11. júl. 2016

ذاکر تنازعہ: عصری منظر نامے کو میڈیا کی نظروں سے نہ دیکھا جائے

عبد السلام عاصم

------------------------------------------------------------------------------------------------------
مسلمان اسلام کی پیروی کے لئے عطیع اللہ اور عطیع الرسول کے پابند ہیں ڈاکٹر ذاکر نائک کے نہیں ۔اس لئے نظریاتی انتہاپسندی اور مسلح دہشت گردی سے متاثر موجودہ ماحول میں ایسے کسی کردار کے حوالے سے مسلمانوں کے بارے میں کوئی رائے قائم کر لینا حالات سے نمٹنے میں معاون ہونے کے بجائے صورتحال کو اور ابتر بنا سکتا ہے۔ ذمہ دار حلقوں پر لازم ہے کہ عصری منظر نامے کو’’شور پسند‘‘ اور ’’ناعاقبت اندیش‘‘ میڈیا کی نظروں سے دیکھنے کے بجائے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے غیر میڈیا سیوی لیکن اہم نمائندوں سے رابطہ قائم کر کے اُن رجحانات کا جائزہ لیا جائے جو بلا شبہ تشویشناک ہیں اور ماضی کے بر عکس اب کچھ زیادہ ہی تیزی سے واقعات میں بدل رہے ہیں۔
میڈیا میں بے ہنگم واویلا کے برعکس جہاں تک ڈاکٹر نائک کا تعلق ہے تو ان سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور اتفاق بھی ۔ اتفاق یہ کہ وہ بلاہ شبہہ سامعین کو متاثر کرنے والے حوالہ جاتی مقرر ہیں ۔اختلاف یہ کہ وہ اپنی بات کو عین اسلام بتانے کی کوشش میں بعض اوقات فرشتگی کی حد پار کر جاتے ہیں۔اُس وقت انہیں غالباً ایسا لگتا ہے جیسے سامع سے معاملہ کرنے میں اُن سے کوئی غلطی سرزد ہو ہی نہیں رہی ہے۔جبکہ غلطی کا سرزد نہ ہونا صرف فرشتوں سے ممکن ہے انسانوں سے ہر گز نہیں۔ ویسے بھی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مقرر سے سب سے بڑی غلطی اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے سامع کو پڑھے اور سمجھے بغیر اپنی ساری بات اُس کے کانوں میں انڈیل دیتا ہے۔ باتیں نہ صرف سرسری،پرُلطف، اہم اورسبق آموزہوتی ہیں بلکہ ’’حساس‘‘ اور ’’ مخدوش ‘‘بھی ہوتی ہیں۔ اس لئے ایک مقرر بالخصوص مذہبی مبلغ کے لئے یہ جاننا بے حد ضروری ہونا چاہئے کہ اُس کی کسی بات کا اُلٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔
بدقسمتی یا اتفاق سے ذاکر نائک کے یہاں اس فہم کا فقدان پا یا جاتا ہے۔اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی بات کو منوانے میں معقولیت سے زیادہ اُس ضد کی سیڑھی طے کرنے لگتے ہیں جس کی بلندی سے انہیں ہر مخاطب اپنے سے چھوٹا نظر آنے لگتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اسلام کی ایک مخصوص فکر کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن میرے نزدیک یہ کوئی عیب نہیں ۔اس لئے کہ اسلام سمیت دنیا کا کوئی بھی مذہب، ازم یا فلسفہ یک فکری نہیں۔بس ایک بنیادی میلان ان کے ماننے والوں کو جوڑے رکھتی ہے۔یہ جوڑ اس وقت ٹوٹتا ہے جب اختلاف سے اتفاق کے بجائے اختلاف کیا جانے لگتا ہے اور دوسروں کو اپنے موقف سے اتفاق پر مجبور کرنے کی کوشش شروع کر دی جاتی ہے۔ مناظرہ کلچر بہت حد تک اسی کی پہچان ہے جس میں سارا زور قائل کرنے سے زیادہ مد مقابل کو’’لاجواب‘‘ کرنے پر صرف کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر نائک کا انداز تخاطب دیگر افکار کے تعلق سے کس قدر استہزائی ہوتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔جن افکار و مسالک کو وہ زد پر لیتے ہیں ۔