13. ágú. 2016

محاسبہ سائنسی خطوط پر کیا جائے نظریاتی بنیاد پر نہیں

عبدالسلام عاصم

اخباری قارئین کو یاد ہوگا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے لال قلعہ کی فصیل سے اپنے اولین خطاب میں آزاد ہندستان کی قومی تاریخ میں پہلی مرتبہ قوم سے فرقہ وارانہ اور ذات پرستانہ تشدد کے محاذ پر دس برسوں کی مہلت مانگی تھی۔قوم کا ردعمل پچھلے دو برسوں میں کیا رہا یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ہندومسلم فساد اور ذات پات کی لڑائی تو درکنار اب تو جانور اور انسان کے نام پر بھی تشدد ہی تشدد کا دور دورہ ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ عدم تشدد کے دس سال کی مہلت مانگنے والے مسٹر مودی پچھلے دنوں گؤ رکشکوں سے یہ اپیل کرنے پر اتر آئے کہ اگرمارنا ہی ہے تو اُنہیں نشانہ بنایا جائے۔
مسائل اور بھی ہیں جن کی نوعیت اور موجودگی میں آزاد ہندستان کے 69 برسوں کا سفر خاطر خواہ طور پر اطمینان بخش نظر نہیں آتا۔ ان میں ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے روزگار کی شدید قلت،بارش کے رحم و کرم پر زندہ رہنے پر مجبور کسانوں کی خودکشی کے مسلسل پیش آنے والے واقعات،خواتین کے خلاف سماجی جرائم کی دل ہلادینے والی وارداتیں اوراخلاقی چوکیداری کی آڑ میں تہذیبی غارت گری سمیت اور بھی پریشانیاں ہیں جنہیں دور کرنے کی قومی کوشش اور حالات کی سنگینی میں اب تک وہ میل پیدا نہیں ہو سکی ہے جو ایک بہتر اور خوشحال سماج کی تشکیل کو یقینی بنانے کے لئے ناگزیر ہے۔
ان دنوں جموں کشمیر کا محاذ بھی گرم ہے جہاں حالات بدستور مکدر ہیں ۔آئیے اس ایک موضوع پر ہی غورکرتے ہیں ۔ منظر نامہ یہ ہے کہ سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں لگاتارپانچویں ہفتے نماز جمعہ ادا نہیں کی جا سکی۔کرفیو اور دیگر سخت پابندیوں کے ساتھ موبائل سروس میں خلل کا وقفے وقفے سے سلسلہ جاری ہے جو کسی صورت حالات میں بہتری کی مستحکم پیش رفت کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔ایسے میں پارلیمنٹ کے برشگالی اجلاس کے آخری دن آل پارٹی میٹنگ میں وزیر اعظم نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ وزارت خارجہ کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر کے جو لوگ دنیا کے مختلف ملکوں میں رہتے ہیں اُن سے رابطہ کیا جائے اور ان سے پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی خستہ حالی کی بابت جانکاری حاصل کر کے اقوام عالم کو اس سے آگاہ کیا جائے۔
یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں بھی آزادی کی تحریک اپنا وجود رکھتی ہے لیکن جموں کشمیر کی زبوں حالی کے دفاع میں پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی خستہ حالی کی مثال دے کر ہم وہ مقصدحاصل نہیں کر سکتے جو ہماری سیکولر سوچ کا حصہ ہے۔پاکستان تو آج بھی کشمیر کو دو قومی نظریئے کے فریم میں فٹ دیکھنا چاہتا ہے جبکہ ہندستان اس نظریئے کو رد کرتا ہے اور ماضی قریب کی ایک ہند پاک جنگ مذہب اور قومیت کے حوالے سے ہندستانی سوچ کی تصدیق بھی کر چکی ہے ۔ اس حقیقت کا عملی مشاہدہ کرنے کے باوجود اگرہمارے رہنما یان جموں کشمیر سے مربوط خارجی منظر نامے پر تضیع اوقات والی بحث میں الجھے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں تو ان کی یہ سوچ بے حسی کی ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جسے دیکھ کر اچھے سے اچھے امید پسند کی بھی ہمت جواب دے دے۔
جموں کشمیر کا کسی بھی طرح پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ہند یونین کے اندرکشمیر جہاں داخلی خود مختاری کے دیرینہ مطالبے اورمحدود علاحدگی پسندانہ رجحانات کی سیاست کی وجہ سے معاشرتی اور اقتصادی طور پر عدم استحکام سے دوچارہے وہیں اُس پار کی صورتحال بالکل بر عکس ہے ۔ نام نہاد ’’آزاد کشمیر ‘‘ پاکستان کا غلام خطہ ہے۔