14. maí 2016

چلو کہ ہم مٹا بھی دیں یہ قربتوں کے فاصلے
عبدالسلام عاصم

انشاء اللہ یعنی اگر خدا نے چاہا تو۔ ابھی کچھ دہائی پہلے اس کے استعمال کا دائرہ گلوبلائزیشن کی برکت سے اتنا پھیل گیا تھا کہ اس کی ادائیگی کسی مذہبی پہچان سے مشروط نہیں رہ گئی تھی۔پڑھے لکھے حلقوں میں مکالمات کے دوران اس کا ا ستعمال عام ہوگیا تھا۔ لوگ مختلف تقریبات میں امکانی حوالوں سے بات چیت میں اکثر انشاء اللہ کہتے نظر آنے لگے تھے۔ ایک سلسلہ وار ٹی وی شو میں ایک موقع پر سشمتا سین نے جب وسیم اکرم کی موجودگی میں ایک سے زیادہ موقع پر انشاء اللہ کہا تو مخاطب اینکرنے اس کا پر مزاح نوٹس لیتے ہوئے کرکٹ ہیرو کو غالباً یوں متوجہ کیاکہ محترمہ تو انشاء اللہ کہنے میںآپ سے بھی آگے نکل گئیں۔وسیم جہاں زیر لب مسکرا کر رہ گئے وہیں سشمتا نے کچھ اس طرح اپنی بات کہہ کرماحول کو قہقہہ راز کر دیا کردیا کہ وسیم تو انشاء اللہ بولنے کے عادی ہیں، وہ دل سے بولتی ہیں۔
تہذیبی یگانگت کایہ سلسلہ ختم نہیں ہوا ۔ آج بھی جاری ہے اور اب بھی اس گلاب رُت ادائیگی سے ہونٹ خوبصورت اور کان خوش سمع ہو جاتے ہیں لیکن ابھی کچھ عرصہ پہلے تک جہاں لوگ اس پر چونکتے کم اور خوش زیادہ ہوا کرتے تھے وہیں اب اس کی ادائیگی لوگوں کو کسی حد تک چونکانے لگی ہے۔یعنی تہذیبی اقدار کے میلان میں تہذیبی حوالوں سے ہی خلل پڑنے لگا ہے۔دو تین ماہ قبل میٹرو میں سفر ے دوران اردو میں جشن ریختہ کتابچہ پڑھنے والے کومبینہ طور پر تکلیف دہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔
واقعہ ہے کہ قدموں کے فاصلے کم کرنے والی سائنسی ترقی نے بالواسطہ دلوں کو بھی قریب کرنا شروع کر دیا تھا ۔سابقہ صدی کا یہ فلمی نغمہ ’’ چھوٹی سی یہ دنیا، پہچانے راستے ہیں، تم کہیں تو ملو گے، کبھی تو ملو گے، تو پوچھیں گے حال۔۔۔‘‘عملاًگاوں میں بدلتی دنیا کی انقلاب آفرینی کادائرہ وسیع کر نے لگا تھا،لیکن ارتقا کے سفر کے اس خوشگوار موڑ سے ابھی ایک نسل بھی جی بھر نہیں گزر پائی کہ ایکدم سے کھونے اور پانے کی روایتی ضد نے جیسے پھر سے سر اٹھالیا اور ان تمام تہذیبی اقدار پر دھاوا بول دیا جن کے درمیان ہم آہنگی کا سفر ابھی درمیانی مر حلے میں ہی ہے۔
بہر حال تمام تر قنوطیت کے باوجود ابھی قطعیت سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اچھے دن شروع ہوتے ہی ختم ہو گئے یا نئی اڑان ہمیں واپس وہیں لے آئی ہے جہاں سے ہم اڑے تھے! ہاں، یہ ایک سنگین موڑ ضرورہے جس سے ہمیں گوناگونی اور رنگا رنگی کا اس انداز سے پاس رکھتے ہوئے صحیح سلامت گزرنا ہے کہ آنے والے کل میں اس کا تذکرہ قوموں کو اور قریب آنے کی تحریک دے۔اندیشے کم سے کم ہوتے جائیں اور امکانات کو تقویت حاصل ہو۔