قومی سیاست میں آنیوالی تبدیلی کے پنہاں عمل
عبدالسلام عاصم
بچپن میں ہم چلڈرن پارک میں جھولا جھولنے جاتے تھے۔ اس وقت آبادی اتنی زیادہ نہیں تھی پھر بھی جھولوں پر جھولنے والے بچوں کی تعداد ہمیشہ جھولوں سے زیادہ ہوتی تھی۔ بچے کئی طرح کے ہوتے تھے۔ کچھ دبنگ، کچھ دبنگوں کے ساتھی اور باقی بچے موقع ملنے کا انتظار کرنے یا مظلوم صورت بنا کر تماشہ دیکھنے والے ہوتے تھے۔ یہ منظرنامہ بچپن میں بس پالینے کی خوشی اور نہ پانے کے افسوس تک آنکھوں کا حصہ رہا۔ دل اور دماغ پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔
اس معاملے کو دل پر لینے اور ذہنی سطح پر سمجھنے کا موقع تب ملا جب ہم اپنے بچوں کو چلڈرن پارک لے جانے لگے۔ پورے منظر نامے پر بالغ نظروں سےغور کرنے پر پتہ چلا کہ جب دبنگ بچے جھولا جھولتے ہیں تو اپنی باری کا انتظار کرنے والے بچوں کا ایک حلقہ اس کوشش میں لگ جاتا ہے کہ جھولنے والے کو جھولا چھوڑنے مجبور کیا جائے۔ اس میں کبھی وہ ہاتھا پائی کے بغیر کامیاب ہو جاتے تھے تو کبھی ساحر کے اس خیال کو ’’اپنا حق بے رحم زمانے سے چھین پاو تو کوئی بات بنے۔۔۔‘‘ عملی جامہ پہنا نے کے لئے لڑ پڑتے تھے۔ یہ شرارتیں عام طور پر جھگڑے اور تکرار کے باوجود معصومیت کے دائرے میں ہوتی تھیں اس لئے ’’اکثر‘‘ کھیل ختم ہونے کے ساتھ موڈ بھی ٹھیک ہو جاتا تھا۔ یہاں میں نے لفظ اکثر کو قوسین میں اس لئے لکھا ہے کہ والدین کی شفقت سے محروم اور ان کی بے ہنگم ڈانٹ ڈپٹ کی وجہ سے گھر سے نفرت اور غلط صحبت سے رغبت رکھنے والے بچے ان جھگڑوں کو بھی خون سے رنگنے کی راہ پر چل پڑتے تھے۔
اس ضروری لیکن کسی قدر لمبی تمہید کو ذہن میں رکھ کر موجودہ قومی سیاست کے کھیل کا جائزہ لیا جائے تو بہت کچھ بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔ بچوں کے کھیل کے حوالے سے جو باتیں کی گئی ہیں ان میں ایک نفسیات کا عنصر بھی پوشیدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ جھولے پر سے کسی دبنگ کو اتارنے کی جان توڑ کوشش کرنے والا دوسرا دبنگ جھولے پر قبضہ جمانے سے قبل اپنی ذہنی رفتار اس قدر تیز کر چکا ہوتا ہے کہ میدان عمل میں اترتے ہی ایکدم سے کلائمیکس کی طرف بڑھ جاتا ہے۔
کانگریس اور دوسری سیکولر پارٹیوں نے سیکولرزم کو اپنے محدود مفادات کے لئے جہاں ستر برس میں بھنا کر ختم کردیا، وہیں بی جے پی اینڈ کمپنی شدت پسندانہ نظریاتی سیاست کو ایکدم سے کیش کرنے پر اتر آئی ہیں۔ سیاست میں خوف اور نفرت کی سیاست کوئی نئی بُری چیز نہیں لیکن اس کی موجودہ یکطرفگی کی تاب دنیا میں آج تک کوئی بھی قوم نہیں لا سکی ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ مفروضات کی بنیاد پر انتقام پسندانہ سیاست نے کبھی کسی قوم کو سربلندی عطا نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ اشتہاری میڈیا کے قائم کردہ تاثر کے برعکس عوام امن اور ترقی کی خالی خولی باتوں سے اوبنے لگے ہیں۔ انہیں رات دن ٹی وی پر اندیشوں سے بھرے مذاکرات سے نفرت سی ہونے لگی ہے۔
ایسے میں اگر یہ کہا جائے کہ ۲۰۱۹ کے الیکشن کے نتائج ۲۰۰۴ کے انتخابی نتائج کو دوہرا سکتے ہیں تو ’’بہت حد تک‘‘ اس سوچ کی نوعیت ہوائی بات جیسی ضرور ہوگی لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کبھی کبھی ’’کسی حد تک‘‘ کی امید بھی بر آتی ہے۔ یہ تجزیہ بہر حال موافقانہ یا مخالفانہ نہیں بلکہ موجودہ حکومت کے عزائم کے اس سفرکا محاکمہ ہے جس میں اس کی ساری توجہ تیز رفتاری پر ہے، راستہ ہموار کرنے پر نہیں جبکہ ناہموار راستے پر دوسروں کو پچھاڑنے کے لئے سرپٹ بھاگنے سے وہ منزل کبھی نہیں ملتی جس کی آرزو سیاسی پارٹیوں کے دل سے زیادہ ذہن میں ہوتی ہے۔