اس کی تصدیق کے لئے کنٹرول لائن پار کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ آن لائن میڈیا کے عہد میں اب ایک طرف جہاں افترا پردازی کی کوششیں اگلے ہی لمحے بے نقاب ہو جاتی ہیں وہیں دنیا کے کسی بھی خطے کی حالت پر اب کسی قسم کا آہنی پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔البتہ جموں کشمیر کے حالات اگر آج بھی متاثر چلے آرہے ہیں تو اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے معاملات کو التوا میں ڈالنے کی عادت ڈال لی ہے۔ نتیجے میں کشمیر کو جوڑنے اور توڑنے کی بالترتیب ہندستانی اور پاکستانی کوششوں کے ٹکراو میں تھکان کا وقفہ ہی اس جنت ارضی میں امن کا عارضی وقفہ بن کر رہ گیا ہے ۔ اس وقفے میں بھی خوف زیادہ ہوتا ہے اور چین کم۔سری نگر اور آس پاس کی مقامی آبادیاں تو جیسے اس صورتحال کی عادی ہو گئی ہیں لیکن خطے کے لوگ آج بھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ایک دن شعور کا سورج دونوں طرف کے سیاسی ذہنوں کو یکساں طور پر منور کرتا ہو اطلوع ہوگا۔ ایسے امید پرستوں پر اُس وقت فطری طور پر مایوسی چھا جاتی ہے جب مبارزت پر مکالمت کو ترجیح دینے کے مرحلے میں بھی دونوں طرف سے بے ہنگم قدم ہی اٹھائے جانے لگتے ہیں۔
کشمیر میں تشدد کا تازہ سلسلہ اندیشے سے زیادہ دراز ہوجانے ،اقوام عالم کی توجہ میں مکالماتی حد تک شدت آجانے اور پاکستان کی طرف سے اسے بنیادی ہند پاک تنازعہ کے طور پر دنیا سے منوانے کی دیرینہ مہم میں جان ڈالنے کی کوشش کے درمیان وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے گزشتہ ہفتہ پارلیمنٹ میں جہاں یہ بیان دے دیا کہ ہندستان صرف پاک مقبوضہ کشمیر پر پاکستان سے بات کرنا چاہتا ہے اور جموں و کشمیر پرپاکستان سے مذاکرات کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔وہیں ایک روز کے وقفے سے امور خارجہ کے پاکستانی مشیر سرتاج عزیز نے بھی یہ کہہ کر جوابی اننگ کھیلنے کی خانہ پُری کر دی کہ پاکستان کشمیر پر مذاکرات کے لئے ہندستان کو مدعو کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔دونوں ممالک ایک دوسرے کی طرف رُخ کر کے جب اس لہجے میں بالواسطہ اظہار خیال کرنے لگتے ہیں تو باشعور لوگ، خاص طور پر جموں کشمیر کے حوالے سے ہند پاک اختلافات ، معاملات اور مذاکرات سے متعلق اخباری دستاویزات سے گزرنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ تھکان اتارنے کا وقت آگیا اور سرحدی خطہ پھر ایک ایسے وقفے کی طرف بڑھ رہا ہے جس میں متعلقین جہاں اپنی تھکان اتاریں گے وہیں عام زندگی بظاہرمعمول پر نظر آنے لگے گی ۔ بہ الفاظ دیگر مقامی آبادی کو مستقبل میں ایک آزمائش سے گزرنے تک اتنی فرصت مل جائے گی کہ وہ کچھ یومیہ زندگی کے معاملات بھی کر لیں۔
بیسویں اور اکیسویں صدی کی سات دہائیوں پر محیط یہ منظر نامہ اس قدر ٹھہرا ہوا ہے کہ کسی بھی منظر کے پس منظر کو سمجھنے کے لئے کسی فلیش بیک میں جانے کی ضرورت نہیں ۔ ایک سے زیادہ نسلیں اس کی مار جھیلتی آرہی ہیں۔ یہ سلسلہ کہاں جاکر رُکے گا یہ کہنا آسان نہیں لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ محدودد مفادات والے گروہوں میں بٹی دنیا میں عالمگیریت کا انحصار پسند انقلاب آجانے کے بعد بھی اگر بر صغیر کے ان دونوں ملکوں کی ترجیحات نہیں بدلیں تویہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی عار نہیں ہونا چاہئے کہ ہند وپاک ہی نہیں پورے جنوبی ایشیا کے لئے آئندہ بھی تکلیف دہ آزمائشوں کے ہی دن دراز ہونے جارہے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نزاع علاقائی تعاون کی راہ میں مسلسل ایک بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے جس کی قیمت سارک کو بھی چکانا پڑ رہا ہے۔ ایسا نہیں اس مسئلے کا کوئی اختراعی یا غیر روایتی حل موجود نہیں ہے۔ماضی میں ایسے حل سے نہ صرف رجوع کیا گیا ہے بلکہ قریب پہنچنے میں دونوں ہی ممالک کی اعلیٰ قیادتیں کسی حد تک کامیاب بھی رہیں۔پھر کیا وجہ ہے کہ بڑھتے ہوئے وسائل کا رُخ ایسے کسی حل کی طرف موڑنے کے بجائے اُ نہیں در اندازی، دہشت گردی اورخار دار حصار بندی تک محدود کر دیا گیا ہے۔آزادی کی 69 ویں سالگرہ کے موقع پر حکمراں اورحکومت کے منتظر اپوزیشن والے اس محاذ پر پر کچھ بھی سوچیں ترقی پسند سوچ کا تقاضہ یہی ہے کہ فکری محاسبے سے کام اب سائنسی خطوط پر لیا جائے نظریاتی بنیاد پر نہیں ۔

Engin ummæli:

Skrifa ummæli