں ہی 1930اور 1940 کی دہائیوں میں اس جذبے کاجمہوریت کے خلاف بدترین منفی استحصال کیا گیا تھا ۔جرمن قوم پرستی کی تاریخ کے اوراق ابھی اتنے بوسیدہ نہیں ہوئے کہ کسی بھی امکانی خطرے سے نمٹنے کے لئے ان سے فوری استفادہ ممکن نہ ہو۔اس لئے قوم پرستی کے جذبے کو کسی بھی طور پر یک رنگ بنانے سے پہلے سو بار سوچنا چاہئے کہ اس کے لئے کسی کثرت میں وحدت والے معاشرے کو کیا قیمت چکانی ہوگی۔
یہی وہ موڑ ہے جہاں ہمیں قوم پرستی کی اس شدت کو بے قابو ہونے سے بچانا ہوگا جس کے فروغ میں جمہوریت اور سیکولرزم کے ساتھ کھلواڑ کا بھی خاصہ عمل دخل ہوتا ہے۔ماضی قریب میں کانگریس سمیت ملک کی ایک سے زیادہ سیکولرزم کا ورد کرتے نہ تھکنے والی پارٹیوں نے اس خوبصورت عوامی نظم کی شکل بگاڑنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔ہر انتہا کے پیچھے ایک دوسری انتہا کارفرما ہوتی ہے۔ وطن عزیز میںؓ ٰٓٗبائیں بازو والوں کو جہاں رفتار زمانہ سے ہم آہنگ نہ ہونے کی قیمت چکانی پڑی وہیں کانگریس کے اندر شدت پسند سوچ کو سیاسی مجبوریوں کانام دے کر دوٹوک مسترد کرنے سے گریز سے بالواسطہ ہندتو کی جڑوں کو پانی ملتا رہا۔
ان جملہ ہائے معترضہ سے قطع نظر ابھی پچھلے ہفتے پیر کو دہلی کی پٹیالہ ہاوس کورٹ کے احاطے میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں، جے این یو کے طلبا اور مدرسین پر جس طرح حملے کئے گئے اور اسی عدالت کے احاطے میں یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے صدر کنہیا کمار کو بھی زدوکوب کرنے کی کوشش کی گئی وہ کسی بھی طرح ایک کثیر فکری معاشرے کے حق میں فال نیک نہیں۔ملک دوستی اوروطن پرستی کے نام پر ہندستان جیسے ملک میں کسی ایک نظریاتی سوچ کو سب پر مسلط نہیں کیا جا سکتا ۔ ایسی کسی بھی کوشش کی ان حلقوں کی طرف سے بھی مخالفت ہوگی جو کسی نہ کسی نظرئیے سے وابستگی کو اپنی پہچان مانتے ہیں۔ بی جے پی، کانگریس اور یساری جماعتوں میں اس اعتدال کو آج بھی خاصی نمائندگی حاصل ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ٹکراو کے ماحول کی عام مذمت نہیں کی جاتی۔عدالتی ذمہ داراں نے بھی بعض وکیلوں کے طرز عمل سے دو ٹوک اختلاف کیا ہے۔
جے این یو واقعے نے ایک سے زیادہ خطوط پر بحث کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اظہار کے لئے دہشت گردی ایک ایسا آسان موضوع بن گیا ہے کہ اس پر ٹی وی مباحثوں کے شرکاء اب ہوم ورک کے بغیر بھی حصہ لے لیتے ہیں۔بالغ ذہن ناظرین کو اس صورت حال کا بخوبی اندازہ ہوگا۔ پچھلے ہفتے صحافتی حلقے میں ایک ایسی ہی بحث میں میں ایک صاحب قریبی فاصلے سے یہ کوڑی لے آئے کہ سارا قصور مذاہب کا ہے۔ایک صاحب نے فوری اصلاح سے کام لیا کہ مذاہب کا نہیں ان کے ناقص اطلاق کاہے۔ایسی بحث اکثر بے نتیجہ ختم ہوتی ہے لیکن اس روز بات سے بات نکلتی گئی ۔ایک کوڑی اتنی دور سے لائی گئی کہ سب اُلجھ کر رہ گئے۔ کہا گیا کہ جس طرح مسیحیت کو ویٹیکنائز کر کے مغرب نے علمی ترقی کی راہ آسان کر لی اُسی طرح دیگر مذاہب کو بھی ان کے اصل مقام پر رقبہ اور حدود کے ساتھ اختیار حکمرانی تفویض کر کے باقی دنیا کو بھی سائنسی ترقی کی آماجگاہ میں تبدیل کر دیا جائے۔بحث کو اسی موڑ پر ادھورا چھوڑ کر اگرچہ سب اپنی انفرادی زندگی کی ضرورتوں کے لئے منتشر ہو گئے لیکن میری طرح بہت ممکن ہے دوسروں کو بھی بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہونا پڑا ہوگا۔
ایک خیال یہ بھی ذہن میں آیا کہ اگر پارلیمانی اجلاس کے آغاز کا موقع نہ ہوتا توکیا یہ معاملہ اتنا طول پکڑتا! شاید نہیں۔ اس لئے کہ ملک میں کسانوں کی خودکشی، دہشت گردی،غریبی، عدم رواداری کے خاتمے کے لئے ہمارے قومی رہنماوں کو جو خدمت اور محنت کرنی ہے ان سے بچنے کے لئے ان چیزوں کا سہارا لیا جاتا ہے اور میڈیا اپنی ٹی آر پی مجبوری کی وجہ سے انہیں طول دینے میں لگ جاتی ہے۔ یہاں بھی موافقت اور مخالفت کا کاروبار اس طرح کیا جاتا ہے کہ ہر جگہ ایک ہی مال دیکھ کر گاہگ بور نہ ہو جائیں۔ اس مرتبہ تو اس کاروبار کو اور آگے بڑھانے کے لئے اسکرین سیاہ کرنے کا وہ حربہ بھی آزمایا گیا جس کے ذریعہ ایمرجنسی کے زمانے میں اخبارات اپنے ادارتی کالموں کو خالی چھوڑ کر یا سیاہ کر کے اپنا بھڑاس نکالا کرتے تھے۔
آج سے پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس شروع ہو رہا ہے۔ حکومت سب کچھ سونگھ چکی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے کُل جماعتی میٹنگ میں ایوان کی کارروائیاں چلانے میں تعاون سے اتفاق بھی کیا ہے لیکن کیا ہوگا اس کا سبھی کو اندازہ ہے۔جے این یو تنازعہ اور حیدر آباد سنٹرل یونیورسٹی میں دلت طالب علم کی خودکشی نیز جاٹ آندولن سمیت ایک سے زیادہ ایسے جواز پہلے سے تیار کر دئیے گئے ہیں جو حکومت کو اور آئندہ حکمرانی کی دہلیز پار کرنے کی منتظر اپوزیشن کو عوام کے حقیقی مسائل کی جگہ ان کے جذبات،خیالات اور مسلط کردہ نظریات سے کھیلنے کی پریکٹس سے محروم نہ رہنے دے۔
Engin ummæli:
Skrifa ummæli