ان کے ماننے والوں پر کیا گزرتی ہے ، اس کا [میڈیکل] سائنس داں ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی سائنسی ادراک نہیں کیا۔البتہ ان کی باتوں سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمام مسالک اسلامیہ میں بھی بس ان کا مسلک ہی ’’حق‘‘ ہے ۔سوشل میڈیا پر اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ایک ہم مشرب نے کچھ اس طرح اپنے احساسات پوسٹ کئے ہیں کہ حالات کے موجودہ آزمائشی موڑ پر اگر ڈاکٹر نائک کے اندر کوئی تبدیلی نظر آئی ہے تو وہ یہ ہے کہ آج وہ اپنی معصومیت کے لئے انہی حلقوں کو گواہ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جو ابھی کل تک ان کی تضحیک کے نشانے پر تھے۔
بہر حال یہ وقت غبار نکالنے کا نہیں بلکہ یہ بتانے کا ہے کہ جو لوگ ملت کے ’’قائد ‘‘ ہونے کے دعویدار ہیں وہ ہر قدم ناپ تول کر’’ٹھیک‘‘ اٹھائیں اور جو ’’ناظمین‘‘ ملت ہونے کے دعویدار ہیں وہ ان تما م چیزوں کو ’’ٹھیک‘‘ کریں جو جانے انجانے میں بکھری پڑی ہیں۔ذاکر نائک کسی طور کھلنائک نہیں لیکن میڈیا میں جس طرح انہیں پیش کیا جارہا ہے اس میں ان کا نادانستہ اشتراک ضرور شامل ہے۔ ڈاکٹر نائک کا اگرآج یوگی ادیتیہ ناتھ، سادھوی پراچی اور ایسے دوسرے ناموں سے موازنہ کیا جارہا ہے تویہ افسوسناک ہی نہیں تشویشناک بھی ہے کیونکہ [خدا نہ کرے]اس کی قیمت چکانے کی نوبت آئی توکسی ایک مبلغ کو نہیں پوری ملت کو چکانی ہوگی۔
کسی مبلغ کو اپنی تبلیغ کے مثبت اور منفی اثرات کے تعلق سے کتنا بالغ نظر ہو نا چاہئے ؟ اس کی ایک مثال یوں دی جاسکتی ہے : چار جوان بیٹوں کاایک باپ کسی اسلم نامی شخص سے جھڑپ میں معمولی لیکن نمایاں چوٹ کے ساتھ اپنے گھر لوٹتا ہے ۔ گھر میں موجود بیٹے جب اُس سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا تو وہ ممکنہ ردعمل کی پروا کئے بغیر بے کم و کاست جھگڑے کی تفصیل بتا دیتا ہے ۔ بڑا بیٹا کہتا ہے کہ ’’ اختلاف اپنی جگہ لیکن اسلم انکل کو آپ پر ہاتھ نہیں اٹھا نا چاہئے تھا‘‘، دوسرا بیٹا پولس میں رپورٹ لکھوانے پر زور دیتا ہے۔ تیسربیٹا باپ کی حالت دیکھ کر نم دیدہ ہوجاتاہے اور چوتھا واقعہ سُننے کے بعد گھر سے باہر نکل جاتا ہے۔ آدھے گھنٹے کے بعد پولس دروازے پر دستک دیتی ہے۔ دروازہ کھلتا ہے تو پولس سے یہ خبر ملتی ہے کہ چوتھے بیٹے کے ہاتھوں اسلم کا قتل ہو گیا۔اس چھوٹی سی فرضی کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ’’بولنے والے کو بولنے سے پہلے یہ معلوم کر لینا چاہئے کہ سُننے والوں میں سے کون کس طرح اور کس حد تک متاثر ہو سکتا ہے‘‘۔
مذہبی رہنماوں کے غیر دور اندیشانہ طرز عمل سے شکایت کا ہر عہد گواہ ہے۔ علامہ اقبال نے بھی یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ ’’جنگ وجدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے‘‘ ۔ اگر علامہ آج بقید حیات ہوتے تو شاید وہ بھی اپنے اس منظوم جملے کی وجہ سے اُس تشدد کی زد میں آ جاتے جس کی زد میں آج دوسرے قلمکار آرہے ہیں۔ مذہب اور برداشت کو ایک دوسرے کی ضد بنانے کا کام کسی نے بھی باقاعدہ کسی اعلان کے ساتھ نہیں کیا لیکن طریق عمل وہ اختیار کیا گیا کہ ایک اچھا معاشرہ ’’خواب‘‘ بن کر رہ گیا اور اچھی باتوں کا’’ورد ‘‘حقیقت بن گیا۔سیاق و سباق سے ہٹ کر’’یہود و نصارا کو دوست نہ بناو ‘‘کی رات دن کی رٹ نے آج ملت کو جس آزمائش میں مبتلا کر رکھا ہے وہ ہر گز مصلحت خداوندی نہیں بلکہ اپنے اعمال کی سزا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ میڈیا سیوی ملی رہنمایان اس کا ادراک کرنے کے بجائے اسے آزمائش کانام دے کر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے یہ دنیا بس ایک آزمائش گاہ ہے۔الاماں الحذر۔