ڈرنا انسانی فطرت ہے لیکن ڈراناایک ایسی جبلت ہے جو انسان اختیار کرتے وقت تو ایک محدود دائرے میں گمراہ ہوتا ہے لیکن اس کے بعد خون منھ لگ جانے کے مصداق وہ ڈرنے والوں سے سودے بازی پر اتر آتا ہے۔ اس طرح انسانی امور کے بیشتر معاملات اسی سودے بازی کی نذر ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ترقی پذیر دنیا میں عصری سیاسی منظر نامے کا ایک بڑا حصہ اسی سے عبارت ہے جس میں مذہب کے سیاسی استحصال نے سائنسی ترقی کو مشینی آسائشوں اور جنگی غارت گری کے محاذ پر تو کھلی چھوٹ دے دی ہے لیکن اس ترقی کے نتیجے میں قدموں کے فاصلوں کے ساتھ دلوں کے فاصلے کو بھی کم کرنے والی اس عالمگیریت کو نقصان پہنچایا جارہا ہے جس کے نتیجے میں مشرق کے درد سے مغرب کوآگاہ ہونے میں اور جنوب کی کسی خوشی سے شمال کو سرشار ہونے میں اب مطلق تاخیر نہیں ہوتی اور لوگ ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں اگلے لمحے ہی شریک ہو جاتے ہیں۔یہ سلسلہ رُکا نہیں محض وقتی خلل کا شکار ہے اور جوعالمگیریت نوع انساں کی تقدیر بن چکی ہے وہ مستقبل قریب میں’’انشا ء اللہ‘‘ ڈرنے والے ذہنوں کو ڈرانے والی جبلت کے شکنجے سے آئندہ چند دہائیوں میں ہی مطلق آزاد کر دے گی بشرطیکہ سائنسی ترقی سے مثبت استفادہ کرنے والے ان واقعات سے ہمت نہ ہاریں جوسر دست دنیا کے ایک قابل لحاظ حصے کو ڈسٹرب کئے ہوئے ہے۔
بر صغیر ہند وپاک اور بنگلہ دیش میں حالیہ مہینوں کے بعض واقعات بلا شبہہ تکلیف دہ ہیں۔ ان واقعات نے جن میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر کی پھانسی بھی شامل ہے، بظاہر مایوسی ضرور پیدا کر دی ہے لیکن بہ باطن رد عمل سے اس یقین کو تقویت ملتی ہے کہ یہ محض ایک مرحلہ ہے جس سے باہمت گزرنے میں اتنا نقصان نہیں جتنی تباہی کوئی بھی معمولی پس روی مچا سکتی ہے۔ بنگلہ دیش میں دارکشیدہ امیر جماعت اسلامی کے خلاف 1971 کی اس جنگ کے حوالے سے مقدمہ چلا یا گیا تھا جس کے نتیجے پاکستان فطری طور پردولخت ہوا۔ جس ٹرائل کورٹ میں ان پر مقدمہ چلا وہ کتنا متنازعہ تھا اس پر بحث اتنا ہی بے نتیجہ ہوگا جتنا ایسے دوسری تاریخی واقعات کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کی کوششیں بے نتیجہ رہتی آئی ہیں۔البتہ تازہ بنگلہ دیشی ایپی سوڈ یہ ضرور ثابت کر تا ہے کہ بنگلہ دیش بھی انہی اقوام میں شامل ہے جنہیں تاریخ سے سبق لینے سے کوئی دلچسپی نہیں البتہ تاریخ کو دُہرانے کی لذت سے وہ محروم رہنا نہیں چاہتی تھی۔