ماضی بعید میں جہاں سیاسی حکمرانی کے منزل رُخی سفر میں راستہ ہموار کرنے کو اولیت دی گئی تھی وہیں مرحلہ وار خرابیاں در آنے کے بعد ۱۹۷۵ کے ایمرجنسی لگانے کے انتہائی آمرانہ اقدام نے آگے چل کر کسی کو بھی سنبھلنے نہیں دیا۔ ۱۹۷۷ کے بعد تو اس بے سمتی میں اور تیزی آئی۔ نوبت قتل و غارتگری تک پہنچی لیکن ہوش کے ناخن کسی نے نہیں لئے۔ میڈیا کا جو بے جااستحصال آج ہمارے سامنے ہے وہ بھی ایکدم سے برپا ہونے والا کوئی بوالعجب واقعہ نہیں۔ اس کی بنیاد بھی ماضی میں ہی رکھ دی گئی تھی۔ ثبوت کے لئے لائبریریاں کھنگالنے کی ضرورت نہیں گوگل کا بٹن دبا کر سب کچھ دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ ہاں! میڈیا کا استحصال ہواتھا لیکن اس طرح نہیں۔ دراصل ہمارا ایک معاشرتی المیہ یہ بھی ہے کہ جو منفی تبدیلی ہمیں راس آتی ہے ہم اس کے خلاف کبھی نہیں بولتے۔ سر دست بھی یہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ سوشل میڈیا، فیس بک، ٹوئیٹروغیرہ سبھی اسی طرح آلودہ ہیں جس طرح کل کی محدود میڈیا ’’محدود‘‘ پیمانے پر سہی لیکن آلودہ رہی۔ یہاں لفظ ’’محدود‘‘ کا استعمال میں نے اس لئے کیا ہے تاکہ جذباتی قاری کو باتیں یکطرفہ نہ لگیں۔ بہر حال سچ تو یہ ہے کہ جن برائیوں میں ہم اضافہ دیکھتے ہیں وہ اضافہ ’’برائی‘‘ کا نہیں اس کی ’’بروقت خبرنگاری‘‘ کا ہے۔ فی الحقیقت سائنسی ترقی نے ہمیں عام تاثر کے برعکس صرف گمراہ ہی نہیں کیا بلکہ کئی سیدھے راستوں میں پوشیدہ ٹیڑھے پن کو بے نقاب بھی کیا ہے۔
ان جملہ ہائے معترضہ سے قطع نظر دیکھا جائے تو موجودہ حکومت بظاہر اٹل بہاری واجپئی حکومت ہی کی طرح ’’احساس خیر‘‘ اور ’’درخشاں ہندستان‘‘ کے خواب اپنی حکمرانی جاری رکھنے کے لئے کیش کرنا چاہتی ہے۔
بدعنوانیوں کے الزامات سے موجودہ حکومت کا دامن بھی پاک نہیں جس کے مختلف پیمانے ہیں ۔نچلی سطح سے لے کر حکومتی سطح تک اس بد عنوانی کی جڑیں مبینہ طور پر پھیل چکی ہیں۔ ایسے میں لال قلعہ کی فصیل سے اس بار بھی وزیر اعظم نے کسی خود احتسابی سے کام لینے کے بجائے بالواسطہ انتخابی تقریر تک ہی اپنی باتیں محدود رکھیں۔ لگاتار تیسری بار ایک ہی مقام سے امن و سکون کی مسلسل اپیل عملاً اس بات کا اعترف ہے کہ ملک کا ہر طبقہ خود کو مامون و محفوظ تصور نہیں کرتا۔ (یہی بات سابق نائب صدر نے کیا کہہ دی کہ طوفان اٹھ گیا اور بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ جو مقصد تھا وہی فوت ہو گیا۔ دراصل اس کا فوت ہونا بھی ایک مقصد تھا۔ رہ گئی محترم انصاری کے بارے میں یہ کہنے کی کہ اب باقی زندگی وہ جس ملت کے ساتھ گزاریں گے اسی کی بات کریں گے، تو یہ بھی سرے سے غلط نہیں)۔
موجودہ منظرنامے میں حکومت کے تمام تر دعووں کے باوجود ملک و قوم کی حالت میں کوئی سدھار نظر نہیں آتا۔ سال بہ سال حکومت سابقہ انتظامیہ کی ناقص کارکردگیوں کو ہی نشانہ بنا کر آگے بڑھ رہی ہے۔ اس طرح قوم کو بعض پرانے تکمیل طلب وعدوں کے جگہ نئے وعدوں اور نعروں کا سامنا ہے۔ ان کا سامنا کرنے والوں کی اکثریت جہاں خاموش ہے وہیں اس کے پرشور مشتہرین نے آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے۔ انتخابی موڑ پر یہ شور میڈیا کے تعاون سے ایک سماں ضرور باندھ سکتا ہے لیکن اس کے بدستور قائم رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔ ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ ۲۰۱۹ کا انتخابی منظر نامہ اس لحاظ سے مختلف ہوگا کہ اس سے پہلے کسی حکمراں حلقے نے عملاً ’’اپوزیشن مکت‘‘ سیاست کا سہارا نہیں لیا تھا۔ اس کی ایک دو مثالیں بھی پیش کی جا سکتی ہیں۔ جمہوریت میں لیکن ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تو کافی ہے، پشتے پر مینار کھڑا کرکے نا آسودگی کے خلاف عوامی نا راضگی کےسیلاب کو نہیں روکا جا سکتا۔ جس نتیش ایپی سوڈ پر بغلیں بجائی جارہی ہیں اُن کی پارٹی کے عملاً منقسم ہو جانے کے بعد کی سیاسی سرگرمیوں کو بین السطور پڑھا جائے تو قومی سیاست میں آئندہ ڈیڑھ برسوں میں آنے والی تبدیلی کے پنہاں عمل کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔
Engin ummæli:
Skrifa ummæli