وقت آگیا کہ ملت کا بیدار حلقہ اس طرح کا استدلال کرنے والوں کے جھانسے میں آنے کے بجائے خود احتسابی سے کام لے اور ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است‘‘ میں پوشیدہ اس مفہوم سے بھی استفادہ کرے کہ ’’بزرگ اپنی کسی کمزوری کی بنا پر اگر کوئی غلطی کر گئے ہیں تو محض بزرگوں کے احترام میں اس کی تقلید نہ کی جائے ‘‘۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ معاشرے کے کھلے عام اور درپردہ دونوں قسم کے دشمن عناصر ہمیشہ مٹھی بھر ہوتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے اچھی خاصی آبادی کا جینا حرام ہو کر رہ جاتا ہے۔معاشرے کی خرابیوں پر کڑھنے والا پڑھا لکھا طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ناموافق عناصر کہیں اور سے نہیں آتے بلکہ ہمارے ہی گھروں میں پیدا ہوتے اور پرورش پاتے ہیں۔تابناک روایتوں کو مان کر چلنا کبھی ہماری فطرت کا خاصہ ہوا کرتا تھا لیکن ان روایات میں جب ہماری آنکھوں کے سامنے خرابیاں در آنے لگیں تو ہم نے بغاوت کرنے کے بجائے آلودہ روایات سے چپکے رہنے کو اپنی مجبوری بنالی۔ انجام سامنے ہے لیکن اب بھی اتنی دیر نہیں ہوئی کہ وبائی بخار کو سرطان قرار دے کر علاج کی تدبیر کرنے کے بجائے جو کچھ ہو رہا ہے اسے تقدیر مان لیا جائے۔
عبد السلام عاصم
-----------------------------------------------------------
مسلمان اسلام کی پیروی کے لئے عطیع اللہ اور عطیع الرسول کے پابند ہیں ڈاکٹر ذاکر نائک کے نہیں ۔اس لئے نظریاتی انتہاپسندی اور مسلح دہشت گردی سے متاثر موجودہ ماحول میں ایسے کسی کردار کے حوالے سے مسلمانوں کے بارے میں کوئی رائے قائم کر لینا حالات سے نمٹنے میں معاون ہونے کے بجائے صورتحال کو اور ابتر بنا سکتا ہے۔ ذمہ دار حلقوں پر لازم ہے کہ عصری منظر نامے کو’’شور پسند‘‘ اور ’’ناعاقبت اندیش‘‘ میڈیا کی نظروں سے دیکھنے کے بجائے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے غیر میڈیا سیوی لیکن اہم نمائندوں سے رابطہ قائم کر کے اُن رجحانات کا جائزہ لیا جائے جو بلا شبہ تشویشناک ہیں اور ماضی کے بر عکس اب کچھ زیادہ ہی تیزی سے واقعات میں بدل رہے ہیں۔
میڈیا میں بے ہنگم واویلا کے برعکس جہاں تک ڈاکٹر نائک کا تعلق ہے تو ان سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے اور اتفاق بھی ۔ اتفاق یہ کہ وہ بلاہ شبہہ سامعین کو متاثر کرنے والے حوالہ جاتی مقرر ہیں ۔اختلاف یہ کہ وہ اپنی بات کو عین اسلام بتانے کی کوشش میں بعض اوقات فرشتگی کی حد پار کر جاتے ہیں۔اُس وقت انہیں غالباً ایسا لگتا ہے جیسے سامع سے معاملہ کرنے میں اُن سے کوئی غلطی سرزد ہو ہی نہیں رہی ہے۔جبکہ غلطی کا سرزد نہ ہونا صرف فرشتوں سے ممکن ہے انسانوں سے ہر گز نہیں۔ ویسے بھی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک مقرر سے سب سے بڑی غلطی اس وقت ہوتی ہے جب وہ اپنے سامع کو پڑھے اور سمجھے بغیر اپنی ساری بات اُس کے کانوں میں انڈیل دیتا ہے۔ باتیں نہ صرف سرسری،پرُلطف، اہم اورسبق آموزہوتی ہیں بلکہ ’’حساس‘‘ اور ’’ مخدوش ‘‘بھی ہوتی ہیں۔ اس لئے ایک مقرر بالخصوص مذہبی مبلغ کے لئے یہ جاننا بے حد ضروری ہونا چاہئے کہ اُس کی کسی بات کا اُلٹا اثر بھی ہو سکتا ہے۔