ملکوں کا جغرافیہ بدل سکتا ہے ، تاریخ نہیں بدلی جا سکتی۔ اس کا ادراک ان اقوام کو بھی ہے جو کسی نہ کسی طور پرماضی گزیدہ ہیں لیکن ان کا حال اگر بدستور متاثر ہے تو اس کی وجہ ان کی ماضی گزیدگی نہیں بلکہ ماضی گرفتگی ہے۔ہندستان اور پاکستان کو بھی ایک سے زیادہ سطحوں پر کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا ہے ۔ شدتوں میں فرق ضرورہے لیکن منفی نتائج دونوں ہی جگہوں پر کبھی کبھی اس قدر تکلیف دہ شکل میں مرتب ہوتے ہیں کہ انسان کانپ اٹھتا ہے۔ اخباری دستاویزات کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو ہندستان میں ایک مشترک حلقے نے ہندووں اور مسلمانوں کو لحمی کھانوں، لسانی پہچان اور زنانہ ملبوسات کے حوالے سے ایک دوسرے سے اتنا الگ کر دیا ہے کہ دونوں کو ایک دوسرے سے شکایت پیدا ہو گئی ہے۔ڈرنے اور ڈرانے کا کھیل مٹھی بھر لوگ کھیل رہے ہیں لیکن دنوں فرقوں کی اکثریت اس کا نقصان اٹھانے پر مجبورہے۔جس اردو کو تقسیم ہند کے بعد انتہائی فرقہ پرستانہ ماحول میں بالی ووڈ نے زندہ رکھا آج وہ میٹرو میں سفر کرنے والے کسی مسافر کے پاس اگر دستاویز کی شکل میں ہے تو اس پر شک کیا جاتا ہے ۔ یہاں شک کرنے والا اور شک کے دائرے میں آنے والادونوں ظالم اور مظلوم نہیں ایک دوسرے سے خوفزدہ حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور اس خوف کا دونوں طرف سے مٹھی بھر لوگ کاروبار کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے ملک کی مسلم اقلیت کو ایک نقصان یہ پہنچایا ہے کہ وہ پرسنل لا اوردوسرے متعلق بہ اسلام امور تک محدود ہو کر رہ گئی ہے حالانکہ تعلیمی اور معاشرتی محاذ پر ایک زیادہ معاملات میں اقلیتوں کے ساتھ درپیش دشواریوں میں کہیں کم تو کہیں زیادہ نقصان مسلمانوں کا بھی ہورہا ہے۔ مخالف فرقہ پرست حلقہ جہاں مسلمانوں کو اسٹیریوٹائپ کرکے روزگار کے محاذ پر نقصان پہنچا رہا ہے وہیں مسلم قیادت کے نام پر سرگرم عناصر کو شریعت میں عدالتی مداخلت پر اعتراض سے فرصت ملتی ہے تو وہ اپنی شعلہ بیانی سے دہشت گردی اور فرقہ پرستی مخالف اسٹیج سے ملت کا اس طرح جارحانہ دفاع کرتے ہیں کہ ایک طرف جہاں ملی جوش میں غیر صحتمند اضافہ ہو جاتا ہے وہیں دوسری جانب مسلمانوں کے تعلق سے دوسروں کو خوف زدہ کرنے والوں کا کاروبارچمک اٹھتا ہے۔اگر ایسا نہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہندستانی مسلم قیادت نے تعلیم میں مسلمانوں کا کوٹہ ختم کرنے کے حکومت مہاراشٹر کے فیصلے کے خلاف گجرات کے ہاردک پٹیل کی طرح سڑکوں پر محاذ نہیں سنبھالا اور کیوں دو چار مہینے کے لئے جیل نہیں گئے؟۔وقت آگیا ہے کہ داعش وغیرہ کے جھانسے میں آکر یا کسی مبینہ سازش کے نتیجے میں دوسروں کے جیل جانے پر احتجاج کی سرخیوں میں نظر آنے والے لوگ اپنے اکابر کی طرح آئین کے دائرے میں میدان عمل آکر ملت کے ان مسائل کے لئے جدوجہد کریں اور جیل جائیں جو مسائل ملک کی دوسری اقلیتوں سے مختلف نہیں۔

Engin ummæli:

Skrifa ummæli