بدقسمتی یا اتفاق سے ذاکر نائک کے یہاں اس فہم کا فقدان پا یا جاتا ہے۔اور یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ وہ اپنی بات کو منوانے میں معقولیت سے زیادہ اُس ضد کی سیڑھی طے کرنے لگتے ہیں جس کی بلندی سے انہیں ہر مخاطب اپنے سے چھوٹا نظر آنے لگتا ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اسلام کی ایک مخصوص فکر کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن میرے نزدیک یہ کوئی عیب نہیں ۔اس لئے کہ اسلام سمیت دنیا کا کوئی بھی مذہب، ازم یا فلسفہ یک فکری نہیں۔بس ایک بنیادی میلان ان کے ماننے والوں کو جوڑے رکھتی ہے۔یہ جوڑ اس وقت ٹوٹتا ہے جب اختلاف سے اتفاق کے بجائے اختلاف کیا جانے لگتا ہے اور دوسروں کو اپنے موقف سے اتفاق پر مجبور کرنے کی کوشش شروع کر دی جاتی ہے۔ مناظرہ کلچر بہت حد تک اسی کی پہچان ہے جس میں سارا زور قائل کرنے سے زیادہ مد مقابل کو’’لاجواب‘‘ کرنے پر صرف کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر نائک کا انداز تخاطب دیگر افکار کے تعلق سے کس قدر استہزائی ہوتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔جن افکار و مسالک کو وہ زد پر لیتے ہیں ۔ان کے ماننے والوں پر کیا گزرتی ہے ، اس کا [میڈیکل] سائنس داں ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی سائنسی ادراک نہیں کیا۔البتہ ان کی باتوں سے یہ تاثر ملتا ہے جیسے وہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمام مسالک اسلامیہ میں بھی بس ان کا مسلک ہی ’’حق‘‘ ہے ۔سوشل میڈیا پر اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ایک ہم مشرب نے کچھ اس طرح اپنے احساسات پوسٹ کئے ہیں کہ حالات کے موجودہ آزمائشی موڑ پر اگر ڈاکٹر نائک کے اندر کوئی تبدیلی نظر آئی ہے تو وہ یہ ہے کہ آج وہ اپنی معصومیت کے لئے انہی حلقوں کو گواہ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جو ابھی کل تک ان کی تضحیک کے نشانے پر تھے۔
بہر حال یہ وقت غبار نکالنے کا نہیں بلکہ یہ بتانے کا ہے کہ جو لوگ ملت کے ’’قائد ‘‘ ہونے کے دعویدار ہیں وہ ہر قدم ناپ تول کر’’ٹھیک‘‘ اٹھائیں اور جو ’’ناظمین‘‘ ملت ہونے کے دعویدار ہیں وہ ان تما م چیزوں کو ’’ٹھیک‘‘ کریں جو جانے انجانے میں بکھری پڑی ہیں۔ذاکر نائک کسی طور کھلنائک نہیں لیکن میڈیا میں جس طرح انہیں پیش کیا جارہا ہے اس میں ان کا نادانستہ اشتراک ضرور شامل ہے۔ ڈاکٹر نائک کا اگرآج یوگی ادیتیہ ناتھ، سادھوی پراچی اور ایسے دوسرے ناموں سے موازنہ کیا جارہا ہے تویہ افسوسناک ہی نہیں تشویشناک بھی ہے کیونکہ [خدا نہ کرے]اس کی قیمت چکانے کی نوبت آئی توکسی ایک مبلغ کو نہیں پوری ملت کو چکانی ہوگی۔
کسی مبلغ کو اپنی تبلیغ کے مثبت اور منفی اثرات کے تعلق سے کتنا بالغ نظر ہو نا چاہئے ؟ اس کی ایک مثال یوں دی جاسکتی ہے : چار جوان بیٹوں کاایک باپ کسی اسلم نامی شخص سے جھڑپ میں معمولی لیکن نمایاں چوٹ کے ساتھ اپنے گھر لوٹتا ہے ۔ گھر میں موجود بیٹے جب اُس سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا تو وہ ممکنہ ردعمل کی پروا کئے بغیر بے کم و کاست جھگڑے کی تفصیل بتا دیتا ہے ۔ بڑا بیٹا کہتا ہے کہ ’’ اختلاف اپنی جگہ لیکن اسلم انکل کو آپ پر ہاتھ نہیں اٹھا نا چاہئے تھا‘‘، دوسرا بیٹا پولس میں رپورٹ لکھوانے پر زور دیتا ہے۔ تیسربیٹا باپ کی حالت دیکھ کر نم دیدہ ہوجاتاہے اور چوتھا واقعہ سُننے کے بعد گھر سے باہر نکل جاتا ہے۔ آدھے گھنٹے کے بعد پولس دروازے پر دستک دیتی ہے۔ دروازہ کھلتا ہے تو پولس سے یہ خبر ملتی ہے کہ چوتھے بیٹے کے ہاتھوں اسلم کا قتل ہو گیا۔اس چھوٹی سی فرضی کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ’’بولنے والے کو بولنے سے پہلے یہ معلوم کر لینا چاہئے کہ سُننے والوں میں سے کون کس طرح اور کس حد تک متاثر ہو سکتا ہے‘‘۔
مذہبی رہنماوں کے غیر دور اندیشانہ طرز عمل سے شکایت کا ہر عہد گواہ ہے۔ علامہ اقبال نے بھی یہ کہنے سے گریز نہیں کیا کہ ’’جنگ وجدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے‘‘ ۔ اگر علامہ آج بقید حیات ہوتے تو شاید وہ بھی اپنے اس منظوم جملے کی وجہ سے اُس تشدد کی زد میں آ جاتے جس کی زد میں آج دوسرے قلمکار آرہے ہیں۔ مذہب اور برداشت کو ایک دوسرے کی ضد بنانے کا کام کسی نے بھی باقاعدہ کسی اعلان کے ساتھ نہیں کیا لیکن طریق عمل وہ اختیار کیا گیا کہ ایک اچھا معاشرہ ’’خواب‘‘ بن کر رہ گیا اور اچھی باتوں کا’’ورد ‘‘حقیقت بن گیا۔سیاق و سباق سے ہٹ کر’’یہود و نصارا کو دوست نہ بناو ‘‘کی رات دن کی رٹ نے آج ملت کو جس آزمائش میں مبتلا کر رکھا ہے وہ ہر گز مصلحت خداوندی نہیں بلکہ اپنے اعمال کی سزا ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ میڈیا سیوی ملی رہنمایان اس کا ادراک کرنے کے بجائے اسے آزمائش کانام دے کر یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے یہ دنیا بس ایک آزمائش گاہ ہے۔الاماں الحذر۔
وقت آگیا کہ ملت کا بیدار حلقہ اس طرح کا استدلال کرنے والوں کے جھانسے میں آنے کے بجائے خود احتسابی سے کام لے اور ’’خطائے بزرگاں گرفتن خطا است‘‘ میں پوشیدہ اس مفہوم سے بھی استفادہ کرے کہ ’’بزرگ اپنی کسی کمزوری کی بنا پر اگر کوئی غلطی کر گئے ہیں تو محض بزرگوں کے احترام میں اس کی تقلید نہ کی جائے ‘‘۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ معاشرے کے کھلے عام اور درپردہ دونوں قسم کے دشمن عناصر ہمیشہ مٹھی بھر ہوتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے اچھی خاصی آبادی کا جینا حرام ہو کر رہ جاتا ہے۔معاشرے کی خرابیوں پر کڑھنے والا پڑھا لکھا طبقہ اچھی طرح جانتا ہے کہ ناموافق عناصر کہیں اور سے نہیں آتے بلکہ ہمارے ہی گھروں میں پیدا ہوتے اور پرورش پاتے ہیں۔تابناک روایتوں کو مان کر چلنا کبھی ہماری فطرت کا خاصہ ہوا کرتا تھا لیکن ان روایات میں جب ہماری آنکھوں کے سامنے خرابیاں در آنے لگیں تو ہم نے بغاوت کرنے کے بجائے آلودہ روایات سے چپکے رہنے کو اپنی مجبوری بنالی۔ انجام سامنے ہے لیکن اب بھی اتنی دیر نہیں ہوئی کہ وبائی بخار کو سرطان قرار دے کر علاج کی تدبیر کرنے کے بجائے جو کچھ ہو رہا ہے اسے تقدیر مان لیا جائے۔

Engin ummæli:

Skrifa ummæli